حکیم سعید شہید تعلیم اور تعمیر پر دولت خرچ کرنے والے

875

مسعود برکاتی

عمر میں بہت فرق ہونے کے باوجود مجھے یہ گمان نہ تھا کہ حکیم صاحب مجھ سے پہلے چلے جائیں گے۔
ایک بار ایک صاحب نے حکیم صاحب کو درازیِ عمر کی دعادی تو ہنس کر کہنے لگے:’’ چلیے اب ۹۰ سال تک کی تو مجھے مہلت مل گئی!‘‘ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ حکیم صاحب کا شوقِ خدمت بھی بڑھ رہا تھا۔اعضا میں انحطاط تو فطری بات ہے،لیکن ان کی قوتِ کار نہیں گھٹی تھی، بلکہ بڑھ رہی تھی۔ رفتارِکارمیں بھی اضافہ ہورہاتھا۔ پڑھنے کی رفتار ہمیشہ سے تیز تھی۔ دفتر کے کاغذات، رپورٹیں اور خطوط بہت کم وقت میں پڑھ لیتے تھے۔
پورے ملک کے اخبارات ان کے پاس آتے تھے۔ ان سب پر بلاناغہ نظر ڈالتے تھے اور اپنی دلچسپی کی چیزوںپر ان کی نگاہیں ٹھیرجاتی تھیں۔ سیاسی اور عام خبروں کے علاوہ اقتصادی امور، انتظامی تبدیلیوں کی اطلاعات، شخصیات سے متعلق خبریں، ثقافتی اور ادبی خبریں بھی پڑھتے تھے۔ سائنسی اور طبّی رپورٹیں ان کی نظرمیں آجاتی تھیں۔ اخبارات میں ہمدرد کے مختلف شعبوں کی دلچسپی کی اطلاعات پر سرخ قلم سے نشان لگاکر متعلقہ شعبے کا نام لکھ دیتے تھے۔ پھر تمام اخبارات لائبریری(بیت الحکمت) بھیج دیتے، جہاں سے ان کے تراشے متعلقہ ڈائرکٹرصاحبان کو پہنچ جاتے تھے۔
رسائل پر بھی نظر ڈالتے تھے اور خاص خاص مضامین پڑھ لیتے تھے۔اکثر مدیروں یا ادیبوں کو خط بھی لکھ دیتے تھے۔ خط لکھنے کے تو بادشاہ تھے۔ کسی خط کا جواب نہ دیں، یہ ممکن نہ تھا۔ زیادہ تر جوابات خود ڈرافٹ کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ کبھی اسٹینوگرافر نہیں رکھا۔ لکھتے بھی بہت تیز تھے۔ آخر کے چندبرسوں میں اور زیادہ تیز لکھنے لگے تھے، کیوں کہ کام بہت بڑھ گیاتھا۔
ان کا خط ہر آدمی نہیں پڑھ سکتاتھا۔ کبھی کبھی کوئی لفظ ٹائپسٹوں کی سمجھ میں نہیں آتاتھا تو وہ میرے پاس یا کسی پرانے آدمی کے پاس پڑھوانے کے لیے آتے۔
حکیم صاحب کی ڈاک بھی بہت ہوتی تھی۔ ہر خط پڑھتے، خود جواب لکھتے یا کسی شعبے سے متعلق بات ہوتی تو جواب میں اشارہ لکھ کر اس شعبے کے سربراہ کوبھیج دیتے۔ جب بیرونِ ملک ذرا طویل سفر پر ہوتے تو ہم لوگ خطوط پر ضروری کارروائی کرتے۔ جس کا جواب ہم خود نہ دے سکتے، ا س کی رسید بھیج کر حکیم صاحب کے لیے فائل میں جمع کردیتے۔ کسی سفر پر روانگی کے دن جو خط آتے توانتہائی کوشش کرتے کہ چلتے چلتے ان کا جواب لکھ دیں۔
حکیم صاحب مجھے جو خطوط مارک کرتے، میں اپنے اختیارِتمیزی سے ان کے جواب لکھتا۔ جن خطوط کے بارے میں مشورہ کرنا ہوتا، وہ حکیم صاحب کے پاس لے جاتا۔ خطوط کی تعداد کتنی ہی ہوتی، ان کے مندرجات حکیم صاحب کو یاد رہتے۔خط سامنے رکھتے ہی وہ اس کے بارے میں بات کرنے لگتے۔بعض اوقات ایک ایک ہفتے بعد ملاقات ہوتی، لیکن حکیم صاحب کے ذہن میں وہ خطوط تازہ رہتے۔ یہ ان کے حافظے کاکمال تھا۔
