بلدیاتی اداروں کے108 انجنئرز نان انجنئرز کی اسامیوں پر تعینات

99

کراچی ( رپورٹ محمد انور) حکومت سندھ کے محکمہ لوکل گورنمنٹ بورڈ کے108بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈرز انجینئرز کو عدالت عظمیٰ کے مختلف احکامات کے تحت اپنے موجودہ عہدوں سے ہٹا کر نان انجینئرز عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ انجینئرز میں گریڈ 19 کے 10 ، گریڈ 18 کے 22 گریڈ 17 کے 76 انجینئرز شامل ہیں۔ ان تمام کا تعلق سندھ کونسل یونیفائڈگروپ (ایس سی یو جی) سروس سے ہے۔ ان تمام کے خلاف عدالت عظمیٰ نے 2018ءمیں بیچلر
آف انجینئرز کی درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈرز پروفیشنل انجینئرز کی اہلیت نہیں رکھتے اس لیے ان تمام کو پروفیشنل انجینئرز کی اسامیوں سے ہٹادیا جائے۔ عدالت کے ان احکامات پر عملدرآمد گزشتہ 2 سال سے التوا میں تھا۔ تاہم 25 ستمبر کو حکومت سندھ نے احکامات پر فوری عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ احکامات کے تحت جن انجینئرز کو پروفیشنل انجینئرز کی اسامیوں سے ہٹا کر غیر انجینئرز کی اسامیوں پر لگایا گیا ہے ان میں بلدیہ عظمیٰ کراچی ، کراچی کی 6 ضلعی بلدیاتی اداروں (ڈی ایم سیز ) اور اندرونِ سندھ کے بلدیاتی اداروں کے انجینئرز شامل ہیں۔ احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے بعض انجینئرز کو پبلک ریلیشنز آفیسرز(پی آر اوز)کی پروفیشنل اسامیوں پر بھی متعین کیا گیا ہے جو خلاف اصول ہے۔ 2 سال پرانے احکامات پر عمل درآمد سے بی ٹیک اور ڈپلومہ ہولڈرز انجینئرز میں تشویش پائی جاتی ہے ۔