ایک قیمتی پاکستانی کی رُخصتی

41

ابھی چند دن قبل ہم نے اپنے کالم میں ایک عزیز دوست علی حسن کو یاد کیا جو کوئی تین ہفتے قبل اس دارفانی میں اپنی سانسوں کی گنتی مکمل کر کے اس راستے کا مسافر ہوگیا جدھر ہم سب کو ایک نہ ایک دن جانا ہے۔ علی حسن مرحوم سے ہماری ملاقات اور دوستی کی ابتدا جس عظیم اور قیمتی انسان کے حوالے سے ہوئی تھی کا ذکر اس کالم میں بار بار آیا کہ ایسے معتبر حوالے ہمارے ارد گرد کم بلکہ بہت ہی کم ہیں اور جو ہیں ان کی عزت کرنے کے لیے ہم عام طور پر ان کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں یا خود اپنے ہاتھوں سے ان کو مار دیتے ہیں۔
حکیم محمد سعید مرحوم اس قحط الرجال کے دور میں ایک غیرمعمولی قیمتی اور قابل فخر انسان تھے۔ ہم نے اپنی زندگی میں ایسے بے غرض، مخیر، قول و فعل میں یکساں اور کھرے، درد مند، حساس اور سرتاپا پاکستانی بہت کم دیکھیں ہیں۔ گزشتہ سولہ سترہ برس میں ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں، ہمیں ان کی محفلوں میں اٹھنے بیٹھنے اور ’’ہمدرد‘‘ کی مختلف النوع تقریبات میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے فقید المثال منصوبے مدینتہ الحکمہ کی بنیاد میں رکھی جانے والی اینٹوں میں سے ایک اینٹ رکھنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ ان تمام واقع پر ہم نے حکیم صاحب کے ظاہر اور باطن میں جو توازن، استقلال اور تسلسل دیکھا وہ اپنی جگہ پر ایک بہت قیمتی تجربہ تھا، لباس کی سادگی، آنکھوں کی حیا، لہجے کی نفاست، کم خوراکی اور مقصد سے لگن ان کے شخصیت کے مرکزی اجزائے ترکیبی تھے۔ ستر برس سے اوپر کی عمر میں بھی ان کے قد کی راستی، چہرے کی بشاشت اور مسکراہٹ کی گرمجوشی میں رتی برابر فرق نہیں آیا تھا۔ چھوٹے چھوٹے بلیغ جملوں میں وہ قدرے جلدی جلدی بولتے تھے۔ مگر ان کی گفتگو کبھی اپنے موضوع اور مقصد سے دور نہیں جاتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے انہیں ہمہ وقت اپنی زبان اور بولے جانے والے الفاظ کی حرمت کا پاس رہتا ہے۔ آخری چند برسوں میں ان کی تقریروں میں ایک خاص قسم کی تلخی وتیزی اور تنقید در آئی تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی دردمندی اور احساس زباں کی لہر رواں دواں رہتی تھی کہ ذہن بے اختیار غالب کے اس شعر کی طرف منتقل ہو جاتا تھا۔
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سو ہوتا ہے
’’شام ہمدرد‘‘ہو ’’،آواز اخلاق‘‘ ،’’مجلس شوریٰ‘‘ یا ’’نونہال‘‘ حکیم صاحب کے ہر کام میں ایک مخصوص نوع کا سلیقہ، ترتیب، باقاعدگی اور مقصدیت ہمیشہ نمایاں رہتی تھی۔ وقت کی پابندی کے وہ بے حد قائل اور رسیا تھے۔
