نوازشریف کا بیرون ملک جانا پورے نظام کی تضحیک ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

225

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ  نے  ایون فیلڈریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست بھی سماعت کے لیے منظور کر تے ہوئے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیاہےاور7 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا، جج جسٹس محسن اختر کیانی نے نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیلوں کے کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ نوازشریف کا بیرون ملک جانا پورے نظام کی تضحیک ہے اور ملزم کو پتا ہے وہ سارے نظام کو  شکست دے کر گیا ،وہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کے سسٹم پر ہنس رہا ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ  کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی جس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے سابق وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری کی عدم تعمیل کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق لندن ایون فیلڈاپارٹمنٹس پرپاکستانی ہائی کمیشن کانمائندہ دوبارہ وارنٹ کی تعمیل کے لیے گیا لیکن اپارٹمنٹس پر موجود شخص نے وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کردیا۔

 اس موقع پر عدالت نے کہا کہ ہم نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، دیکھنا ہے کہ کیا جان بوجھ کرعدالتی کارروائی سے فرار کیاجارہا ہے؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وارنٹ کی تعمیل کیلئے پاکستانی ہائی کمیشن کے افسر را عبدالحنان ایون فیلڈ اپارٹمنٹس گئے لیکن وہاں موجود شخص ایڈی نے وارنٹ لینے سے انکار کردیا جس کے بعد نوازشریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کرانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

دورانِ سماعت نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے عدالت کوبتایا کہ نوازشریف وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے آگاہ ہیں، یہ ان کے وکیل نے بھی بتایاتھا کہ انہیں عدالتی آرڈر سے آگاہ کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا ہمیں بتایاگیاکہ پاکستانی عدالت کے احکامات پر عملدرآمد کے وہ پابند نہیں، اس پر عدالت نے کہا کہ ہمیں شواہد کیساتھ خودکو مطمئن کرناہے کہ عدالت نے وارنٹس کی تعمیل کیلئے اپنی پوری کوشش کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس ساری ایکسر سائز کا مقصد ہے کہ کل ملزم آئے تویہ نہ کہے کہ اسے معلوم نہ تھا، ملزم کو پتہ ہے کہ وہ سارے سسٹم کو شکست دے کرگیا ہے، وہ وہاں بیٹھ کر پاکستان کے سسٹم پر ہنس رہا ہوگا، یہ نہایت شرمناک بات ہے، اس معاملے پر عدالت فیصلہ دے گی۔

 عدالت کا کہنا تھا کہ کل نوازشریف واپس آکر یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجھے وارنٹ گرفتاری کا علم نہیں، وہ کل یہ موقف اختیار نہیں کرسکتے کہ مجھے موقع نہیں دیا گیا،ان کا بیرون ملک جانا پورے نظام کی تضحیک ہے، آئندہ وفاقی حکومت کوبھی خیال رکھناچاہیے کہ کیسے کسی کو باہر جانے دیناہے یا نہیں؟، جتنی کوشش ایک مجرم کو وارنٹ پہنچانے میں لگ رہی ہے،کئی سائلین کوریلیف دیا جاسکتا ہے،عدالت، حکومت، دفتر خارجہ اور ہائی کمیشن مل کر ایک وارنٹ کی تعمیل کرارہے ہیں۔

 عدالت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے قونصلرا تاشی راعبدالحنان کا بیان ریکارڈ کرنے کا بھی فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت کا کہنا تھاکہ آئندہ سماعت پر دفتر خارجہ کے افسران را وعبدالحنان اور مبشر احمد کا بیان ریکارڈ ہوگا، 7 اکتوبر کو دن ڈیڑھ بجے دفترخارجہ کیافسران کے بیانات قلمبند ہوں گے۔

عدالت نے ایون فیلڈریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست بھی سماعت کے لیے منظور کرلی اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا۔