اقوام متحدہ زیادتی کے مجرموں کی طرف داری پر اتر آئی

33

اقوام متحدہ انسانی حقوق کی سربراہ نے عصمت دری پر سزائے موت کی مخالفت کر دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سربراہ ہیومن رائٹس مچل بیچلیٹ نے کہا ہے کہ عصمت دری گھناؤنا جرم ضرورہے، لیکن سزائے موت حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان سمیت دنیا میں کئی کیس رپورٹ ہوئے۔ اس طرح کے وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو سخت ظالمانہ سزا ئیں دے کر ہمیں خود خلاف ورزیوں کا مرتکب نہیں ہونا چاہیے۔ مچل بیچلیٹ نے کہا کہ سزائے موت غریب اور انتہائی پسماندہ افراد کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ ہمیں متاثرہ افراد کو انصاف اور ان کی بحالی پر توجہ دینی ہوگی۔ واضح رہے کہ سربراہ انسانی حقوق کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا بھر میں جنسی جرائم میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزائیں دینے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔ پاکستان میں بچوں کو جنسی جرائم سے بچانے کے لیے زینب الرٹ بل منظور کیا گیا ہے جب کہ خواتین کی عصمت دری پر ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی تجاویز آئی ہیں۔ بنگلادیش کی حکومت نے زیادتی و جنسی جرائم کے بڑھتے واقعات پر حال ہی میں مجرمان کے لیے سزائے موت کا قانون منظور کیا ہے، جس کے بعد جمعہ کے روز 5 مجرموں کو سزائے موت سنادی گئی۔