فرانس میں توہین آمیز خاکے دکھانے والا گستاخ قتل،حملہ آورنوجوان شہید

332

پیرس(رپورٹ : مسعود ابدالی)فرانس میں توہین آمیزخاکے دکھانے پرنوجوان نے گستاخ کا سر قلم کردیا۔تفصیلات کے مطابق پیرس کے مضافاتی علاقے کے ایک مڈل اسکول میں تاریخ کے 47 سالہ استاد سموئل پیٹی نے اپنے شاگردوں کوآزادی اظہار رائے کا سبق دیتے ہوئے طلبہ کو توہین آمیزخاکے دکھائے۔ طلبہ کے مطابق سمیوئل نے خاکے دکھانے سے پہلے کہا کہ میں جو دکھانے جارہاہوں، وہ شاید مسلم طلبہ کو پسند نہ آئے لہٰذا وہ اگرچاہیں تو کلاس سے چلے جائیں۔متعدد طلبہ نے یہ بات اپنے والدین کو بتائی جنہوں نے ہیڈماسٹر سے اس واقعہ کی شکایت کی۔ والدین کا کہنا تھاکہ کلاس میںکم عمربچوںکے سامنے استاد کی جانب سے ان کے عقیدے کی توہین کسی بھی طور مناسب نہیں اور سوئیل پیٹی سے جواب طلبی ہونی چاہیے۔ ایک لڑکی کے والد نے تھانے جا کرپولیس کوبھی شکایت درج کروائی۔ طلبہ اور والدین نے سوشل میڈیا پر احتجاج کیا اور اس دوران سموئیل پیٹی اور اسکول انتظامیہ کو قتل کی دھمکیاں بھی موصول ہوئیں۔ اسکول انتظامیہ نے ان تمام اعتراضات کو یہ کہہ کر مسترد کردیاکہ اسکول کے اساتذہ سبق کی تیاری کے سلسلے میں بااختیار ہیں، خاکے دکھا کر سموئیل نے اسکول کے ضابطوں یا ملکی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی، مزیدیہ کہ مذہبی جذبات کے نام پر آزادی اظہار رائے کو محدود نہیں کیا جاسکتا۔گزشتہ روز مبینہ طور پر 18 سالہ شیشانی نوجوان عبداللہ انذروف اسکول کے باہر سموئیل کا انتظار کررہا تھا۔ دوپہرکو سموئیل جب اسکول سے نکل کر پیدل اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا تو عبداللہ نے اس پر چھرے سے وار کرکے گستاخ سموئیل کا سرقلم کردیا۔ کارروائی کے بعد فرارہونے کے بجائے عبداللہ نے مقتول کی تصویر بناکر اپنے ٹویٹرپر اس پیغام کے ساتھ لگادی کہ ‘میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے جہنم کے ایک کتے کوسزا دے دی ہے’ اسی دوران انسداد دہشت گردی عملہ وہاں پہنچ گیا جنہیں دیکھ کر عبداللہ نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے جواب میں پولیس کی فائرنگ سے عبداللہ موقع پر ہی شہیدہوگیا۔تحقیقات کے آغاز پر بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ جاری ہے اور پولیس ان والدین کے گھروں پر چھاپہ مار رہی ہے جنہوں نے سموئیل پیٹی کے خلاف اسکول انتظامیہ اور پولیس کو درخواست دی تھی۔ پولیس نے عبداللہ سے سہولت کاری کے الزام میں ایک طالب علم، اس کے بھائی اور دادا کو گرفتار کرلیا ہے۔فرانسیسی صدر کے اسلام کے خلاف غیر ذمے دارانہ رویے نے ایک بار پھرمسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔جائے وقوع کے دورے پر فرانسیسی صدرنے اسے اسلامی دہشت گردی قراردیتے ہوئے آزادی اظہار رائے کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔فرانسیسی صدر طاقت کے ذریعے مسلمانوں کو توہین رسالت برداشت کرنے پر مجبور کرہے ہیں حالانکہ سخت ترین قوانین کے باوجود توہین رسالت پر سخت ردعمل میں کوئی کمی میں نہیں آئی۔