نوجوانوں پر میڈیا کے اثرات… اور ان کا تدارک

158

اس وقت پاکستان سمیت پورے عالم اسلام پر میڈیا یعنی ابلاغ کی یلغار ہے۔ یوں تو اس کا نشانہ ہر ایک ہے۔ لیکن نوجوان خاص طور پر اس کا شکار ہیں۔ آج میڈیا کی طاقت سر چڑھ کر بول رہی ہے۔ کبھی ایسا تھا کہ ذرائع ابلاغ زندگی کا حصہ ہوتے تھے لیکن آج یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی ذرائع ابلاغ کا حصہ بن کر رہ گئی ہے۔ آئیے میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کی اس قوت اور اُس کے اثرات کا جائزہ لیں تا کہ یہ سمجھا جاسکے کہ کن کن زاویوں سے یہ معاشرے پر اثر انداز ہورہے ہیں اور خاص طور سے کس طرح ہمارے مستقبل یعنی نئی نسل کو متاثر کررہے ہیں۔ اس جائزے سے ہم اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے کوئی لائحہ عمل بناسکیں گے اور ابلاغ کی قوت کو مثبت استعمال کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا ابلاغ کے دو الگ الگ ذرائع ہیں۔ خاص طور سے پرنٹ میڈیا اپنی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھتے ہیں۔ برصغیر ہند و پاک میں قلمی اخبار نویسی کا آغاز مغلیہ دور میں ہوا۔ اس دور کے اخبار نویسوں میں عظیم اعظم الامرا اور مرزا علی بیگ بہت مشہور تھے۔ برصغیر کے آخری مسلمان مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں اردو کے 35 اخبار شائع ہوتے تھے۔ ان میں دو کے سوا تمام مدیر مسلمان ہوا کرتے تھے۔ جنگ آزدای کے بعد 1857ء میں اردو اخبارات کی تعداد گھٹ کر بارہ رہ گئی۔ شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں پہلا اردو کا اخبار 1835ء میں دہلی سے جاری ہوا جس کے مدیر اور مالک ’’محمد باقر‘‘ تھے، جو اردو کے مشہور اور معروف ادیب محمد حسین آزاد کے والد تھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں مولوی باقر نے اپنے روزنامہ ’’اردو اخبار‘‘ کے ذریعے آزادی کے جہاد میں بھرپور حصہ لیا۔ انہوں نے اس اخبار میں مولانا فضل حق خیر آبادی کا فتویٰ شائع کیا جس پر بہت سے دوسرے علما کے بھی دستخط تھے۔ اس فتوے میں انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کو جہاد قرار دیا گیا تھا۔ اس اخبار میں مجاہدین کے کارنامے اور شہر شہر کی خبریں شائع ہوتی تھیں۔ مسلمان اس کو ہاتھوں ہاتھ خرید کر پڑھتے تھے۔ اس کا آخری پرچہ 13 ستمبر 1857ء میں شائع ہوا۔ 20 ستمبر 1857ء کو انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کرلیا۔ پھر مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا گیا اور پھانسی پر لٹکایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اُس وقت دہلی کا کوئی درخت ایسا نہیں تھا جس پر کسی نہ کسی مسلمان کی لاش نہ لٹک رہی ہو۔ مولانا باقر کو بھی گرفتار کیا گیا اور پھانسی دے دی گئی۔ اس وقت یہ افواہ عام تھی کہ جس کے گھر سے ’’اردو اخبار‘‘ کا کوئی پرچہ برآمد ہوا اُس کو پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ چناں چہ لوگوں نے خوف کے مارے اس اخبار کے تمام پرچے جلا ڈالے۔ مولوی محمد باقر برصغیر ہند و پاک کے اردو زبان کے پہلے روزنامے کے وہ بے باک صحافی تھے جنہوں نے حق و صداقت کی راہ میں جان قربان کردی۔ اُن کے بعد سے آج تک سیکڑوں اخبارات اور رسائل نکالے گئے لیکن تاریخی طور پر جو اہمیت مولانا محمد علی جوہرؔ کے دو رسالوں ’’کامریڈ‘‘ اور ’’ہمدرد‘‘ کو حاصل ہوئی اُس کی مثال نہیں ملتی۔ کامریڈ انگریزی اور ہمدرد اردو کا اخبار تھا، دونوں زبانوں میں مولانا محمد علی جوہرؔ کی تحریر ایسی ہوتی تھی کہ دشمن بھی داد دینے پر مجبور تھے۔ یہ بات مشہور تھی کہ انگریز حاکم بھی اس اخبار کو ضرور پڑھتے ہیں بلکہ اس کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔ مولانا محمد علی جوہرؔ نے صحافت کی دُنیا کو ایک نیا لہجہ بخشا اور مسلم صحافت کو غلامی کے دور میں بھی بلند وقار عطا کیا۔ آزادی کے بعد صحافت نے ترقی کی۔ خاص طور سے 1960ء سے 1986ء تک کی دہائی میں ترقی کا تناسب مثالی تھا۔ نظریاتی صحافت پرنٹ میڈیا پر غالب تھی۔ لیکن اب وہ کیفیت نہیں ہے۔ ہر طرف اب کمرشل ازم کی یلغار ہے۔ ساتھ الیکٹرونک میڈیا کا طوفان ہے۔ اخبارات اور چینلوں کے مالکان نے پیسے کو اپنا دین و ایمان بنالیا ہے۔ لالچ کا یہ طوفان سیاست پر تو اثر انداز ہو ہی رہا ہے لیکن اُس کے ساتھ عام لوگوں اور معاشرے میں بہت بڑی بڑی تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے۔
پاکستان میں لبرلز نام کا ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو دین اسلام کی مخالفت کرنا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے۔ میڈیا پر اس طبقے کا بڑی حد تک کنٹرول ہے۔ ایک طرف انہیں خبروں کے سلسلے میں آزادی حاصل ہے جو چاہیں دکھائیں اور جتنی بار چاہیں دکھائیں، چاہے بعد میں وہ ڈھول کا پول ہی نکلے۔ دوسری طرف ڈراموں، اشتہارات اور ایوارڈ شوز کے ذریعے اس بات کی کھلی اجازت ہے کہ بے حیائی کا پرچار کریں اور اخلاقیات کا جنازہ نکالیں۔ اس سلسلے کا توڑ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اسلامی اقدار، آئین پاکستان اور پیمرا قوانین کے خلاف مواد دکھانے پر سخت اقدامات کرے، قوانین اور سزائیں موجود ہیں بات عمل درآمد کی ہے۔
آج ابلاغ کا ایک اہم ذریعہ انٹرنیٹ ہے۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق پندرہ سے بیس ملین لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ موبائل کے ذریعے اب اس کا استعمال اور زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ ہمارے معاشرتی رویے اور اقدار کو بہت تیزی سے تبدیل کررہی ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹوں کے ذریعے لوگوں کی ذاتی زندگی کی معلومات لاکھوں دوسرے لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ یہ اشتہاری اور کاروباری کمپنیاں بھی ہوسکتی ہیں اور کوئی تیسری پارٹی بھی…!!
