اے ایس آئی اصغر مغیری نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا

40

لاڑکانہ (نمائندہ جسارت) ولید تھانہ میں اے ایس آئی اصغر مغیری پر پیپلز پارٹی رہنما کی جانب سے مبینہ تشدد کا معاملہ، پولیس اے ایس آئی اصغر مغیری نے ملازمت سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، ریٹائرمنٹ کی درخواست ایس ایس پی آفس لاڑکانہ میں جمع کروا دی گئی۔ بیمار رہتا ہوں، ڈیوٹی نہیں کرسکتا، درخواست کا متن۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس سکھر کامران فضل کی ہدایات پر لاڑکانہ ولید تھانہ میں پیش آئے واقع کی انکوائری رپورٹ اے ایس آئی کیخلاف آنے کے بعد اے ایس آئی اصغر مغیری نے محکمہ پولیس سے دلبرداشتہ ہو کر ملازمت سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے اپنے بھائی کے ذریعے ایس ایس پی آفس میںدرخواست جمع کروائی جس پر انہیں خود آفس آکر درخواست جمع کروانے کی ہدایات کی گئیں۔ اس سلسلے میں اے ایس آیی اصغر مغیری کا کہنا ہے مجھے میرا حق پنشن دی جائے۔ اے ایس آئی کا کہنا تھا مجھے بہت دکھ ہوا ہے، آج وڈیرے جیت گئے، میرے ساتھ انصاف نہیں ہوا، وڈیروں کا ساتھ دیا گیا۔ اے ایس آئی اصغر مغیر کا مزید کہنا تھا کہ حلیم عادل شیخ کو نہیں جانتا، ہمدردی کے لیے میرے گھر آئے تھے۔ حلیم عادل نے مجھے یقین دلایا کہ حق کے لیے آواز اٹھائیں گے لیکن کچھ نہیں کیا۔ انکوائری افسر ڈی ایس پی نے اے ایس آئی اصغر مغیری کی جانب سے پیپلز پارٹی رہنما ذوالفقار جاکھرانی سے تلخ کلامی کے بعد خود وردی پھاڑنے کی رپورٹ دیتے ہوئے کارروائی کی سفارش کی تھی، مبینہ تشدد معاملے کیس کی رپورٹ میں اے ایس آئی اصغر مغیری کو جھوٹا، پیپلز پارٹی رہنما ذوالفقار جاکھرانی کو غنڈہ اور ایس ایچ او تھانہ ولید عبدالوہاب مسن کو نااہل قرار دیا تھا۔