جزائر کی ملکیت، ترقیاتی پیکیج اورجنوبی بلوچستان کی اصطلاح

566

یکم ستمبر کو صدر پاکستان کی جانب سے پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020ء جاری کیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر ایک ماہ سے زائد عرصہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اتھارٹی چیئرمین کے تقرر کے لیے اخبارات میں اشتہارات جاری ہوئے تب جاکر آرڈیننس سے متعلق خبر عام ہوئی۔ آرڈیننس کے مطابق ساحل سے سمندر کے اندر 12 ناٹیکل میل تک کا حصہ اب اتھارٹی کی ملکیت تصور کیا جائے گا۔ یعنی بلوچستان اور سندھ کے ساحلوں پر موجود تمام جزائر اب وفاق کی ملکیت ہیں، جسے شیڈول ون میں رکھا گیا ہے۔
سندھ حکومت اور بلوچستان کے سیاسی، سماجی حلقوں نے آرڈیننس پر شدید ردعمل دیا ہے۔ سندھ حکومت کا آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے مطابق پیپلزپارٹی صدارتی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے جزائر کے الحاق کی قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ سینیٹ میں مخالفت کرے گی۔ بلاول نے سوال کیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کایہ عمل مودی کے مقبوضہ کشمیر میں اقدامات سے کس طرح مختلف ہے؟۔ بلوچستان اسمبلی میں پشتون خوا میپ کے رکن نصراللہ زیرے نے سندھ بلوچستان کے جزائر وفاق کی ملکیت قرار دینے کے خلاف اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی ہے۔ بی این پی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر جہانزیب جمالدینی یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ وفاق چاہتا ہے کہ گوادر اور صوبے کے دوسرے ساحلی علاقوں پر مشتمل ایسا یونٹ بنایا جائے، جو براہ راست وفاق کے تصرف و زیر انتظام ہو۔ نیز نیشنل پارٹی کے دو روزہ مرکزی کمیٹی کے اجلاس 29،30 ستمبر کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے اعلامیہ میں ساحل بلوچستان کے ساتھ کراچی کے ساحل کو ملاکر ایک وفاقی یونٹ بنانے کے ماسٹر پلان کی تشکیل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ جنوبی بلوچستان کی اصطلاح نے بھی صوبے کی سیاسی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ ’’جنوبی بلوچستان‘‘ کی اصطلاح یا لفظ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے 11ستمبر 2020 کو اپنے دورہ کوئٹہ کے موقع پر صوبے کے جنوبی اضلاع کی ترقی کے لیے پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے استعمال کی ہے۔ چناں چہ لفظ جنوبی بلوچستان پر صوبے کی بڑی جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی نے اعتراضات و تحفظات پر مبنی نکات اُٹھائے ہیں کہ یہ اصطلاح دراصل بلوچستان کو انتظامی اور جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کی راہ ہموار کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے اخبارات میں چھپنے والے بیانات میں ایسی کسی بھی منصوبہ بندی کے خلاف سیاسی مزاحمت کی دھمکی دی ہے کہ منصوبہ سندھ اور بلوچستان کی تقسیم کا آغاز ہے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بھی کہہ چکے ہیں کہ جنوبی بلوچستان کا نام استعمال کرکے خدشات جنم لے چکے ہیں۔ بلوچستان کے اندر اس وقت فرنٹیر کور بھی سائوتھ اور نارتھ یعنی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایف سی نارتھ کا آئی جی کوئٹہ اور سائوتھ کا تربت میں بیٹھتا ہے۔
