حقوق کراچی تحریک ، عوامی ریفرنڈم کا آغاز ، حافظ نعیم الرحمٰن نے ریفرنڈم کمیشن کا اعلان کردیا

56

 

کراچی(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی کراچی کے تحت ’’حقوق کراچی تحریک‘‘کے سلسلے میں ’’عوامی ریفرنڈم‘‘ کا آغاز ہوگیا ،شہر بھر میں ریفرنڈم آج اور کل جاری رہے گا،امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نورحق میں ریفرنڈم کمیشن کے عہدیداران کا اعلان کیااوران کے ساتھ اپنا ووٹ کاسٹ کیا ،جمعے کو شہر بھر میں ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘کے مطالبات پر مشتمل کراچی ریفرنڈم کا آغاز ہوگیا ہے ،نماز جمعہ کے بعد شہر بھر میں مساجد سمیت سیکڑوں مقامات پر ریفرنڈم کیمپ لگائے گئے اور عوام نے اپنا ووٹ کاسٹ کر کے ریفرنڈم کے مطالبات کی حمایت کی ۔ جماعت اسلامی کی جانب سے پہلے مرحلے میں 70لاکھ بیلٹ پیپرز شائع کراکے تمام اضلاع میں پہنچادیے گئے ہیں ۔جس میں شعبہ خواتین بھی شامل ہے ۔عوامی ریفرنڈم کمیشن کے چیئرمین انور منصور خان (جسٹس ریٹائرڈ و سابق اٹارٹی جنرل پاکستان) ،کمشنر ریفرنڈم کمیشن ناظم ایف حاجی (سابق چیئرمین سی پی ایل سی )،سیکرٹری ریفرنڈم کمیشن قمر عثمان (سابق صدر
پاکستان بزنس فورم)، جاوید بلوانی (ممتاز صنعتکار)،نعیم قریشی (سابق صدر کراچی بارایسوسی ایشن)،منیر اے ملک (صدر کراچی بارایسوسی ایشن)،ڈاکٹر سعد نیاز(سینئر رہنما پیما )،سہیل افضل (سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے )،امتیاز خان فاران (صدر کراچی پریس کلب)،انور شعور (ممتاز شاعر)،ڈاکٹر توصیف احمد خان (سینئر کالم نگار،سابق صدر شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ اردو)،جمال الدین (صدر گلوبل اوور سیز پاکستانیز)،مقصود یوسفی (سابق سیکرٹری پریس کلب)عوامی ریفرنڈم کمیشن کے ممبران ہوں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نورحق میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘کے سلسلے میں ’’عوامی ریفرنڈم‘‘ کراچی کی تعمیر و ترقی کا نقطہ آغازثابت ہوگا، کسی بھی شہر کا انفرااسٹرکچر اس وقت تک تیار نہیں ہوسکتا جب تک مردم شماری درست نہ ہو،کراچی کے گمبھیر مسائل حکومت اور اپوزیشن کسی کے بھی ایجنڈے میں نہیں ہیں ،اپوزیشن نے اعلامیے میں کراچی کے مسائل کو ایڈریس نہیں کیا جس سے ان کی کراچی سے وابستگی اور سنجیدگی کا انداز ہ ہوتا ہے ، وزیر اعظم عمران خان چند گھنٹے کے لیے کراچی آتے ہیں پیکج کا اعلان کر کے چلے جاتے ہیں اور پھر اس پر سیاست اور پوائنٹ اسکورنگ شروع کردی جاتی ہے ،بد قسمتی سے کراچی کا نام لے کر اٹھنے والوں نے کراچی کو لاوارث چھوڑ دیا ہے ،کسی بھی پارٹی کا فرد ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ سے متفق ہوکر ہماری تحریک میں شامل ہوسکتا ہے ، کراچی کے مسائل جماعت اسلامی ہی حل کرسکتی ہے ،جماعت اسلامی کراچی کے بنیادی مسائل کو لے کر عوام کے پاس جائے گی اور عوامی دبائو سے مسائل حل کرانے کی جدوجہد کی جائے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کے گمبھیر مسائل کے حل کے لیے با اختیار شہری حکومت قائم کی جائے،کراچی کومیگا میٹرو پولیٹن سٹی کا درجہ دیا جائے ،وسائل کی