حکیم صاحب غیرمعمولی حافظے کے مالک تھے۔ ایسا حافظہ ایک نعمت ہوتا ہے۔حافظے کا رازیکسوئی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ انسان جو کام کررہاہو، جو کتاب پڑھ رہا ہو،جس سے بات کررہاہو ، اس پر اگر پوری توجہ ہوتو وہ بات ذہن میں نقش ہوجاتی ہے۔حکیم صاحب جو کام کرتے تھے، یکسوئی سے کرتے تھے۔اس وقت اس کام کے علاوہ کوئی دوسرا خیال ان کے ذہن میں نہیںآسکتاتھا۔ اس کی انھوں نے مشق بہم پہنچائی تھی۔ارتکازِ توجہ کی صلاحیت سے نہ صرف حافظہ بہتر ہوتاہے، بلکہ ذہانت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔حکیم صاحب غیرمعمولی ذہین بھی تھے۔ بات کو بہت جلدی سمجھ لیتے۔ ملاقاتیوں کی تمہیدی باتوں سے ہی ان کا اصل مدّعا بھانپ لیتے۔
حسنِ کلام ان کا شعارتھا۔ حسب موقع مذاق بھی کرتے تھے۔مریضوں سے خاص طورپر پُرمزاح گفتگو کرتے تھے۔ مریض کی فکر دُور کردیتے تھے۔ آدھا مرض تو حکیم صاحب کی باتوں ہی سے ختم ہوجاتاتھا۔ کسی مریض سے کہتے کہ آپ کے چاربچے ہیں نا؟ اگر اتفاق سے یہ بات صحیح نکلتی تو مریض حیران ہوجاتا اور اس کا اعتقاد ا ور بڑھ جاتا۔
ایک بار مجھے ہاضمے کی تکلیف تھی۔میںمطب گیا، پرچی بھیجی، فوراً بلالیا۔ تکلیف بتائی توفرمانے لگے:’’کباب کیوں کھائے تھے؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔ واقعی میںنے رات کو کباب کھائے تھے۔
مریضوں کوجتنی اہمیت حکیم صاحب دیتے تھے، بہت کم ہی معالج دیتے ہوں گے۔ مریض ان سے حال کہہ کر پوری طرح مطمئن ہوجاتا اور صحت یابی کی پوری امید لے کر واپس آتا تھا۔ مطب کی پابندی بھی مثالی تھی۔ آندھی جائے مینہ جائے، حکیم محمدسعید کا مطب نہ جائے۔
کئی بار ایسا ہوا کہ خود بخار میں پھک رہے ہیں، لیکن مطب پہنچ گئے اور حسبِ عادت خوش دلی اور خوش مزاجی سے مریضوں کو دیکھا۔ جب تک تمام مریضوںکو دیکھ نہ لیا، مطب میں بیٹھے رہے۔ مریضوں کی کثرت ہوتی تھی۔ بہت سے مریض تو علی الصباح ہی آکر نمبر لگالیتے تھے۔ بعض مریض رات ہی کو آکر ڈیرا جمالیتے تھے۔ دوسرے شہروں اور قصبوں سے بھی مریض آتے تھے۔
ایک بار لاہور میں مطب کے مقررہ دن سے پہلے ہی مریضوں کی بڑی تعدادجمع ہوگئی۔ منیجرصاحب نے حکیم صاحب کوبتایا تو انھوںنے فرمایا:’’کوئی بات نہیں، دوبجے رات سے مطب شروع کروں گا۔ آپ ا س لحاظ سے نمبر دیں‘‘ اور واقعی حکیم صاحب چند گھنٹے سوکر دوبجے رات سے مطب میں آبیٹھے اور عصر تک تمام مریضوں کو نمٹاکر اٹھے۔فرماتے تھے کہ مریضوں کی تکلیف دُور کرکے دل کو جو سکون ملتا ہے، وہ شاید کسی اورکام سے نہیں مل سکتا۔ جب وزیر رہے اور جب گورنرہوئے، تب بھی مطب نہیں چھوڑا۔ معمول کے مطابق کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاورمیںمطب کرتے رہے۔
مریضوں کی عیادت بھی کرتے تھے۔ ۱۹۹۳ء میں سندھ کے گورنرتھے۔ مجھے دل کا دورہ پڑا۔ میں اسپتال میںداخل تھا۔ دیکھنے آئے۔ گورنرصاحب کی آمد کا سن کر پولیس کے علاوہ اسپتال کی انتظامیہ بھی چوکس ہوگئی۔ حکیم صاحب گورنری کے زمانے میں بھی اپنے گھر پر ہی رہتے تھے۔ دفتری اوقات میں گورنرہائوس چلے جاتے تھے۔
