ماہ ربیع الاول اور ہمارے فرائض

51

انسانوں پر اللہ کا احسان عظیم ہے کہ اس نے اپنے حبیب ﷺ کو دنیا میں مبعوث فرما کر ان کے وسیلے سے ہدایت کی آخری کتاب قرآن پاک کی صورت میں نازل فرمائی اور آپؐ کی زندگی کو انسان کے لیے مطلوب و مقصود علمی نمونہ بنا کر بھیجا۔
سال کے بارہ مہینے کسی نہ کسی اہمیت کے حامل ہیں لیکن ’’ماہ ربیع الاول‘‘ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس ماہ مبارک میں ہمارے پیارے نبی ﷺ اس خزاں رسیدہ دنیا میں جلوہ افروز ہوئے جس طرح موسم خزاں کے آجانے سے ہر طرف ویرانی نظر آتی ہے رنگ برنگے پھول پھل اور سر سبز پتے جھڑنے لگتے ہیں یہ دنیا نبیؐ کی آمد سے قبل بالکل خزاں کی مانند تھی ہر طرف کفروشرک اور جہالت کی بدلیاں چھائی ہوئی تھیں۔ اخلاق و محبت و نصرت سے دنیا بے بہرہ و نا آشنا تھی۔ آپؐ نے ’’خدائے ذوالجلال‘‘ کی توحید کو اجاگر کیا ہر طرف خزاں چھٹنے لگی نورانی ہوائیں چلنے لگیں غیر اللہ کی عبادت اللہ کی عبادت میں تبدیل ہونے لگی آپؐ کی اتباء ہی زندگی کا مقصد اور آخرت میں نجات ہے آج ہمارا معاشرہ پستی، بے دینی اور غلامی کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔ ہمارے نوجوان مغرب میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ مغرب ڈوبنے کی جگہ ہے پناہ مشرق میں ہی ہے برائی اور بے حیائی عام ہوگئی ہے حرام و حلال کی تمیز کھو بیٹھے ہیں گروہ بندی اور فرقہ واریت کا شکار ہورہے ہیں عورت آزاد ہے مرد نا فرمان ہے۔
بقول شاعر
’’ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبین
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے‘‘
ہمارے پاس قدرتی وسائل کثیر تعداد میں موجود ہیں اس کے باوجود ملک غربت اور جہالت میں ڈوبا ہوا ہے۔ وجہ یہ ہی ہے کہ برہنہ تقلید روشن خیالی ہے۔ اللہ اور نبیؐ کے احکامات کو بری طرح پامال کررہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا۔ : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
’’ جب یہ حالات ہوجائیں گے تو میری ذات کی قسم ان میں ایسا فتنہ بپا کردوں گا کہ جس میں صاحبان عقل و ہوش حیران اور ششد رہ جائیںگے (ابن ابی الدنیا)۔
’’سورۂ النور کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں‘‘
رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں۔ ان پر درد ناک عذاب نہ آجائے۔
ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے۔ آپؐ کی آمد کی ہر طرف خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ دینی شعور کے احساسات بیدار ہونے لگتے ہیں یہ حضورؐ کے اسوۂ حسنہ کو اجاگر کرنے کا وقت ہے ذہنوں پہ لگی دیمک کو کھرچ دیں محبت الٰہی اور محبت رسول ﷺ پیدا کریں۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ’’اے مسلمانوں تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی اچھے کاموں خو بتاتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو ’’ آل عمران‘‘
آج ہمارے حکمران امراء اور وزراء سرکاری خزانے کو اپنی ملکیت سمجھ کر اپنے اوپر بے دریغ پیسہ لٹاتے ہیں وہ دولت جو غریبوں کا حق ہے کاش وہ نبیؐ کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو سر شرم سے جھک جائیں۔
ایک مرتبہ حضرت عمر بن الخطابؓ حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپؐ بالائی منزل پر تھے حاضر ہوا تو نظر آیا کہ گھر میں سامان کی کیا کیفیت تھی جسم مبارک پر صرف ایک تہبند ،ایک چار پائی ،سرہانے چھال سے بھرا ہوا تکیہ ایک طرف مٹھی بھر جو رکھے ہیں کونے میں پائے مبارک کے پاس کسی جانور کی کھال پڑی ہے کچھ مشکیزے کی کھالیں سر کے پاس کھونٹی پر لٹک رہی ہیں یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ رونے لگے۔ حضورؐ نے رونے کا سبب پوچھا ۔ عرض کی یا رسول اللہؐ میں کیوں نہ روئوں چار پائی کے بان سے جسم اقدس پر بدھیاں پڑ گئی ہیں اسباب کی کوٹھری میں جو سامان ہے وہ نظر آرہا ہے۔ پیغمبر اور برگزیدہ ہوکر آپؐ کے سامان خانہ کی یہ کیفیت ہو اور قیصر و کسریٰ باغ و بہار کے مزے لوٹیں ارشاد ہوا: اے ابن خطاب تم کو یہ پسند نہیں کہ وہ دنیا لیں اور ہم آخرت (سیرت النبیؐ) حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں حضورؐ نے فرمایا: لوگوں اللہ پاک کا ارشاد ہے: بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور میں تمہاری دُعا قبول نہ کروں اور تم مجھ سے مانگو اور میں تمہیں نہ دوں اور تم مجھ سے مدد طلب کرو اور میں تمہاری مدد نہ کروں (ابن ماجہ)۔
سرکار دو عالمؐ نے تا قیامت اپنی اہل امت کے لیے دینی، دنیاوی اخروی سعادتوں سے مالا مال کیا آپؐ کی حکمت کی روشنی نے اہل ایمان کے قلب و ذہن اور قوائے عمل کو حرکت پذیر کرنے کا سامان عطا فرمایا ہے۔ اس وقت پاکستان میں اسلامی نظام درہم برہم ہوچکا ہے بلکہ پوری دنیا میں دین حق اپنی کامل صورت میں قائم نہیں ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ متحد ہوکر اس کو از سر نو قائم کرنے کے لیے ’’امر بالمعروف نہی عن المنکر‘‘ کی کوشش کریں اور معاشرے کو لادین بنانے اور پاکستان کے تشخص کو ختم کردینے کی کوشش کرنے والے عناصر کیخلاف متحد ہوکر جدوجہد کریں۔ کفر ازل سے امت مسلمہ کا دشمن ہے اس وقت باطل نے اسلام کیخلاف ایک ہمہ گیر جنگ شروع کررکھی ہے ہمیں آج امت میں صحیح فکر آخرت اور اصلاح معاشرہ کرنا ہے۔ معاشرہ کی تعمیر سیرت کرنا اور طاغوتی قوتوں سے بچانا ہے یہ سب جب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے نبیؐ کا اسوۂ حسنہ جو انسانیت کا آخری معیار ہے۔ آپؐ کی ذات پاک عبدیت اور رسالت کا منتہائے کمال ہے کو اجاگر کریں اور آپؐ کی سنت کو عام کریں۔
رسول خداؐ کے اصول تربیت کی روشنی میں نئی نسل کی اصلاح و تربیت کی ذمہ داری اٹھائیں۔
ہمارا گھر ہماری ذات پیارے نبیؐ کی بہترین تعلیمات کا نمونہ ہو۔ (اے اللہ! دشمنوں کے مقابلے میں ہم تجھے ہی اپنی ڈھال بناتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ چاہتے ہیں (دعا)۔