سانحہ کارساز کراچی، 13سال بیت گئے

108

کراچی: سانحہ کارساز کراچی کو 13 سال بیت گئے، دردناک واقعے میں پیپلزپارٹی کے200 کارکنان، ہمدرد اور رپورٹرز شہید ہوئے تھے جبکہ اس معاملے کی تحقیقات سرکاری کاغذات میں گم ہوکر رہ گئیں۔

خیال رہے کارساز کے مقام شاہراہ فیصل پر آج سے 13سال قبل وہ سانحہ ہوا جو آج تک بھلایا نہیں جاسکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 18 اکتوبر2007ء کو (شہید) محترمہ بے نظیر بھٹو 8سال کی خودساختہ جلاوطنی کاٹنے کے بعد واپس پاکستان پہنچیں تھی اور ان کی واپسی کو نئے پاکستان کے آغاز سے تعبیر کیا گیا، جیسے ہی وہ ایئرپورٹ سے روانہ ہوئیں تو ان کا قافلہ جلوس کی شکل اختیار کرگیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جب ان کا قافلہ کارساز پل کے قریب پہنچا تو ٹھیک رات 12 بج کر 52 منٹ پر50 سیکنڈ کے وقفے سے یکے بعد دیگرے 2 دھماکے ہوئے جبکہ ان دھماکوں میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں۔

تفصیلات کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو کے 20 سیکیورٹی اہلکاروں، میڈیا رپورٹرز سمیت 180 جانثار شہید اور 500 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

خبررسان اداروں کے مطابق حکومتی اداروں نے سانحے کارساز میں القاعدہ چیف فاہد محمد علی مسلم اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود کو ملوث قرار دیا تھا جو بعد میں ڈرون حملوں میں مارے گئے جبکہ خودکش بم باروں کو پناہ دینے اور حملے سے قبل انہیں سیکیورٹی اداروں سے چھپا کر رکھنے والا کنواری کالونی کا رہائشی وہاب محسود ملک سے فرار ہوگیا تھا۔

واضح رہے رپورٹ کے مطابق خود بے نظیر بھٹو نے اسامہ بن لادن کے بھائی حمزہ، بیت اللہ محسود، لال مسجد کے عسکریت پسندوں اور جنداللہ کو سانحہ کارساز میں ملوث قرار دیا تھا۔

دوسری جانب سانحے پر تھانہ بہادرآباد میں 2 مقدمات درج ہوئے تھے، ایک مقدمہ سرکار کی مدعیت اور دوسرا خود بے نظیر بھٹو کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا جبکہ سرکار کی مدعیت میں درج ہونے والا مقدمہ سی آئی ڈی منتقل ہونے کے بعد اے کلاس کرکے بند کردیا گیااور بے نظیر بھٹو کی مدعیت میں درج ہوے والے مقدمے کو سی کلاس کرکے نظر انداز کردیا گیا ہے۔