مجھے دیکھنے کے لیے اپنے گھر ہی سے اپنی ذاتی گاڑی میںآئے۔ اسپتال کے گیٹ پر چوکیدار کو بھی بتادیا گیاتھا۔ اس نے دوسری گاڑیوں کا داخلہ روک دیاتھا۔ جب حکیم صاحب کی گاڑی پہنچی تو ا س نے ان کو عام آدمی سمجھ کر روک دیا۔ ڈرائیور نے گاڑی روکی اور اترکر چوکیدار سے کہا کہ بے وقوف یہی تو گورنر صاحب ہیں۔ اس نے سلوٹ مارا، معافی مانگی۔ حکیم صاحب کمرے میں میرے پاس پہنچ کر کہنے لگے:’’ پارٹنر! چھٹی لینی تھی تو مجھ سے کہہ دیتے، ویسے ہی چھٹی دے دیتا، اس ڈرامے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ اسی طرح پُرمزاح اور تسلی کی باتیں کرتے رہے۔ ماہرقلب ڈاکٹر سید اسلم صاحب سے مرض کی کیفیت پوچھی اور جب ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اب خطرے سے باہر ہیں تو حکیم صاحب کو اطمینان ہوا۔
تقریبات میں، خصوصاً شادیوںمیں وقت کا جو بے تحاشاضیاع ہوتا ہے، حکیم صاحب اس سے بہت ناخوش تھے۔پھر کھانوںمیں جو اسراف ہوتا ہے، اس سے بھی حکیم صاحب کو بہت تکلیف ہوتی تھی۔ وقت اور پیسے دونوںکا نقصان ان کو بہت پریشان کرتاتھا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ وقت اور دولت اگر تعلیم وتعمیر میں صَرف ہوتو قوم کی قسمت بدل جائے۔
بڑے بڑے مکانات اور محلات کے بھی حکیم صاحب قائل نہیں تھے۔وہ کہتے تھے کہ جس کو اللہ نے دیا ہے،اس کو آرام سے رہنے کا حق ہے،لیکن اپنی ضروریات سے زیادہ دولت اجتماعی مفاد میں صَرف کرنی چاہیے۔ محلات کے بجائے دولت مندوں کو درس گاہیں اور اسپتال بنانے چاہییں اوربچوں کی تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے۔ حکیم صاحب کا یہ قول دولت مندوں کے لیے کتنا چشم کشا ہے:
’’ کفن میں جیب نہیں ہوتی‘‘
حکیم صاحب کے تعلقات بہت وسیع تھے۔ غریب، امیر، جوان ، بوڑھے، بچے ،ادیب، صحافی، وزرائے اعظم، صدور، سیاسی قائدین، بیرونی ممالک کے اکابر، دانش ور غرض ہر طبقے، ہر حلقے میں ان کے روابط تھے، ان کا احترام کیا جاتاتھا۔
وزیراعظم نوازشریف صاحب اپنے دور ِاقتدارمیں مدینتہ الحکمت آئے۔ بیت الحکمت (لائبریری) دیکھا، ہمدرد پبلک اسکول گئے۔ مختلف تعلیمی اداروں کی تعمیرات دیکھیں، بہت متاثر ہوئے۔حکیم صاحب سے وزیراعظم نے کہا:’’ حکیم صاحب! میرے لائق کیا خدمت ہے؟ ‘‘ حکیم صاحب نے فرمایا: ’’ کچھ نہیں ، اللہ مالک ہے۔‘‘ نوازشریف صاحب نے کہا:’’ لیکن میں بھی کچھ کرنا چاہتاہوں۔‘‘ آخراصرارکے بعد حکیم صاحب نے کہا: ’’آپ چاہتے ہی ہیں تو سائنس سینٹر کی عمارت بنوادیجیے۔‘‘ نوازشریف صاحب نے خوشی سے حامی بھرلی۔یہ باتیں خودنوازشریف صاحب نے اپنی تقریر میں حاضرین کوبتائیں۔ حکیم صاحب خود دیتے تھے، مانگتے کسی سے نہیں تھے۔
کسی کانفرنس میں، کسی سیمینار میں، ملک میں یا بیرون ملک جاتے تو اپنے خرچ پر جاتے۔ کوئی ٹکٹ دیتابھی تو واپس کردیتے۔ وزیر رہے، گورنر رہے تو ایک پیسا معاوضہ نہیں لیا۔
وزارت کے زمانے میں اسلام آباد جاتے تو کرایہ بھی اپنی جیب سے خر چ کرتے۔ دفتر میں خاطر تواضع بھی سرکاری خرچ سے نہیں کرتے تھے۔اسٹاف کو بھی کچھ دینا ہوتا تو اپنی طرف سے دیتے تھے۔
