دندناتے ظالم

145

اگر پوچھا جائے کہ سڑکوں پر بادشاہت کس کی ہوتی ہے۔ تو بہت سے افراد سوچوں میں گم ہوجائیں گے۔ مگر جوں ہی سوال کو تھوڑا سا بدل دیا اور کہا جائے کہ کراچی کی سڑکوں پر بادشاہت کس کی ہے۔ تو جواباً آنکھیں، انگلیاں اور ذہن سب ہی کچھ آناً فاناً موٹر سائیکل سواروں کی جانب ہوجائیں گی۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ شہر قائد کی سڑک پر اگر آپ موٹر سائیکل سوار ہیں تو یقین کیجیے نہایت ہی خوش نصیب اور خوش قسمت انسان ہیں۔ کیوں کہ آپ اپنی ایسی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں کہ لوگ صرف آپ کو دیکھ کر جل ہی سکتے مگر آپ کا پیچھے کرنا کسی بڑے سے بڑے سرمایہ کار، سیاستدان یا کسی بھی افسر کے بس کی بات نہیں۔
کراچی کے موٹر سائیکل والوں کی ایک الگ ہی دنیا ہے۔ کون سی لائن کس کے لیے ہے…؟ ستر فی صد تو یہ جانتے ہی نہیں ہوں گے۔ انہیں معلوم ہے تو بس یہ کہ یہ روڈ ہمارا ہے اور ہم ہیں اس کے بادشاہ۔ پہلی لائن سے آخری لائن اور آخری سے پہلی لائن تک پہنچنے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق جتنا وقت ایک کار والے کو ہارن بجانے کے لیے چاہیے ہوتا ہے۔ اگر اس سے زائد وقت لگ جائے تو کافی جانی ومالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو عام طور پر بفضل خدا کم ہی نظر آتا ہے۔ اوہ! ہارن سے یاد آیا کہ اگر کسی کی موٹر سائیکل میں ہارن بجتا ہو (بجنے کا لفظ اس وجہ سے لکھا کیوں کہ ہوتا تو تقریباً سب ہی کے پاس مگر فقط بدنمائی کی حد تک ہی کام دیتا ہے) تو دو صورتیں ممکن ہیں۔ ایک تو یہ کہ موٹر سائیکل کو شو روم ابھی بھی یاد آتا ہے اور یہ جدائی نئی نئی ہے۔ یا دوسری صورت میں مالک نے موٹر سائیکل چلانے کے بجائے دکھانے کے لیے خریدی ہوگی۔ سب سے اہم بات یہ کہ جس طرح یہ ہارن بجنا نہیں جانتے اسی طرح سننے سے بھی معذور ہیں۔ کسی مشہور ڈرائیور کا قول سنا کہ میں گاڑی ایسے چلاتا ہوں کہ میں آنکھوں والا ہوں اور باقی سب اندھے۔ اس قول پر ہمارے بائیکر مکمل عمل کرتے ہیں مگر تھوڑا سا پلٹ کر۔ کہ میں اندھا ہوں اور باقی سب آنکھوں والے۔ ہمارے بائیکر عام طور اندھے ہونے پر فخر کرنے ساتھ ہی ساتھ بہرے ہونے پر بھی مغرور ہیں۔ چلیں آج ہی تجربہ کرلیں۔ اپنی گاڑی کے آگے موجود موٹر سائیکل سوار کو ذرا سا ہلانے کے لیے پوری شدت سے ہارن بجادیں۔ مجال ہے کہ کوئی حرکت ہو۔
