حقوق کراچی تحریک،عوامی ریفرنڈم کامیابی کی طرف گامزن

164

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی ریفرنڈم عوام کی زبردست شرکت کے باعث چند دن کا اضافہ کیا جاسکتا ہے،

کراچی بار کے وکلاء سے ملاقات ومیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئےحافظ نعیم الرحمن نےکہا کہ کراچی ریفرنڈم میں وکلا کی شرکت قابل ستائش ہے اور کراچی میں از سر نو مردم شماری کرائی جائے،

حافظ نعیم الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کی تعمیر و ترقی میں ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی ہے،ریفرنڈم کے مطالبات عوام کے ترجمان اور مسائل کے حل کی ضمانت ہیں- وکلا کی جانب سے ریفرنڈم میں ووٹ کاسٹ کرناقابل ستائش ہے

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی سے پیسے لینے کیلئے تو اپنا حق جتاتی ہے، لیکن کراچی کی تعمیر و ترقی پر خرچ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، ن لیگ کے دور میں ہونے والی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ظاہر کی گئی اور شہریوں سے ان کا جائز حق چھینا گیا، لیکن پی ٹی آئی نے بھی اقتدار میں آنے کے بعد دوبارہ مردم شماری نہیں کرائی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں کراچی کو اس کے حق سے محروم رکھنا چاہتی ہے،

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل کراچی میں ہنگامی بنیادوں پر از سر نو مردم شماری کی جائے، حکومت، اداروں اور اختیارات کی بندر بانٹ کی وجہ سے شہریوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے، کراچی میں بااختیار شہری حکومت ہی تمام مسائل کا حل ہے، کوٹہ سسٹم ختم کرکے کراچی کے شہریوں کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں دی جائیں

انہوں نے مزید کہا کہ حقوق کراچی ریفرنڈم میں حکمران دیکھ لیں گے کہ کراچی جاگ چکا ہے،رائے دہی کے عمل میں جوان، بوڑھے، خواتین، وکلاء،صحافی، علماء، اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر، طلبا وطالبات، مزدور، سول سوسائٹی اور ہر طبقہ فکر سے وابستہ افراد حصہ لے رہے ہیں،

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک میں تمام بڑی جماعتوں کی پشت پناہی سے اجارہ دار ادارہ بن گیا ہے،لیکن جماعت اسلامی کراچی کے مجبور و مظلوم عوام کے ساتھ ہے، وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو بھاگنے کا موقع فراہم کررہی ہے جبکہ کے الیکٹرک کو کسی صورت فرار ہونے نہیں دیا جائے گا، کے الیکٹرک کے سابق سی ای او تابش گوہر وزیر اعظم کے مشیر برائے توانائی بنانے کا مقصد کے الیکٹرک کے لئے راہ ہموار کرنا ہے، کے الیکٹرک کے مالکان سے تمام بقایاجات لیے جائیں، الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرکے اسے قومی تحویل میں لیا جائے، فارنزک آڈٹ کیا جائے اور ٹیکنیکل افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے۔

”حقوق کراچی تحریک“ اور”کراچی ریفرنڈم“ کے سلسلے میں سٹی کورٹ میں وکلا سے ملاقات میں سابق صدر کراچی بار نعیم قریشی ایڈووکیٹ،صلاح الدین ایڈووکیٹ،عبدالصمد خٹک ایڈووکیٹ،شعاع البنی ایڈووکیٹ،شاہد علی خان ایڈووکیٹ،عثمان فاروق ایڈوکیٹ، وول فورم کی طلعت یاسمین،نائب امراء جماعت اسلامی کراچی راجہ عارف سلطان،مسلم پرویز، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری سمیت دیگر عہدیداران موجود تھے۔