سنگ ‌بے قیمت تراشا اور جوہر کر دیا

59

عربی مقولہ ہے
ادب درخت ہے اور علم پھل ہے پھر بغیر درخت کے کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔
درخت اور پھل کا رشتہ جس قدر اہم ہے اسی قدر اہم استاد اور شاگرد کا رشتہ ہے۔ استاد کا درجے کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ خود نبی کریم ﷺنے اپنے مقام و مرتبہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا
” مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے ”
(ابن ماجہ۔229)۔
صحابہ کرام نے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے تعلیم حاصل کی ہر چیز کا علم دیا۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ کو زندگی کے ہر ہر گوشے کی رہنمائی فرماتے ۔ صحابہ کرام کا آپ ﷺ کی مجلس میں ادب کا یہ عالم ہوتا تھا کہ صحابہ کرامؓ چہرہ انورﷺ کی طرف سیدھا نہیں دیکھتے تھے۔ بیٹھنے کا انداز ایسا مؤدبانہ ہوتا تھا کہ پرندے آ کرصحابہ کے سروں پر بیٹھ جاتے تھے۔
معلم اور علم کی اہمیت کے لئے یہ حدیث مبارکہ بہت اہم ہے۔ سیدنا عبداللہؓ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ اپنے کسی حجرہ سے مسجد میں آئے،آپ ﷺ نے دیکھا کہ دو حلقے ہیں ایک قرآن کی تلاوت کر رہا ہے اور اذکار میں مشغول ہیں اور دوسرا حلقہ علم سیکھنے سکھانے میں مشغول ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’دونوں بھلائی پر ہیں‘ یہ قرآن پڑھ رہے ہیں اور اللہ سے مانگ رہے ہیں، اللہ چاہیں تو ان کو عطا فرمائیں اور چاہیں تو نہ دیں اور یہ علم دین سیکھ اور سکھا رہے ہیں اور مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘ چنانچہ آپ ﷺ حلقہ علم میں تشریف فرما ہوئے۔‘‘
(ابن ماجہ)
رسول اللہ ﷺ نے معلم کا رتبہ بلند کیا اور اسے انبیاء کرام کا وارث قرار دیا
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا
’ علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بہتر ہے اور تمہارے دین کا بہترین عمل پرہیزگاری ہے، جو شخص کسی راستے پر علم کی تلاش میں نکلتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی وجہ سے اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتا ہے، بے شک فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ، عالمِ دین کے لئے زمین وآسمان والے یہا ں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی استغفار کرتی ہیں ، عالم کو عابد پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی چاند کو دیگر ستاروں پرہے، علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰیانبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وارث ہیں ، انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام درہم ودینارکا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ توعلم کا وارث بناتے ہیں ، لہٰذا جس نے علم حاصل کیا اس نے پورا حصہ پا لیا۔ ‘‘
(ترمذی)
تعلیم و تعلم کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگا سکتے کہ آپﷺ نے فرمایا
جو آدمی گھر سے علم حاصل کرنے کے لیے نکلا تو وہ جب تک (گھر) واپس نہ آجائے اللہ کی راہ میں ہے۔‘‘
(ترمذی‘ دارمی)
جب اسیران بدر کا معاملہ پیش آیا تو ان میں جو پڑھے لکھے مگر نادار تھے ان کا فدیہ دس دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھانا طے پایا تھا۔
حضرت مغیرہؓ کہتے ہیں کہ
” ہم استاد سے اتنا ڈرتے اور ان کا اتنا ادب کرتے تھے جیسا کہ لوگ بادشاہ سے ڈرا کرتے ہیں ”
حضرت یحییٰ بن معین ؒ بہت بڑے محدث تھے امام بخاریؒ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ محدثین کا جتنا احترام وہ کرتے تھے اتنا احترام کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ابو یوسف ؒ کہتے ہیں کہ میں نے بزرگوں سے سنا ہے کہ جو استاد کی قدر نہیں کرتا وہ کامیاب نہی ہوتا ۔