سخت محنت کے عادی تھے۔ صبح جلد اٹھ جاتے تھے اور کام کی میز پر جم جاتے تھے۔ سفر میں بھی یہ معمول نہیں بدلتاتھا۔
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحرخیزی
یونیسکوکوریئر کے ایڈیٹروں کی میٹنگ پیرس میں تھی۔ حکیم صاحب کے علاوہ میں بھی شریک تھا۔ حکیم صاحب کو میٹنگ ختم ہونے کے بعد وہاں سے امریکا جاناتھا، مجھے واپس پاکستان آناتھا۔واپسی کے لیے صبح جلد ڈیگال ایئرپورٹ پہنچناتھا۔مجھے فکر ہوئی کہ جلد آنکھ نہ کھلی تو گڑبڑ ہوجائے گی۔ حکیم صاحب نے فرمایا کہ میں آپ کو صبح چاربجے اٹھادوں گا۔ چناں چہ علی الصباح ٹھیک چاربجے انھوں نے میرے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔
حکیم صاحب کے مزاج میں یکسو ہوکر کام کرنے کی صلاحیت کمال کی تھی، اسی لیے وہ کم وقت میں زیادہ کام کرلیتے تھے۔ پیرس سے روانگی کے وقت حکیم صاحب نے مجھے خطوط کا پلندا دیا۔ یہ وہ شکریے کے خطوط تھے، جو انھوں نے لندن اور پیرس کے سفر کے دوران ملنے والے لوگوں کو لکھے تھے۔ پیرس میں حکیم صاحب نے یہ خطوط ڈرافٹ کردیے۔
میںنے کراچی آکر یہ خطوط ٹائپ کرنے کو دے دیے۔ امریکا سے واپس آنے کے بعد حکیم صاحب نے دستخط کیے اور وہ خطوط متعلقہ افراد کو ارسال کردیے گئے۔ان کے کام اسی طرح بلاتاخیر ہوتے تھے۔
خطوط کے علاوہ پیرس ہی میں حکیم صاحب نے اپنا کوریا کا سفر نامہ مکمل کرکے مجھے دے دیاتھا، جو ’’ کوریا کہانی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ذہن اور وقت کا پورا اور صحیح استعمال حکیم صاحب کی شخصیت کا اہم ترین جزوتھا۔
مشہور محقق اور غالب شناس مالک رام نے جناب حکیم عبدالحمید(حکیم صاحب کے برادر بزرگ) پر ’’ نذرِحمید‘‘ کے نام سے ایک علمی کتاب مرتّب اور شائع کی تھی۔مالک رام صاحب نے حکیم محمدسعید صاحب سے اس کتاب کے لیے حکیم عبدالحمید صاحب کی زندگی پر بہ اصرار ایک مضمون لکھوایا۔یہ مضمون حکیم صاحب نے دہلی ہی میں بیٹھ کر لکھا اور جناب مالک رام کو دے دیا۔ فائنل کرنے کے لیے مالک رام صاحب نے مضمون کراچی بھیج دیا۔
میں نے مضمون دیکھا۔ نہایت جامع اور بے ساختہ مضمون تھا، لیکن اس میں حکیم صاحب کا خود اپناذکر بھی خاصا تھا، جو اگرچہ ایک فطری بات تھی، لیکن میں نے حکیم صاحب کو اس طرف توجہ دلائی۔
ڈاکٹرحسین محمدجعفری نے بھی یہی بات کہی تو حکیم صاحب نے مضمون میںاضافے کیے اور یہ بات بھی لکھ دی کہ ’’ایسے دو دوست جن کی رائے مبنی برخلوص ہونے میںمجھے شبہ نہیں ہے،انھوں نے یہ تاثر دیا کہ اس میں ’’سعیدیت‘‘ غالب ہوگئی ہے، مگر میں نے حکیم عبدالحمید کے حالات نہیں لکھے ہیں، اپنے بھائی جان محترم کے بارے میں لکھا ہے۔‘‘ مخلصوں کے مشورے توجہ سے سننے اور ان پر غور کرنے کی حکیم صاحب کی عادت کی یہ ایک مثال ہے۔
حکیم محمدسعید شہید کی شخصیت اتنی پہلودار ہے اور ان کے کارنامے اتنے زیادہ ہیں کہ ان پرلکھنے کے لیے مبسوط کتاب کی ضرورت ہے، جس کے لیے وقت اور اطمینانِ قلب درکار ہے۔