بلوچستان کے سینئر تجزیہ کار انور ساجدی کہتے ہیں کے مستقبل میں گوادر کی حدود میں ایک بڑی چھائونی کے قیام کی منصوبہ بندی ہے۔ جس کے بعد صوبے میں کمانڈر سدرن کمانڈ کے علاوہ صوبے کے ایک حصے میں کور کمانڈر بھی بیٹھیں گے۔ بہر حال یہ درست ہے کہ جنوبی بلوچستان کے بجائے صوبے کے جنوبی اضلاع یا مکران و جھالاوان کا نام استعمال کیا جاتا تو اعتراض نہ ہوتا۔ بلوچستان ملک کا وسیع و عریض صوبہ ہے جس کے مسائل اور پسماندگی اپنی جسامت کی طرح ہی ہیں۔ اس جدید دور میں بھی صوبہ مختلف النوع مسائل سے دو چار اور ضروریات کا متقاضی ہے۔ چناں چہ بلوچستان اگر صوبے کے پشتون بلوچ عوام کے تاریخی خطوں پر تقسیم ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ امن و امان جیسے مسائل پر قابو پانا چنداں مشکل نہ رہے گا۔ اور صوبے کی ترقی دسترس میں ہوگی۔ گوادر بندرگاہ کی فعالیت کے بعد یہ ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جس کے بعد لا محالہ آبادی کا رُخ مکران ڈویژن اور اس سے متصل علاقوں کو ہوگا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی بار ہا کہہ چکی ہے کہ پشتون علاقوں پر مشتمل الگ صوبہ کے قیام پر ان کی جماعت معترض نہیں ہو گی۔ صوبے کی بڑی پشتون قوم پرست جماعت پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کا ملک میں ون یونٹ کے خاتمے کے وقت ہی سے الگ پشتون صوبہ کا مطالبہ رہا ہے۔ اسی بات پر عبدالصمد خان اچکزئی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) سے الگ ہوئے تھے۔ بہر کیف ترقیاتی پیکیج میں مکران ڈویژن کے ساتھ قلات ڈویژن کے اضلاع آواران اور لسبیلہ بھی شامل ہیں۔ جس کے لیے سر دست 200ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس لاگت سے 184سے زائد منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچائے جائیں گے۔
پیکیج دینے کا فیصلہ قومی ترقیاتی کونسل (این ڈی سی) میں ہوا ہے۔ یہ تیرہ رکنی کونسل وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں جون 2019ء میں قائم کی گئی۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اس کے رُکن ہیں۔ این ڈی سی نے یہ فیصلہ بلوچستان کے جنوبی اضلاع کیچ، تربت، پنجگور، گوادر، لسبیلہ اور آواران کی عدم ترقی اور پسماندگی کے پیش
نظر کیا ہے جہاں مواصلاتی ربط اور سماجی و اقتصادی ترقی کی ضرورت ہے تاکہ ان اضلاع میں معیار زندگی بھی بلند ہو۔ 184 منصوبوں میں مواصلات، زراعت، آبپاشی، آبنوشی، صنعت، ماہی گیری، توانائی، لائیو اسٹاک، سرحدی تجارت سمیت مختلف شعبوں کے منصوبے شامل ہیں۔ ضلع آواران کو کراچی، خضدار اور ضلع کیچ سے ملانے کی خاطر شاہراہیں تعمیر کی جائیں گی۔ سڑکوں کی تعمیر سے ایران کی سرحد کے ساتھ تجارت آسان ہوگی۔ مکران ڈویژن کو نیشنل گرڈ سے بجلی کی فراہمی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ ریلوے لائنیں بچھائی جائیں گی۔ ایل پی جی اور ایل این جی ٹرمینلز کا قیام منصوبے کا حصہ ہیں۔ تعلیمی اداروں کا قیام بالخصوص کیڈٹ کالجز منصوبے میں شامل ہوں گے۔ مکران کے اندر کپاس کی کاشت کو فروغ دے کر کاٹن جیننگ ملز بنانے کا پلان ہے۔ کولڈ اسٹوریج بنائے جائیں گے۔ نیز مکران کی کھجورکی فصل کے لیے پروسسینگ پلانٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ مقامی کھجور دوسرے ممالک برآمد کی جا سکے۔ کسانوں اور مالداروں کو بھی فنی معاونت کی منصوبہ بندی ہے۔ ارادے و منصوبے یقینا انقلابی ہیں۔ مگر بلوچستان حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہیں۔ بقول بلوچستان کے وزیر خزانہ ظہور بلیدی کے نیشنل پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر کام کے ضمن میں بنیادی کردار کا حامل متعلقہ صوبہ ہی ہوتا ہے جبکہ اس بڑے پیکیج کے لیے بلوچستان کے پاس رقم نہیں ہے۔ اس بناء وفاق بلوچستان کی معاونت کرے گا اور رفتہ رفتہ مزید اضلاع بھی پیکیج کا حصہ بنائے جائیں گے۔ گویا مشکل ضرور ہے۔ وفاقی حکومت یکسوئی کے ساتھ معاونت کرتی ہے تو ان منصوبوں کی تکمیل آئندہ تین چار سال میں ہوسکتی ہے۔ جنوبی اضلاع اس کے ترقیاتی پیکیج پر عمل درآمد کے لیے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نگران ہیں۔