ویسے ایک بات اور۔ کراچی کی وسعت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ ہر علاقہ کا بائیکر دوسروں سے جدا مہارت رکھتا ہے۔ اور اگر آپ کو اس فن میں ماہر ہونا ہو تو ہجرت کرکے اس علاقے کی صحبت اور ماہرین کے زیر تربیت آنا نہایت ضروری ہے۔ ورنہ تو آپ اناڑی کے اناڑی ہی رہیں گے۔ اور اسی طرح کراچی کے کئی روڈ ہیں ہر ایک پر چلانے کے لیے الگ تجربہ درکار ہے۔ یہ سب باتیں ایک طرف۔ بائیکر ہونا کوئی فن نہیں بلکہ ایک احساس کا نام ہے جس کو آپ صرف محسوس ہی کرسکتے ہیں۔ میں نے کئی ڈرائیوروں کو اونچی اونچی گالیوں کے گلدستہ موٹر سائیکل والوں کی نذر کرتے ہوئے دیکھ ہے مگر جوں ہی وہ بائیک پر براجمان ہوئے تو احساسات ہی بدل گئے۔ خیالات کی پرواز نے دوسرے آسمان ڈھونڈ لیے۔
تصویر کا ایک رخ جان لینے کے بعد یہ سوال تو ذہن میں کلبلا رہا ہوگا کہ پھر ان بادشاہوں کے ظلم میں پستی مخلوق کا کیا عالم ہوگا…؟ وہ ان سڑکوں پر اپنی سواری کیسے گزارتے ہوں گے؟ جی ہاں ان کے احوال بہت ہی دل سوز ہیں۔ بے چاروں کو اتنا ظلم سہنے کے بعد بھی صرف گھورنے اور بڑبڑانے کی اجازت ہے۔ کیوں گاڑی شیشوں کے پیچھے ان کی تصویریں ہی دھندلی ہو جاتی ہیں۔ جس سے ان کا گھورنا ان کے دل کی تسلی کا سامان ہی ہو سکتا ہے اور کچھ نہیں۔ اور بڑبڑانا اس لیے کہ چیخنے چلانے سے آواز بند شیشوں سے باہر جاہی نہیں سکتا اور اگر بالفرض شیشے کھول بھی لیں تو۔ چلیں چھوڑیں پہلے بتا چکا اب کیا بار بار ظلم کا ذکر کروں۔ یہ بیچارے اپنی منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے بائیکر سے دگنا وقت رکھ کر نکلتے مگر افسوس کہ بائیکر انہیں اس وقت تک بھی پہنچنے نہیں دیتے۔ سال کے تین سو پچاس دن یہ اسی ظلم کا شکار رہتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے۔ تاریخ ضرور بدلتی ہے اور ظالم کو اپنے ظلم کا حساب چکتا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ ان دنوں کا انتظار کتنا ہی طویل کیوں نہ ہوں مگر ایسی صبح ضرور ہوتی ہے جب۔ پچھلی شب بارش خوب برسی ہو اور سڑک پر کافی جل تھل ہو۔ اس روز مظلوم دندناتے پھرتے ہیں اور ظالم کناروں سے لگ جاتے ہیں۔ یہ دن انصاف کا دن ہوتا ہے۔ اگر کوئی ظالم ذرا بھی تیزی دکھائے تو نتیجہ میں اسے خاک چاٹنی پڑسکتی ہے بلکہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ اور ظالموں کا وہ حشر ہوتا ہے کہ اس کے اپنے بھی پہچاننے سے انکار کردیں۔ کیوں کہ مظلوم اس دن خوشی کے عالم میں اس قدر تیزی سے گزرتے ہیں۔ کہ اپنی انمٹ یادیں اور نہ چھوٹنے والے نشانات انہیں سپرد کرجاتے ہیں۔ جو انہیں کسمسا کر رکھ دیتی ہیں۔ دنیا مکافات عمل ہے آج گھورنا اور بڑبڑانا ان کے حصہ میں ہے۔ اور مسکراہٹیں مظلوموں کے چہروں پر۔ کیوں اگر یہ ذرا بھی تیز ہوئے تو یہ مسکراہٹیں قہقہوں میں بدلنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائیں گی۔ مگر افسوس یہ ہے کہ فتح کے دن قلیل ہی ہوتے ہیں پھر جلد ہی ظالم اپنی روش پر لوٹ آتا ہے اور مظلوم پھر ظلم کے دو پاٹوں کے درمیان پستا رہتا ہے ۔