ریمڈیسیور دوا کا مریضوں پر بالکل یا پھر تھوڑا اثر ہوتا ہے، ڈبلیو ایچ او

72

جنیوا: اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیور کا کورونا وائرس کے مریضوں پر یا تو بالکل ہی اثر نہیں ہوتا یا پھر بہت تھوڑا ہوتا ہے۔

 رپورٹس کے مطابق عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیور کا کووڈ۔19 کے مریضوں پر یا تو بالکل ہی اثر نہیں ہوتا یا پھر بہت تھوڑا ہوتا ہے۔

واضح رہے عالمی ادارۂ صحت کے ٹرائل میں کووڈ۔19 کے علاج کے لیے 4 ممکنہ ادویات پر تحقیق کی گئی تھی جن میں ریمڈیسیور اور ہائیڈروکسی کلوروکوئن بھی شامل تھیں۔

تفصیلات کے مطابق ریمڈیسیور کورونا وائرس کے خلاف استعمال کی جانے والی پہلی ادویات میں سے ایک تھی اور حال ہی میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہسپتال میں داخل تھے تو انہیں بھی یہ دوا دی گئی تھی جبکہ اسے بنانے والی کمپنی گیلیئڈ نے ٹرائل کے نتائج کو رد کر دیا ہے۔

خبررسان ادارے کے مطابق اپنے ایک بیان میں گیلیئڈ کا کہناتھا کہ تحقیق کے نتائج دوسروں کے ساتھ ’مطابقت‘ نہیں رکھتے اور اسے اس بات پر تشویش ہے کیونکہ نتائج کا ابھی دوبارہ جائزہ لیا جانا ہے۔

دوسری جانب  عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر بروس ایلوارڈ نے اپنے چین کے دورے کے بعد کہا تھا کہ ’ریمڈیسیور‘ وہ واحد دوا ہے جو وائرس کے خلاف کچھ مؤثر ثابت ہوئی ہے اب تک اور  یہ اینٹی وائرل دوا اصل میں ایبولا کے علاج کے لیے بنائی گئی تھی لیکن چند دوسری بیماریوں کے لیے اس دوا کا استعمال زیادہ مفید رہا ہے۔

ڈاکٹر بروس کا کہنا تھاکہ یہ کورونا وائرس کے علاج میں بھی مؤثر ثابت ہوئی ہے جیسے مرس (مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم) اور سارس (سویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم) جبکہ یہی وجہ ہے کہ یہ امید پیدا ہو گئی تھی کے یہ کورونا وائرس کے خلاف بھی مدد کر سکتی ہے۔