ملک کے بیٹے بیٹیوں کو بیچنے والے آج منہ چھپانے پر مجبور ہیں،ڈاکٹر فوزیہ

102

کراچی ( نمائند جسارت) ملک کے بیٹے بیٹیوں کو بیچنے والے آج منہ چھپانے پر مجبور ہیں ، ڈاکٹر عافیہ کے خلاف کوئی فارنزک شواہد موجود نہیں ،جنیوا کنونشن کے تحت کسی بھی ملک کے شہری کو بغیر معلومات دوسرے ملک نہیں بھیجا جاسکتا ،امریکا لے جا کر خودساختہ مقدمہ چلا کر 86سال قید کی سزا سنائی گئی ، سزا کو 10 برس بیت گئے ،عافیہ کا طالبان سے تعلق ہوتا تو طالبان کے قیدیوں کے ساتھ رہا ہوجاتیں،ہمیں چپ رہنے کے لیے دھمکایا گیا، عافیہ ملک کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر فوزیہ نے کراچی بار میں وکلا سے خطاب میں کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی قید میں ناروا سلوک کو برطانوی صحافی ایوان رڈلی دنیا کے سامنے لائیں ، عافیہ کو جس جیل میں رکھا گیا وہ دماغی ریسرچ کے لیے بدنام ہے ، 3
سال سے عافیہ سے بات نہیں ہوسکی ان کی خیریت جاننے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رابطہ کیا ،پاکستانی سفارتخانے سے کہا کہ عافیہ سے وڈیو کال پر بات کروائی جائے ،جیل سے رہا ہونے والی خواتین نے جیل کے حالات کی گواہی دی ہے ۔اس موقع پر صدر کراچی بار منیر احمد ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بیٹی کو 2003 ءمیں لاپتا کردیا گیا ، واپس لانے کے بجائے ملک کو فتح کیا جارہا ہے ،ریمنڈ ڈیوس کی رہائی سے پہلے عافیہ کو واپس لانا چاہیے تھا امریکا کے ساتھ تحویل مجرمان کا معاہدہ موجود ہے ،حکومت چاہے تو ڈاکٹر عافیہ کو واپس لاسکتی ہے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر کراچی بار ہمیشہ آواز اٹھاتا ہے ۔ اس موقع پر کراچی بار کی جانب سے قرار داد بھی منظور کی گئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ کی جان اور عزت کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