بابری مسجد شہادت، ایڈوانی سمیت تمام ملزمان بری۔ فیصلہ شرمناک ہے‘ پاکستان

139

لکھنؤ/اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک+نمائندہ جسارت)بھارتی عدالت نے بابری مسجد شہید کرنے کے مقدمے میں بی جے پی کے مرکزی رہنما ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہرجوشی اور اومابھارتی سمیت تمام 32 ملزمان کو بری کردیا۔لکھنئو کی خصوصی عدالت میں 28 سال سے جاری مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ۔خصوصی عدالت نے بدھ کو اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مسجد کو کسی منصوبہ بندی کے تحت شہید نہیں کیا گیا اور نہ ہی مقدمے میں نامزد ملزمان کے خلاف ثبوت فراہم کیے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا کہ 6 دسمبر کو غیر معمولی حالات پیش آسکتے ہیں تاہم اس رپورٹ پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔واضح رہے کہ بی جے پی کے سرکردہ رہنما لال کرشن ایڈوانی نے راشٹریہ سیوک سنگھ ک ساتھ مل کر 1992ء میں بابری مسجد کے خلاف ہندو رائے عامہ کو بھڑکانے کے لیے رتھ یاترا کی تھی۔ اس یاترا کے بعد ایودھیا میں لاکھوں ہندو انتہا پسند رضاکار (کار سیکو) جمع ہوئے جنہوں نے 6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کی عمارت کو شہیدکردیا۔ اس واقعے کے بعد ایودھیا کی انتظامیہ نے 2 مقدمات درج کیے تھے۔ جس میں سے ایک مقدمہ مسجدپر حملہ کرنے اور دوسرا اس کارروائی کی سازش کرنے والوں کے خلاف درج کیا گیا تاہم بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے دونوں مقدمات کو یکجا کردیاتھا۔ 3دہائیوں تک جاری رہنے والے اس مقدمے میں ابتدائی طور پر 48 افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 16 کی موت ہوجانے کے بعد 32 ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رہی اور بدھ کواس کا فیصلہ سنایاگیا۔بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کے مقدمے میں گزشتہ سال بھارتی عدالت عظمیٰ اپنا فیصلہ سنا چکی ہے جس میں قرار دیا گیا تھا کہ جس زمین پر 500برس قبل مسجد تعمیر کی گئی وہ مندر کی ملکیت ہے۔ اس فیصلے کے بعد گزشتہ ماہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس زمین پر مندر کی تعمیر کا افتتاح کرچکے ہیں۔ادھر پاکستان نے بابری مسجد شہید کرنے والے ملزموں کی رہائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی عدالت کے فیصلے کو شرم ناک قرار دیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ بھارتی عدالت کے فیصلے سے بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، مسجد شہید کرنے کے نتیجے میں بی جے پی کی زیرقیادت فرقہ وارانہ تشدد ہوا، تشدد کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید ہوئے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ نام نہاد جمہوریت میں انصاف کی علامت ہوتی تو سرعام مجرمانہ فعل پر فخر کرنے والوں کو آزاد نہیں کیا جاسکتا تھا۔ بی جے پی کی ہندو نواز حکومت اقلیتوں کو روز اول سے نشانہ بنا رہی ہے۔ بی جے پی نے پلاننگ کے تحت ہندو رائے عامہ کو بھڑکانے کے لیے رتھ یاترا کی تھی۔