چند ماہ پہلے کی بات ہے انہوں نے ہمیں بچوں کے تقریری مقابلے میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا۔ تین بجے کا وقت تھا، اتفاق ایسا ہوا کہ تقریباً ڈھائی بجے جب ہم تقریب میں جانے کے لیے دفتر سے اٹھنے والے تھے کچھ ایسے لوگ آگئے جن کی مدارت ضروری تھی۔ ان سے فراغت پانے میں بیس پچیس منٹ لگ گئے۔ تین بجنے میں پانچ منٹ پر ہم نے فلیٹیز ہوٹل فون کیا (جہاں یہ تقریب منعقد ہو رہی تھی) کچھ دیر بعد ہمدرد لاہور کے انچارج سردار صدیقی لائن پر آئے ،معلوم ہوا کہ حکیم صاحب مہمان خصوصی کے استقبال کے لیے بیرونی دروازے پر کھڑے ہیں۔ ہماری ندامت میں مزید اضافہ ہوا۔ حکیم صاحب سے بات ہوئی، ہم نے تاخیر کی وجہ بتائی اور عرض کیا کہ ٹھیک پندرہ منٹ میں انشاء اللہ ہم پہنچ جائیں گے۔ حکیم صاحب کی محبت بھری اور مسکراتی ہوئی آواز سنائی دی۔
’’کوئی بات نہیں…آپ تشریف لائیے…آپ تشریف لائیے‘‘
سواتین بجے ہم ہال میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ جلسہ شروع ہوئے ٹھیک پندرہ منٹ ہوچکے ہیں۔
بعد میں گفتگو کے دوران حکیم صاحب نے بتایا کہ اگر ہم اپنے کردار اور عمل سے بچوں کو وہ باتیں کر کے نہیں دکھائیں گے جن پر ہم ان کو لیکچر دیتے ہیں تو کوئی نصیحت ان پر اثرانداز نہیں ہوسکے گی۔ وقت کی پابندی کے فوائد پر آپ ایک سو سیمینار کر لیں ، ٹی وی پر اشتہار دکھا لیں، کتابیں اور پمفلٹ چھاپ لیں لیکن جو اثر عملی طور پر پابندیٔ وقت کا مظاہرہ کرنے سے ہوسکتا ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے اور وہی اصل بات ہے۔
حکیم محمد سعید ذاتی زندگی میں بے حد منکسرالمزاج تھے لیکن جہاں مسئلہ پاکستان، اسلام یا پاکستانی معاشرے کا ہو ان کے تیور ایک دم بدل جاتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک مخصوص قسم کی چمک اور لہجے میں ایک ایسی قوت اور سختی پیدا ہو جاتی جو بظاہر ان کے شفیق چہرے اور سفید شیروانی سے بالکل میل نہیں کھاتی تھی۔ وہ پاکستانی معاشرے کی اجتماعی زبوں حالی اور سیاسی طالع آزمائوں کی کم کوشی اور غلط نظری سے بے حد شاکی اور دل گرفتہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ہماری قومی عادات اور ترجیحات دونوں میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ہم اپنا قبلہ درست نہیں کرتے۔ آخر میں انہوں نے اپنی تمام توقعات اس نسل سے وابستہ کر لی تھیں جو ابھی اپنی عمر کے پہلے پندرہ برسوں میں تھی۔ وہ اقبال کے ان شاہین بچوں کو خاکبازی کے اس سبق سے بچانے کے لیے کوشاں تھے جسے پڑھ کر اکیاون برس میں ہم نے اس خوبصورت پاکستان کو مسائلستان بنا دیا ہے۔ انہیں قتل کی دھمکیاں بہت دنوں سے مل رہی تھیں۔ کئی بار ان کے قتل کی افواہ بھی پھیلی لیکن ان کے پائے استقامت میں ذرہ برابر لرزش نہیں آئی ۔ وہ آخری لمحے تک اسی طرح اپنے کام اور مشن میں لگے رہے اور یوں جاتے جاتے بھی یہ ثابت کر دیا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں اسے کر کے بھی دکھاتے ہیں۔
حکیم صاحب کی وفات پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا لیکن اس وقت ہم اس عظیم سانحے کے حوالے سے ایک خاص بات کی طرف ارباب اقتدار کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ کیا حکیم صاحب کی اس ’’شہادت‘‘ کا سبب، سب سے بڑا سبب… ان کا اصلی اور سچا پاکستانی ہونا تو نہیں تھا۔