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر لوگوں کے ساتھ رابطے صحت کے لیے مضر ہیں۔ انٹرنیٹ کی دوستیاں تنہائی بڑھاتی ہیں۔ اگرچہ آج کل انٹرنیٹ پر دوستی کرنے والی ویب سائٹس میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، خاص طور سے نوجوان یہ ویب سائٹ بہت پسند کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ’’ایرک سگمین‘‘ کہتے ہیں کہ الیکٹرونک میڈیا کی وجہ سے 1987ء سے ذاتی ملاقات کی تعداد گرتی جارہی ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیق میں یہ بھی بتایا ہے کہ ذاتی ملاقات انسانی جسم پر مثبت اثر ڈالتی ہے جو ای میلز پڑھنے سے نہیں ہوتی ہے۔
سوشل نیٹ ورکنگ لوگوں خاص طور سے نوجوان میں ایک غلط طرح کے رابطے یا رشتے کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اجنبیوں سے دوستی نئے گل کھلاتی ہے۔ جو خاندانوں میں آفت بن کر ٹوٹ رہی ہے۔ طلاق کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ خاندان کی اکائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ مصر میں اسی رجحان کو بنیاد بنا کر چند علما نے ان ویب سائٹ کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ انٹرنیٹ، کمپیوٹر، موبائل اور الیکٹرونک میڈیا کے ساتھ حد سے زیادہ وقت گزارنے کے سبب ہمارے معاشرتی رویے تبدیل ہورہے ہیں۔ اس تبدیلی کی ایک قیمت وہ ہے جو اُن کو استعمال کرنے والے ادا کررہے ہیں اور کریں گے۔ اور ایک قیمت وہ ہے جو اُن کی آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔ ٹھیک ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کا استعمال آج کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا استعمال ایک حد تک رکھا جائے۔
یعنی صرف وہاں تک جہاں تک مفید ہے۔ غیر صحت مند اور نقصان دہ سرگرمیوں کو مانیٹر کرنا حکومت کا کام ہے۔ چین اور دیگر ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں اس حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں۔ ساتھ ہی ویب سائٹ کو فلٹر بھی کیا جاتا ہے۔ یہ قوانین تمام کمرشل ویب سائٹس بلکہ سائنسی ویب سائٹ تک سے یہ کہتا ہے کہ وہ کم عمر نوجوانوں اور بچوں سے ایسی تمام اشیا اور معلومات کو دور رکھیں جو ان کے لیے کسی بھی لحاظ سے نقصان دہ ہوں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ والدین سمیت معاشرے کے ہر فرد کو اس کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تا ک اقدار، تہذیب اور اخلاقیات کی حفاظت ہوسکے۔ معاشرے میں شعور بیدار کرنا ہوگا۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر جدوجہد کرنی ہوگی۔ اس کے لیے عالمی سطح پر تمام اسلامی ممالک، تنظیموں اور اداروں کو ’’تھنک ٹینک‘‘ بنانے چاہئیں۔ یہ تھنک ٹینک پورے وژن سے موثر حکمت عملی ترتیب دیں۔ میڈیا کانفرنسیں مستقل بنیادوں پر منعقد کی جائیں تا کہ وقت کے چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے۔
جدید ٹیکنالوجی کو دنیا میں اسلام کی حقیقی تصویر اُجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، تیاری کے ساتھ اسلامی پروڈکشن ہائوسز بنانے چاہئیں۔ اس کی ایک بہترین مثال Peace Tv کی شکل میں موجود بھی ہے۔ اس کے تجربے سے استفادہ کرکے پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں اسلامک الیکٹرونک میڈیا کا ایک سلسلہ شروع کیا جائے جو معاشرے کی اخلاقی، تہذیبی بنیادوں پر تربیت کرنے، اسلامک میڈیا انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے پروڈیوسرز، اسکرپٹ رائٹرز، کیمرہ مین اور اینکر پرسنز کو تربیت دی جائے تا کہ اسلامی حدود و قیود کے اندر بہترین اینکر پرسنز، پروڈیوسر، اسکرپٹ رائٹر، کیمرہ مین، ٹیکنیشن کی ایک کھیپ تیار کی جاسکے جو مکمل اسلامی شعور اور ادراک کے ساتھ ابلاغ کی دنیا میں اسلامی انقلاب کی بنیاد رکھ سکے۔