درست اور منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی کاموں کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے درست مردم شماری کرائی جائے،کوٹا سسٹم ختم کر کے میرٹ کا نظام وضع کیا جائے،700یونین کمیٹیاں بناکر شفاف، آزادانہ اور منصفانہ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں،کے الیکٹرک کو فوری طور قومی تحویل میں لے کر15سال کا فرانزک آڈٹ کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے غیر آئینی طریقے سے ایس آر او جاری کیااور کوٹاسسٹم کو غیر معینہ مدت تک کے لیے بڑھادیا، کراچی کے نوجوانوں کو ملازمتوں سے محروم کیاجارہا ہے ،ملازمتوں میں گریڈ1سے گریڈ 16تک مقامی شہریوں کا حق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرکے فرانزک آڈٹ کیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ٹیکنیکل افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے، شہر ی تعلیم، صحت سمیت بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، شہر میں کھیلنے کے لیے میدان آباد نہیں ہے،جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لیے عوامی رابطہ کرے گی اور عوامی دباؤ کے ذریعے یہ مسائل حل کرائیں گے۔قمر عثمان نے کہاکہ یہ ریفرنڈم کراچی کے ہر شہری کے جذبات کی ترجمانی کرے گا ، صحافی ، وکلا، دانشور اور تمام شہری اپنا ووٹ کاسٹ کرکے اپنی رائے سے آگاہ کریں ۔ جاوید بلوانی نے کہاکہ جماعت اسلامی نے عوامی ریفرنڈم میں ایسا کمیشن بنایا جس کی مثال نہیں ملتی، میرٹ کو نظر انداز کرنے کی صورت میں شہر کی انڈسٹریز کو تباہ کیا گیا،کراچی میں اس وقت انڈسٹریل ایریابنے جب کوریامیں کوئی انڈسٹری نہیں تھی ،کراچی جو ایکسپورٹ کرتا ہے اور جو ٹیکس ادا کرتا ہے اس حساب سے کراچی کو کچھ نہیں دیا جاتاپورے ملک میں چلنے والے رفاہی ادارے کراچی کے عوام کے فنڈ سے ہی چلتے ہیں۔بد قسمتی سے کراچی سے منتخب نمائندے کراچی کو اون کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔جمال الدین نے کہاکہ یہ ریفرنڈم محض جماعت اسلامی کا نہیں بلکہ پورے شہر کراچی کے دل کی آواز ہے ، شہر میں ایک بار پھر ایماندار قیادت آجائے تو کراچی کا نقشہ بدل سکتا ہے ۔علاوہ ازیں امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے عوامی ریفرنڈم کے قواعد و ضوابط کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ریفرنڈم شفاف ہو اور رائے دینے والا آزادانہ طور پراپنی مرضی سے بیلٹ پر لکھے سوالنامے کو پڑھ کر حق میںیا مخالفت میں رائے دے ۔ریفرنڈم ورکرز کو بتایا گیا ہے کہ بیلٹ دینے سے پہلے پوچھ لیں کہ کہیں پہلے تو رائے نہیں دی کیونکہ اس بات کو یقینی بنانا مقصود ہے کہ ایک فرد ایک دفعہ ہی رائے دے ۔ریفرنڈم ورکرز مردوخواتین سب زونز کے تحت بستی بستی پولنگ بوتھ بناکر ہر فرد تک بیلٹ پیپر پہنچانے کی کوشش کریں گے ۔رائے دہندگان کے لیے آن لائن رائے دینے کا انتظام بھی کیا گیا ہے ۔حقوق کراچی کامرکزی ریفرنڈم آفس ادارہ نورحق میں ہوگا ،پولنگ بوتھوں سے نتائج سب زونز پھر اور آخر میں ادارہ نورحق میں پہنچائے جائیں گے اورپیر19اکتوبر کو ریفرنڈم کمیشن میڈیا کے سامنے نتائج کا اعلان کرے گا۔