بجلی ،گیس‘ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ(پیٹرول سستا نہ کرنیکا فیصلہ)

233

اسلام آباد/لاہور(نمائندگان جسارت) حکومت نے بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میںایک بار پھر ہوشربا اضافہ کردیا جب کہ اوگرا کی سفارش کے باجود پیٹرول سستا کرنے سے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے بجلی کے گھریلوصارفین کو بھی رگڑا لگاتے ہوئے ماہانہ 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی 32 پیسے مہنگی کردی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بجلی کے نرخ بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔بجلی کے نرخ گزشتہ نومبر سے جون تک فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے وصول کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ ایل پی جی کی قیمت میں بھی 3 روپے کلو اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد فی کلو کی قیمت 120 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ گھریلو سلینڈر کی قیمت 1382 سے بڑھ کر 1416 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ڈسٹری بیوٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت ایل پی جی کی درآمد پر عائد ٹیکسز میں کمی کرے۔ آئندہ سرد سیزن میں سوئی گیس کی طلب و رسد میں برھتے ہوئے فرق کو دیکھتے ہوئے اگر وافر مقدار میں ایل پی جی کی درآمد کے سودے نہیں کیے گئے تو مائع گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ ممکنہ سخت سردیوں میں اگر ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو اس سے غریب طبقے کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔علاوہ ازیں دوسری طرف یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے خورونوش کی قیمتوں کی بریکیں فیل ہو گئی ہیں۔ گھی اور کوکنگ آئل سمیت مختلف اشیا اب عوام کو مہنگے داموں ملیں گی۔ کھانا بنانے کیلئے ضروری چیز گھی 33 روپے فی کلو تک مہنگا کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوکنگ آئل کی قیمت بھی 20 روپے فی لیٹر تک بڑھا دی گئی ہے۔ٹوتھ برش 14 سے لے کر 35 روپے، ٹوتھ پیسٹ کی قیمت میں 5 سے لے کر 20 روپے، ریڈ چیلی پاؤڈر 73 روپے، ملک چاکلیٹ کی قیمت میں 5 روپے، شوینگ کریم 20 روپے تک مہنگی کر دی گئی ہیں۔ سوپ سمیت دیگر اشیا بھی مہنگی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا جس کا اطلاق فوری ہوگا۔واضح رہے کہ 6روز قبل بھی یوٹیلیٹی اسٹور پر مختلف برانڈز کے گھی کی فی کلو قیمت میں 4روپے تک اضافہ کیا گیا تھا جس سے فی کلو قیمت 237 روپے سے بڑھا کر 241 روپے کردی گئی تھی، یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی تمام اشیا غریبوں کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔کوئی سستی اشیا دستیاب نہیں۔ اسی طرح دودھ کی قیمت میں بھی پانچ روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے کے بعد قیمت 147 روپے سے بڑھ کر 152 روپے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ علاوہ ازیں ماہانہ 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے بجلی 32پیسے مہنگی کردی گئی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کے 22 ارب روپے صارفین سے وصول کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت گیس کے میٹر کا ماہانہ کرایہ 20 روپے سے بڑھا کر 40 روپے کردیا گیا ہے۔یہ فیصلہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے زیر صدارت ای سی سی اجلاس میں کیا گیا۔ دوسری جانب پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومتی ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں اگلے ماہ آٹے کے بحران انتباہ کردیا ہے ۔پاکستان فلو ر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عاصم رضا کا کہنا ہے کہتبدیلی سرکار کی ناقص پالیسیوں سے اگلے ماہ میں آٹے کا شدید بحران آنے والا ہے۔ لاہور میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس عام میں خطاب کرتے ہوئے عاصم رضا نے کہا کہ اس وقت ملک میں 30 لاکھ ٹن گندم کی قلت ہے اور گندم کے بحران کی وجہ فیڈ ملز کو گندم فراہمی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال بلوچستان کو بالکل گندم نہیں دی گئی اور گندم کا جو ریٹ دسمبر میں ہونا تھا وہ جون میں ہو گیا تھا۔ادھر لاہور میں عام بازاروں سمیت شہر بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قلت کے بعد آٹے کی بلیک میں فروخت شروع ہوگئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ عام بازاروں کے دکانداروں نے 20 کلو آٹے کے تھیلے کو مختلف گوداموں میں ذخیرہ کردیا ہے اور یہ تھیلے دکانوں پر رکھ کر فروخت کرنے کے بجائے بلیک میں ایک ہزار روپے فی 20 کلو میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں لاہور کے غریب شہری آٹے کے حصول میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں جبکہ آٹا چکیوں پر فروخت ہونے والے آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے چکی کا آٹا غریب شہریوں کے پہنچ سے باہر ہوگیا ہے۔