پی ڈی ایم کا حکومت کو مہلت دینے سے انکار

97

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے وفاقی حکومت کو مہلت دینے سے انکار کردیا۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہمیں ڈرایا دھمکا یا جارہا ہے اورمجبور کیا جارہاہے کہ ہم اس دھاندلی زدہ حکومت کو تسلیم کرلیں لیکن ہم ڈرنے والے نہیں، اپنے موقف پر قائم رہیں گے،اس حکومت کو اب جانا ہوگا۔ اتوار کو پیپلزپارٹی کی میزبانی میں حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے دوسرا بڑا جلسہ کراچی کے باغ جناح میں منعقد کیاجس میں خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سندھ کے مختلف علاقوں سے پیپلز پارٹی، ن لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قافلے مقامی رہنماؤں کی قیادت میں کراچی پہنچے تھے۔سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر مہنگائی اور دیگر مطالبات درج تھے۔پی ڈی ایم کے سربراہ جے یوآئی کے قائد مولانا فضل الرحمن، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری، پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدرمریم نواز،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل،پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی،عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما امیر حیدرخان ہوتی، میاں افتخار،پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ،مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ علامہ ساجد میر،جے یو پی کے سربراہ شاہ اویس نوارنی،نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عمران خان تم کشمیر کے سوداگر ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر پر غداری کا مقدمہ درج کرنے سے بھارت خوش ہوا،کشمیری پاکستانی ہیں اور کشمیر پاکستان کا ہے، ہمیں یقین دلایا گیا کہ مودی آئے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل کرے گا، مودی آیا اور کشمیر کا سودا ہوگیا۔ فضل الرحمن نے کہا کہ سندھ کے جزائر پر وفاق کا قبضہ 18ویں آئینی ترامیم کی خلاف ورزی ہے اگر سندھ کے عوام نہیں چاہتے تو کسی کا باپ سندھ کو تقسیم نہیں کرسکتا، عمران خان تم صوبوںکو دیے گئے اختیارات چھین رہے ہو، موجودہ حکومت نے پاکستان کو تنہا کردیا ہے، سعودی عرب کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات خراب ہوگئے جبکہ چین بھی آج ہم پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور ہمارا ہمسایہ ایران بھی بھارت کے کیمپ میں بیٹھا ہواہے۔پی ڈی ایم سربراہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم ایسی کسی بھی آئینی ترمیم کو تسلیم نہیںکریںگے جس سے عوام کے حقوق سلب ہوں،پاکستان اسی صورت میں ترقی کرسکتا جب تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں،انہوںنے اس عزم کا اظہا ر کیا کہ جمہوریت کے اس سفر کو جاری رکھیں گے اور عوام کو موجودہ حکومت سے جلد چھٹکارا دلوائیں گے۔ بلاول اور مریم نے بھی اپنے خطاب میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔مریم نواز نے وزیراعظم کو جواب دیا کہ بڑوں کی لڑائی میں بچوں کا کوئی کام نہیں، نواز شریف نے اداروں کی نہیں کرداروں کی بات کی ہے، عمران خان کا کارنامہ سقوط کشمیر ہے، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بتائے گا کہ غدار کون ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ایک شخص چیخ چیخ کر اپنے ناکامی اور شکست کا ماتم کررہا تھا۔مریم نواز نے بلاول کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آؤ ہم وعدہ کریں کہ انتخابی میدان میں لڑیں گے لیکن آپس میں نہیں لڑیں گے۔اس موقع پر بلاول نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے آمر نہیں رہے تو یہ کٹھ پتلی حکومت کیا چیز ہے، اس نالائق اور نااہل وزیراعظم کو جانا ہوگا،اس وزیراعظم کی بنیاد ہی نہیں ہے،آج پوری قیادت ایک پیج پر ہے ان سلیکٹڈکو ہمارے پیج پر آنا پڑے گا۔چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ کشمیر کا سفیر بننے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن یہ کل بھوشن کا وکیل بن گئے، انہوں نے کشمیر کا سودا کرلیا ہے، مودی کی درندگی پر ہمارا مؤقف کمزور ہوگیا ہے اور دوست ممالک سے ہمارے تعلقات خطرے میں پڑگئے ہیں۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ آج غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ، ان کو شکایت کرنے کی اجازت بھی نہیں، آج ہماری بچیوں اور بہنوں کی عزت لوٹی جا رہی ہیں ، سلیکٹڈ وزیر اعظم کو مہنگائی کی خبر ٹی وی سے ملتی ہے ۔ بلاول کا یہ کہنا تھاکہ عمران خان نے کراچی کو صرف دھوکا دیا ہے، ایک ہزار ارب کے پیکیج کا سنا تھا اس میں سے ایک روپیہ نہیں ملا، منی پاکستان کے لیے کچھ نہیں دیا الٹا یہاں کے وسائل پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے آئی لینڈ آرڈیننس واپس لینے کے لیے وفاقی حکومت کو بدھ تک کا الٹی میٹم دے دیا۔