میرشکیل کے شریک ملزم نوازشریف کے خلاف اشتہارات چسپاں

111

لاہور (نمائندہ جسارت)لاہور کے علاقے جوہر ٹائو ن میں غیر قانونی پلاٹس الاٹمنٹ کیس میں گرفتار کاروباری شخصیت و
نجی اخبار کے مالک میر شکیل الرحمن کے شریک ملزم سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے لیے اشتہارات چسپاں کردیے گئے۔ احتساب عدالت کے جج اسد علی نے ملزم نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کے اشتہار چسپاں کرنے کاحکم دیا ہے۔ عدالتی نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے‘ شریک ملزم نواز شریف پاکستان میں دیے گئے پتے پر موجود نہیں تھے‘ عدالتی اشتہار میں مزید لکھا ہے کہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے ملزم نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں‘ ملزم نواز شریف اشتہار چسپاں ہونے کے30 روز کے اندر عدالت میں پیش ہو جائیں بصورت دیگر ان کو مفرور قرار دے دیا جائے گا۔ عدالتی اشتہار میں حکم دیا گیا ہے کہ وزارت خارجہ 15 اکتوبر کو نواز شریف کے خلاف لندن میں اشتہارات کو چسپاں کرنے پر عملدرآمد کے بارے میں رپورٹ پیش کرے۔ دوسری جانب احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ و آمدن سے زاید اثاثہ جات ریفرنس میں بار بار طلبی نوٹس کے باوجود پیش نہ ہونے پر شہباز شریف خاندان کے افراد کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کردی۔ لاہور کی احتساب عدالت کے حکم پر منی لانڈرنگ ریفرنس میں بیرون ملک مقیم مسلم لیگ ن کے صدر و سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کو مفرور قرار دینے کے لیے اشتہارات عدالتی احاطے ، ملزم کی پاکستان اور بیرون ملک رہائشگاہوں پر چسپاں کر دیے گئے۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے سلمان شہباز کو مفرور قرار دینے کے لیے اشتہار جاری کیا۔ عدالتی اشتہار میں بیان کیا گیا کہ ملزم سلمان شہباز ٹرائل کا سامنا کرنے کیلیے جان بوجھ کر روپوش ہے‘ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 کے تحت ملزم سلمان شہباز کے اشتہار جاری کیے گئے ہیں‘ملزم سلمان شہباز کو 13 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہو کر اپنے دفاع کا ایک اور موقع دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ڈی جی نیب آئندہ سماعت پر ملزم سلمان شہباز کو مفرور قرار دینے کے لیے اشتہارات سے متعلق عملدرآمد رپورٹ جمع کرائیں۔