پاکستان کا دورہ کریں گے لیکن پہلے سیکورٹی ،انگلش بورڈ

40

لاہور/لندن(جسارت نیوز)انگلش کرکٹ بورڈ نے دورے کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ کی دعوت کی تصدیق کردی۔انگلش کرکٹ بورڈ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2021کے شروع میں دورے کی دعوت دی ہے، اس حوالے سے پی سی بی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے بات کرکے حتمی فیصلہ کریں گے اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے ای سی بی اپنا کردار ادا کرے گا۔انگلش بورڈکا کہنا ہے کہ مجوزہ دورہ پاکستان سے پہلے سکیورٹی اور صحت کے معاملات دیکھنا ہوں گے۔دوسری جانب پی سی بی کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے کہا ہے کہ انگلش بورڈ کو باضابطہ طور پر تین ٹی ٹوئنٹی میچز کیلئے خط لکھا ہے جس کے لیے جنوری میں دعوت دی گئی ہے۔وسیم خان نے کہا کہ جنوبی افریقی بورڈ کے بحران کے باوجود پاک جنوبی افریقا سیریز کو خدشہ نہیں، جنوبی افریقا کی سیکورٹی جائزہ ٹیم نومبرمیں پاکستان کا دورہ کرے گی اور ٹیم شیڈول کے مطابق جنوری میں پاکستان کا دورہ کرے گی جس میں دو ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی مچز شیڈول ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقی ٹیم کے دورے سے قبل انگلش ٹیم کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے البتہ دورے سے قبل انگلش بورڈ سکیورٹی اور حالات کا جائزہ لے گا۔دریں اثناء پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ انگلینڈ کا ایک ہفتے کیلیے اگلے برس کے اوائل میں پاکستان کا دورہ کرنا ایک چھوٹا قدم ضرور ہو گا لیکن اس چھوٹے قدم کے مثبت اثرات بڑے ہوں گے۔ نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میںچیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم مختصر دورے کے لیے پاکستان آتی ہے تو یہ ایک بڑا بریک تھرو ہو گا اور اس چھوٹے قدم کے اثرات بڑے ہوں گیاور اس سے دوسری ٹیموں کا پاکستان پر اعتماد بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کے بارہ 13کھلاڑی پہلے ہی پی ایس ایل کھیلنے کے لیے پاکستان آ چکے ہیں، انہیں یہاں آکر کوئی مسئلہ نہیں ہوا بلکہ آرام دہ ماحول میں رہے، اب بھی اگر یہ دورہ ہوتا ہے تو یہ ایک چھوٹا دورہ ہو گا جو کہ ایک ہفتے کا ہو سکتا ہے لیکن اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ آسٹریلیا کو 2021کے سیزن کیلئے آسانی ہوگی۔چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ اس کے بعد اسی طرح سے دورے ہوں گے، انگلینڈ کی ٹیم مکمل دورے کے لیے پاکستان آئے گی اور میں سمجھتا ہوں کہ چھوٹے چھوٹے بلڈنگ بلاکس سے ہم بڑی عمارت کھڑی کر لیں گے۔احسان مانی نے مزید کہا کہ راتوں رات ٹیمیں پاکستان آنے کے لیے حامی نہیں بھر رہیں، وہ صرف ایک مرتبہ کہنے پر پاکستان ٹیمیں نہیں بھیج رہے، یہ سب پاکستان اور پی سی بی کی ساکھ اور اس پر اعتماد کا نتیجہ ہے، ہماری مینجمنٹ نے ایسے کام کیے ہیں جنہیں اب سنجیدگی سے لیا جانے لگا ہے، ہم نے ایسا کبھی کوئی وعدہ نہیں کیا جسے پورا نہ کیا ہوا، جو کہا وہ کر کے دکھایا۔