چینی صدر کا فوج کو جنگ کےلیے تیار رہنے کا حکم

461

بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے اپنی فوج (پیپلز لبریشن آرمی) کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دے دیا۔

گلوبل ٹائمز کے مطابق چین کے صدرشی جن پنگ نے گوانگ ڈونگ صوبےکےفوجی اڈے کے دورے کےدوران پیپلز لبریشن آرمی کی میرین کور سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوج ہائی الرٹ رہے اور دشمن کے ممکنہ وار کے منہ توڑجواب کے لیے خود کو تیار رکھے۔

سی این این کی رپورٹ کے  میں کہا گیا ہے کہ چینی صدر کا یہ فوجی دورہ اس وقت ہوا جب چین اور امریکہ کے مابین کئی دہائیوں کے دوران تائیوان اور کورونا وائرس وبائی امور میں اختلافات کے باعث تناؤ اپنے عروج پر ہے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے امریکی کانگریس کو مطلع کیا کہ وہ تائیوان کو تین جدید ہتھیاروں کے نظام کی فروخت کے ساتھ آگے بڑھنے کا منصوبہ بنارہا ہے جس میں جدید اعلی متحرک آرٹلری راکٹ سسٹم بھی شامل ہے۔

Chinese President Xi Jinping tells troops to focus on 'preparing for war' »  Kashmir.Today

جس پر چینی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے کسی بھی منصوبے کو فی الفور منسوخ کردے اور امریکاتائیوان فوجی تعلقات کوختم کیا جائے۔

واضح رہے کہ تائیوان کبھی بھی چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی کے زیر کنٹرول نہیں رہا تاہم بیجنگ اس جزیرہ نما خطے کا دعویدار رہا ہےچین کا کہنا ہےکہ وہ تائیوان پر قبضے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین بحری طاقت میں امریکا کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور چین کے توسیع پسندانہ عزائم خطے کے لیے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ چین اور روس طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کرنے کے لیے معاشیات، سیاسی بغاوت اور فوجی طاقت کا استعمال کررہے ہیں۔