مہنگائی اور بیروزگاری عوام کو باغی بنارہی ہے، لیاقت بلوچ

21

لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی و سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو عوامی دبائو پر ناصرف اسمبلی بلکہ اقتدار سے بھی جانا ہوگا۔اقتصادی تباہی اور عالمی مالیاتی اداروں کی قومی معیشت پر بالادستی عمران خان کی نااہلی کی بدترین مثال ہے ۔مہنگائی اور بے روز گاری عوام کو ہر نظام اور اقدام کا باغی بنا رہی ہے ۔معاشی ترقی کی
شرح نمو صفر اعشاریہ 4 فیصد اور مہنگائی 11فیصد تک جا پہنچی ہے ۔سود کی لعنت اور بیرونی قرضوں میں اضافے کی وجہ سے قومی اقتصادی نظام جام ہوگیا ہے ۔ سیاسی محاذ پر گرمی کی شدت بڑھتی جارہی ہے ۔پی ٹی آئی میں حوصلہ اور برداشت نہیں۔جمہوری نظام اور آئین کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں ۔ اگر عمران خان حکومت نے مہنگائی ،بے رو زگاری ،بجلی اور گیس کے بلوں اور ٹیکسوں میںکمی نہ کی تو پھر ان کے پاس صرف ایک آپشن ہو گا کہ استعفا دے کر گھرجائیں اور عوام سے نئے مینڈیٹ کے لیے رجوع کیا جائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے نظام حکومت کی اصلاح نہ کی توپچھتانے کا بھی وقت نہیں ملے گا۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے اسلام آباد اور ملاکنڈ میں مختلف اجتماعات سے خطاب اور لاہور میں وفود سے ملاقاتوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔لیاقت بلوچ نے گلگت بلتستان کوآئینی ،قانونی حیثیت دینے کے حوالے سے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی ہر اکائی مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔گلگت بلتستان پاکستان کی سلامتی کے لیے اہم ترین مقام ہے ۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل کا حل اور ان کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے ۔عبوری ،عارضی نظام کے تحت عوام کو ہر سہولت اور انسانی حقوق دیے جائیں ۔سب کی ترجیح یہ ہو کہ مسئلہ کشمیر کو نقصان نہ پہنچے اور فاشسٹ مودی کے غیر آئینی ظالمانہ اقدامات کو سند جواز نہ مل سکے ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کے عوام بھی عالمی اسٹیبلشمنٹ کے دبائو پر عمران خان سرکار کے کسی اقدام کو قبول نہیں کریں گے ۔ جماعت اسلامی مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے کے عمل کی مخالفت کرتی ہے ۔مسئلہ کشمیر کا قومی ترجیحات میں اہم مقام بحال رکھنے کے لیے تمام قومی قیادت سے رابطہ کیا جائے گااور کشمیر پر رائے عامہ کو بیدار کریں گے ۔دریں اثنا لیاقت بلوچ نے لاہور میں سینئر ایڈووکیٹ ضیا الدین انصاری کی بیٹی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کے لیے مغفرت والدین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