حکمران توہین مذہب و انبیاء ؑ کے مسئلے کو جنرل اسمبلی میں اٹھائیں، سراج الحق

189

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ شعائر اسلام ، انبیا ؑ ء و صحابہ کرام ؓ کے ناموس کے تحفظ کے لیے عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا ۔ حکمران توہین مذہب و انبیا ؑء کے مسئلے کو جنرل اسمبلی میں اٹھائیں ۔ اقوام متحدہ کا چارٹر کسی بھی مذہب کی محترم و مقدس ہستیوں اور عبادت گاہوں کی توہین کی اجازت نہیں دیتا ۔ملک پر لادین اور غیر شرعی نظام مسلط ہے جس کی وجہ سے ہمارا نظریہ اور جغرافیہ محفوظ نہیں ۔ جس عظیم مقصد کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا ، اس کو فراموش کر دیا گیاہے ۔نیب نے ریاست کے اندر ریاست بنا رکھی ہے ۔ چیف جسٹس درست کہتے ہیں کہ نیب مخالفین کو ڈرانے دھمکانے ، ان کی وفاداریاں تبدیل کرانے اور بازو مروڑنے کا کام کرتاہے ۔ نیب کے اقدامات سے اعلیٰ عدلیہ سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں۔ اب تک یک طرفہ احتساب ہورہاہے ۔ نیب کو حکومت میں بیٹھے آٹا و چینی چور نظر آتے ہیں نہ وہ قوم کو لوٹنے والے بڑے بڑے مافیاز پر ہاتھ ڈالتاہے ۔ حکومت کے اعصاب بہت کمزور ہیں اسی لیے وہ مخالفین کو دھمکیاں دینے پر اتر آئی ہے ۔ حکومت صحافیوں کی پکڑ دھکڑ اور ڈرانے دھمکانے سے انہیں خوف زدہ نہیں کر سکتی ۔ حکومت کے پاس میڈیا کے سوالات کا کوئی جواب نہیں اس لیے وہ اپنے چہرے کو صاف کرنے کے بجائے آئینہ توڑنے پر اتر آئی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے شرقپور میں اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے میاں جلیل احمد شرقپوری ، صدر علما و مشائخ رابطہ کونسل میاں مقصود احمد ، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان پر مسلط رہنے والی حکمران پارٹیاں ملک و قوم کی آزادی و خود مختاری کا تحفظ نہیں کر سکیں ۔ آج بھی ملک پر انگریزکا وہی قانون اور نظام مسلط ہے جس سے نجات کے لیے پاکستان بنایا گیا تھا ۔ جس طرح پی پی ، مسلم لیگ ن اور مشرف بیرونی اشاروں پر چلتے تھے اسی طرح پی ٹی آئی بیرونی دبائو کا رونا رورہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ تینوں پارٹیاں بیرونی ایجنڈے کی تکمیل میں لگی ہوئی ہیں جبکہ عوام جان و مال اور عزت کے تحفظ سے محروم ہیں ۔ اگر اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں حضرت محمد ؐ ، صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت ؒ کی ناموس کا تحفظ نہیں ہوسکتا تو دوسروں سے ہم کیا توقع رکھ سکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ توہین رسالت ؐ اور قرآن کریم کی اہانت کرنے والے مجرموں کو ہر حکومت پروٹوکول دے کر باہر بھجوادیتی ہے ۔ اب تو کسی نے ویزے اور ایک پیسہ خرچ کیے بغیر امریکا برطانیہ یا کسی دوسرے ملک جانا ہوتو وہ قرآن کریم یا توہین رسالت ؐ کا ارتکاب کرتاہے اور حکومت اسے راتوں رات ملک سے فرار کرادیتی ہے ۔