کم از کم اجرت مہنگائی کے تناسب سے کی جائے‘ شمس سواتی

95

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، ایبٹ آباد کے دوروں میں اجلاسوں سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مزدور سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہیں۔ مزدوروں سے حقوق چھینے جارہے ہیں، مزدور کی آواز نہیں سنی جارہی۔ 7 کروڑ مزدور رجسٹریشن سے محروم ہیں۔ ٹھیکیداری نظام بدترین ظلم اور استحصال ہے۔ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے مزدوروں کے لیے جسم اور جان کا رشتہ برقرار رکھنا محال ہوگیا ہے۔ فیصل آباد کی ابراہیم فائبر سے کورونا کی آڑ میں ہزاروں مزدوروں کو برطرف کیا۔ احتجاج کرنے پر ان کے خلاف مقدمات قائم کردیے۔ اب پولیس مزدوروں کو حراساں کررہی ہے۔ فیصل آباد کی پولیس ایک کارخانے دار کی ملازم ہے یا ریاست کی ملازم ہے۔ مزدوروں پر ظلم بند کیا جائے، ہم مزدوروں کے ساتھ کھڑے ہیں کسی بھی صورت میں اُنہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ سرکاری ملازمین نے اسلام آباد میں تاریخی مظاہرہ کیا۔ سرکاری ملازمین کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں ۔ غلامی کے زمانے کے 1 تا 22 اسکیلز ختم کرکے 1 تا 7 درجے بنائے جائیں۔ تنخواہوں میں تفاوت ختم کیا جائے، کم از کم تنخواہ مہنگائی کے مطابق ہو، ان کی ضروریات پوری
ہوں۔ ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم اور ڈیڑھ کروڑ بچے پرائمری سطح پر تعلیم ترک کردیتے ہیں۔ یہ مزدوروں، کسانوں کے بچے ہیں، تعلیم اور علاج کی سہولت سب کے لیے برابر کی جائے۔ شمس الرحمن سواتی نے اپنے دوروں کے موقع پر مختلف پروگراموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 73 سال سے حکمران طبقہ مزدوروں، کسانوں اور عوام کا دشمن ہے۔ ان کی الگ الگ پارٹیاں نہیں، یہ ایک ہی پارٹی ’’مفادات پارٹی، کرپشن پارٹی‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مزدور کسان، ملازم طبقہ اپنی ووٹ کی طاقت سے اس ملک میں اسلامی انقلاب لائے، نظام مصطفی ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ دولت کی منصفانہ تقسیم اور 99فیصد عوام کو ظلم سے نجات نظام مصطفی سے ہی ملے گی۔