حملے کون کروا رہا ہے

213

پاکستانی سیاست میں کیا ہو رہا ہے۔ میاں نواز شریف نے سیاست کی جس نرسری میں آنکھ کھولی اور جس کے بل پر پروان چڑھتے رہے اس کے سربراہ کے بارے میں قابل اعتراض باتیں کرنے لگے۔ پیپلز پارٹی جس نرسری کی پیداوار ہے جسے شیخ رشید فوجی گملا کہتے ہیں اس میں یہ ہمت ایک بار پھر کیسے آگئی کہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے والے بیانیے کی تکرار کرنے لگے۔ ہر سیٹ اپ میں اہم پوزیشن پر براجمان ہونے والے مولانا فضل الرحمن صاحب موجودہ سیٹ اپ کو اپ سیٹ کرنے والی ٹیم میں کلیدی منصب پر موجود ہیں۔ اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب لوگ اچانک جمہوری ہو گئے ہیں انہیں سیاست میں فوج کی مداخلت پسند نہیں۔ اداروں کو بار بار تنبیہ کرنے لگے کہ اپنی حدود میں رہیں۔ پاکستانی سیاست میں عمران خان نیازی کا دور حکومت ایسا ہے جس میں فوج سب سے زیادہ زیر بحث آئی ہے۔ اس حکومت کے آنے سے قبل جب آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا تھے اس وقت بھی فوج اور پی ٹی آئی زیر بحث تھے۔ پھر 2018ء کے انتخابات میں نتائج دینے کے نظام آر ٹی ایس اور فوج کو بے انتہا زیر بحث لایا گیا اور جنرل باجوہ کے عہدے کی میعاد میں توسیع پر تو جنرل، آرمی چیف اور فوج کے نظام کا خوب مذاق اڑایا گیا۔ عمران خان پہلے دن منع کر دیتے یا پہلے دن قانون کے مطابق سمری جاری کرکے توسیع دے دیتے۔ کئی ماہ تک پاک فوج کے سربراہ کے عہدے کی مدت میں توسیع کو مذاق بنا کر رکھا گیا پھر وزیراعظم عمران خان ایک ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ فوج ان کے ساتھ ہے اور فوج ان کے پیچھے ہے۔ اب عمران خان نیازی نے نیا شوشا چھوڑا ہے کہ نواز شریف نے جنرل باجوہ پر نہیں فوج پر حملہ کیا ہے۔ دم دبا کر بھاگنے والا عدلیہ اور فوج میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے برہمی میں بہت سی غیر متعلقہ باتیں بھی کہہ ڈالیں۔انہوں نے نہایت نچلی سطح پر اترتے ہوئے کہا کہ مریم اور بلاول حرام پر پلے ہیں۔ یہ ایسا جملہ ہے جو اپوزیشن کی تحریک کو مزید قوت فراہم کرنے والا ہے۔ یہ نہایت نا مناسب جملہ ہے یہ لوگ جس طرح مال کماتے رہے اور جس طرح اپنی اولادوں کو پالتے رہے اس سے ایک دنیا واقف ہے لیکن یہ فیصلہ دینا عدلیہ کا کام ہے وزیراعظم کوئی عام سیاسی رہنما اور اپوزیشن کے لیڈر نہیں ان کے انداز سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ خود کو اپوزیشن میں سمجھ رہے ہیں اسی لیے بار بار فوج کے سائے تلے پناہ لیتے ہیں اور فوج کو زیر بحث لاتے ہیں۔ انہوں نے فوج کو زیر بحث لاتے ہوئے کہا کہ کیا پاناما کیس جنرل باجوہ لائے۔ مجھے کسی کے آرمی چیف ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ فوج اور جنرل باجوہ ہر حالت میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیوں؟ کیا وہ آپ کے پابند ہیں؟ جب وہ بار بار فوج اور باجوہ کے ساتھ ہونے کی بات کریں گے تو اپوزیشن بھی کوئی نہ کوئی شوشا چھوڑے گی۔ عمران نیازی کا یہ بیان بھی قابل غور ہے کہ مجھے کسی کے آرمی چیف ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ یعنی اس کا کیا مطلب ہے کیا کسی اور کو آرمی چیف بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ نواز شریف صاحب نے یہ مطالبہ کیا ہے یا پی ڈی ایم نے۔ وزیراعظم نے اتنی بڑی بات کیسے کہہ دی۔ وزیراعظم جب غصے میں آتے ہیں تو پھر کسی بات کی پروا نہیں کرتے۔ غصے میں مریم اور بلاول کے بارے میں قابل اعتراض بات کر گئے۔ ایک طرف وہ کہہ رہے ہیں کہ بھاگنے والا عدلیہ اور فوج میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے اور ساتھ ہی عدلیہ کے خلاف بیان داغ دیا کہ عدالتوں نے نواز شریف کا ہمیشہ ساتھ دیا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر وزیراعظم فرما رہے ہیں کہ اب اپنے ماتحت اداروں کے ذریعے چور پکڑوائوں گا۔ انہوں نے یہ کہہ کر خود عدلیہ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔مزیدیہ کہ وہ اب اپنے ماتحت اداروں سے لوگوں کو پکڑوائیں گے یعنی انتقامی سیاست کا کھلم کھلا اعلان۔ ممکن ہے نواز شریف کو عدلیہ سے ریلیف ملتا رہا ہو یہ کہنا کہ عدالتوں نے نواز شریف کا ساتھ دیا عدلیہ پر براہ راست حملہ ہے۔یہ بات تو اب سب جاننے والے جان گئے ہیں کہ ایک جنگ چھڑ چکی ہے اور اس میں عدلیہ، فوج، حکومت، اپوزیشن سب الجھے ہوئے ہیں۔ کسی کو عدالت کی بڑھتی ہوئی طاقت پسند نہیں ہے تو کسی کو فوج کا ہر معاملہ اپنے ہاتھ میں لینا پسند نہیں۔ اور کسی کو سیاستدانوں کے ہاتھ میں طاقت دیکھنا پسند نہیں۔ لیکن فوج پر حملہ کیسے اور کب ہوا۔ اب تو میاں نواز شریف کی تقریر لوگ باربار سن رہے ہیں کہ انہوں نے کب جنرل باجوہ اور فوج پر حملہ کیا۔ اس تقریر کو دوبارہ بلکہ بار بار سننے کی ضرورت ہے۔ نواز شریف کی تقریر بیک وقت شکوہ بھی ہے جواب شکوہ بھی ہے، الزام بھی ہے اور مسائل کا حل بھی ہے اور اپنے ہی خلاف ایف آئی آر بھی ہے۔ انہوں نے انتخابی نظام کی جن خرابیوں کا ذکر کیا جن کے نتیجے میں عمران خان اقتدار میں آگئے لیکن ساتھ ہی وہ کہہ گئے کہ پاکستان میں لوگوں کو اسی طرح اقتدار میں لایا جاتا ہے۔ یعنی اپنے بارے میں بھی اعتراف کیا تھا۔ معاملہ یہ ہے کہ عمران خان بار بار فوج کا نام کیوں لے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف نے تو فوج اور جنرل باجوہ کا نام نہیں لیا تھا تو پھر عمران خان بار بار فوج اور جنرل باجوہ کو زیر بحث کیوں لا رہے ہیں۔جتنے لوگ ایک دوسرے پر فوج پر الزام لگانے کا الزام لگا رہے ہیں ان میں سے کسی میں ہمت نہیں کہ فوج پر الزام لگا سکیں یا حاضر سروس جرنیل پر تنقید کر سکیں۔ یہ کوئی اور کھیل ہے۔ ان سب کے پیچھے کوئی قوت ہے۔ وہ قوت بھارت ہے، امریکا ہے، ملک کے اندر ہے یا باہر ہے۔ لیکن کم ازکم یہ لوگ اتنے جری نہیں ہوسکتے۔ ابھی تو اپوزیشن جلسے جلسے کھیل رہی ہے ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ اس کے جلسوں کے نتیجے میں حکومت گر جائے گی۔ لیکن حالات جس رخ پر جا رہے ہیں اس کا مطلب تو یہی نظر آرہا ہے کہ عمران خان کی حکومت کا انجام قریب ہے۔ شیخ رشید صاحب اور اپوزیشن ایک دوسرے کے بارے میں تاریخیں دے رہے ہیں کہ ان کا صفایا فلاں تاریخ تک ہو جائے گا۔ یہاں تاریخ تو نہیں دی جاسکتی لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب اس طرح کے سارے سیاستدان اور پارٹیاں ایک زبان بولتی ہوئی میدان میں آجائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ڈوریں کہیں اور سے ہل رہی ہیں۔ اس سارے ہنگامے میں بعض پارٹیاں اور شامل باجوں کو کچھ ملے یا نہ ملے لیکن وہ بھی سڑکوں پر نظر آنے لگے ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ حکومت گرانے سے تو اب صرف پی ٹی آئی والے متفق نہیں ہیں باقی سب اس پر متفق ہیں، لیکن ایک سوال یہ ہے کہ اس حکومت کو گرانے کے بعد کس کو لایا جائے گا۔ اصل خرابی اس میں ہے۔ کسی کو نہ لایا جائے۔ بلکہ جو منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے آتا ہے اسے آنے دیا جائے۔ تمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں کام کریں۔ ایک دو انتخابات میں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اسی جانب امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے توجہ دلائی ہے کہ ہر تھوڑے عرصے کے بعد چہروں کی تبدیلی نے قوم کے 73 برس ضائع کر دیے۔ مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے۔ حکومت کا ہر قدم غلط سمت میں اٹھ رہا ہے۔ سود اور قرضوں سے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ شاید اس خطرے کو بھانپ کر انہوں نے یکم نومبر سے مہنگائی، بیروزگاری کے خلاف تحریک کا اعلان کیا ہے۔ اب چہروں کی تبدیلی کا کھیل بند ہونا چاہیے۔ اصل قیادت کو آنا چاہیے۔