وزیر ،مشیر ٹکے کے نہیں، گندے انڈے پڑیں گے

20

اسلام آباد (آئی این پی+آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں حکومتی اراکین وزیروں ، مشیروں کی کارکردگی اور ہوشربا مہنگائی پر پھٹ پڑے۔ رکن قومی اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل اور نور عالم خان نے کابینہ ٹیم پر کڑی تنقید کی اور عمران خان کی ٹیم کو نکمہ قرار دے دیا۔ وزیر اعظم نے حسب روایت ملکی مسائل کی ذمے داری سابقہ حکمرانوں پر عائد کردی۔ پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شریک ثنا اللہ مستی خیل نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے وزیر، مشیر ٹکے کے نہیں، وزیر نکمے ہیں،انہیں گندے انڈے پڑیں گے، اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو میں ان کو بیس بیس مرتبہ گولیاں مارتا، جب تک آپ ٹیم ٹھیک نہیں کریں گے حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔ اجلاس میں اراکین اسمبلی نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا خاتمہ کرکے دم لیں گے، ملکی مسائل کے ذمے دار سابق حکمران ہیں اپوزیشن کو عوام کا کوئی خیال نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی سمیت عوامی مسائل پر جلد قابو پالیں گے، عوام کو درپیش تمام مسائل کا ادراک ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے جلسے کیے تو ہمارے پاس پاناما اور چار حلقوں کامعاملہ تھا جبکہ یہ لوگ کرپشن اور لوٹی دولت بچانے کے لیے نکلے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ ملک میں گندم کی سپلائی پوری ہو چکی ہے، صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور اپوزیشن کا بیانیہ موثر والا نہیں ہے کیونکہ ملک لوٹنے اور منی لانڈرنگ کرنے والے پھر اکٹھے ہو گئے ہیں، ملک کے حالات ہماری وجہ سے خراب نہیں ہوئے ہیں جو آج جلسے کر رہے ہیں، ان لوگوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہے،اپوزیشن کے جلسوں سے کوئی خوف نہیں،انہیں جلسے کرنے دیں ، یہ دوچار جلسے کرکے تھک جائیںگے۔وزیراعظم نے کہاکہ فضل الرحمن کے دھرنے سے کچھ وزرا پریشان ہوگئے تھے،میں نے کہا تھا کہ 15روز انتظار کریں یہ خود چلے جائیں گے۔ بھکر سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آزاد حیثیت میں جیت کر آیا ہوں اور تحریک انصاف کے امیدوار کو 50ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی ہے، آپ کی شخصیت اور وژن کی وجہ سے تحریک انصاف میں شامل ہوا ، اب حلقے کے لوگ پوچھتے ہیں کہ بجلی گیس کے بل ہم سے دیے نہیں جاتے، آٹا ،چینی مہنگی ہو گئی ہے، سبزی دال بھی نہیں کھا سکتے، میرے ووٹرز کہتے ہیں کہ آپ کو آزاد حیثیت میں ووٹ دیا تھا، آپ نے پی ٹی آئی میں جا کر ہمارے لیے اور حلقے کے لیے کیا کیا؟ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے توجہ سے ثنا اللہ مستی خیل کی باتیں سنیں اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے پشاور سے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان جنہوں نے اجلاس میں بولنے کے لیے ہاتھ بھی کھڑا نہیں کیا تھا کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ نور عالم مجھے پتا ہے کہ آپ بھی کچھ کہنا چاہتے ہو، جو کہنا ہے کہہ لو، جس پر نور عالم خان نے کہا کہ مہنگائی بہت ہے، ہماری اصل اپوزیشن مہنگائی ہے، بجلی اور گیس کے بل عوام سے نہیں دیے جا رہے اس میں کمی کریں، انہوں نے شکوہ کیا کہ اس حکومت میں ارکان پارلیمنٹ کو عزت نہیں دی جاتی۔ نور عالم خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ والے کرپٹ ضرور تھے لیکن وہ ارکان اسمبلی کو عزت دیا کرتے تھے۔ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی اجلاس میں حکومتی کارکردگی پر سخت تنقید کی وجہ سے ماحول کشیدہ رہا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میںخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھی پارلیمنٹ میں آرام سے تقریریں کریں گے اور باقی 3 سال بھی گزر جائیں گے۔