مردہ قرار نے آنکھیں کھول دیں

305

ڈھاکا: نومولودمردہ قرار دی گئی بچی نے عین اس وقت آنکھیں کھول دیں اور چیخ کر رونے لگی جب اسے قبر میں اتارا جانے لگا تھا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں 7 ماہ کی حاملہ خاتون شاہی نور اختر نے قبل از وقت بچی کو جنم دیا جسے لیڈی ڈاکٹر نے مردہ قرار دیتے ہوئے ڈبے میں رکھ کر جسد خاکی کو  والد کے حوالے کردیا تاکہ وہ قریبی قبرستان میں دفنا آئے۔

غمزدہ باپ قبرستان گیا تو وہاں قبر کی قیمت زیادہ تھی جس پر اسے ایک اور قبرستان بھیجا گیا جہاں نسبتاً سستی قبر مل گئی اور قبر کھودنے کے بعد جیسے ہی نومولود کو قبر میں اتارا جانے لگا تو اچانک بچی کا جسم حرکت کرنے لگا۔

رپورٹ کے مطابق  غریب باپ بچے کو لیکر دوبارہ اسی ہسپتال گیا تاہم جنرل وارڈ میں بستر نہ ہونے کی وجہ سے بچے کو دوسرے ہسپتال لے جانا پڑا جہاں زچہ وبچہ کی طبیعت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے جبکہ والدین نے بچی کے زندہ ہونے پر مسرت کا اظہار کیا۔

دوسری جانب  انڈونیشیا میں ڈاکٹرز کی جانب سے مردہ قرار دی گئی 12 سالہ لڑکی غسل میت کے دوران زندہ ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق 12سالہ لڑکی کو ذیابیطس اور اعضا کی پیچیدگیوں کے باعث ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جس کے کچھ ہی گھنٹے بعد ڈاکٹرز نے اسے مردہ قرار دے دیا جبکہ اہلخانہ بچی کی لاش لے گئے اور جنازے کی تیاری کرنے لگےاور جب بچی کو غسل دیا جارہا تھا تو اسی دوران وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور چلنے پھرنے لگی۔

خوفناک  صورتحال دیکھ کر گھر والوں کی چیخیں نکل گئیں اور جنازے میں موجود لوگوں کی دوڑیں لگ گئیں اور انہونی صورتحال پیدا ہونے پر فوری طور پر ریسکیو اور ڈاکٹرز کو اطلاع دی گئی جو موقع پر پہنچے اور بچی کا دوبارہ علاج شروع کیا گیا مگر ایک گھنٹے بعد ہی لڑکی کا دوبارہ انتقال ہوگیا۔