نیوزی لینڈ: انتخابات میں حکمراں جماعت نے پھر میدان مارلیا

60

ویلنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) نیوزی لینڈ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حکمراں جماعت لیبر پارٹی نے واضح کامیابی حاصل کرلی ہے، جس کے بعد وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی دوسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق انتخابات میں آرڈرن کا مقابلہ دائیں بازو کی قدامت پسند رہنما جوڈتھ کولنز سے تھا۔ انہوں نے اپنی جماعت کی فتح کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لیبر پارٹی نے 50 فیصد نشستیں حاصل کرلی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق جوڈتھ لونز کی جماعت نے 27 فیصد نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ دیگر جماعتوں نے مجموعی طو پر 8 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح ملکی تاریخ میں پہلی بار پارلیمان میں بائیں بازو کے اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ نیوزی لینڈ میں حکومت سازی کے لیے پارلیمان کی 61 نشستوں پر کامیابی ضروری ہوتی ہے، بصورت دیگر اکثریت نہ ملنے پر دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی جاتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج سے لگتا ہے کہ جیسنڈا آرڈرن دوسری بار بھی باآسانی وزیراعظم بن جائیں گی۔ آرڈرن نے اپنی جماعت کی کامیابی پر کہا ہے کہ لیبر پارٹی آیندہ 3 سال کے لیے حکومت بنائے گی۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی امیدوار نے نے شکست تسلیم کرنے کے بعد وزیر اعظم کو ٹیلی فون پر مبارک باد دی ہے۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں 2 مساجد پر دہشت گردانہ حملوں کے بعد مثبت ردعمل اور کورونا کے خلاف حکومتی اقدامات کی کامیابی کے باعث جیسنڈرا آرڈرن کو عالمی شہرت حاصل ہوئی تھی۔