امریکی وزیر خارجہ کی آمد پر یونان میں احتجاجی مظاہرے

137

ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزیر ِ خارجہ مائیک پومپیو کے دورۂ یونان کے خلاف دارالحکومت ایتھنز، سلانیک اور کریٹ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ سلانیک میں امریکی قونصل جنرل کے دفتر کے سامنے جمع ہونے والے ایک گروہ نے پومپیو کے دورہ سلانیک کے خلاف رد عمل کا مظاہرہ کرنے کے لیے ’’پومپیو واپس جاؤ‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے امریکی پرچم کو نذرِ آتش کر دیا۔ دارالحکومت ایتھنز میں بھی امریکا مخالف گروہوں نے امریکی سفارتخانے کی جانب ریلیاں نکالنے کی کوشش کی، جس پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ خیال رہے کہ پومپیو نے پیر کے روز سلانیک میں اپنے یونانی ہم منصب نکوس دندیاس سے ملاقات کی تھی۔ دندیاس کے ساتھ توانائی میں تعاون، دفاعی صنعت اور مشرقی بحیرہ روم کی پیش رفت پر غور کرنے کے بعد پومپیو نے جزیرہ کریٹ جاتے ہوئے وزیراعظم کریاکوس میسوتاکس سے عشائیہ پر ملاقات کی تھی۔ پومپیو اٹلی اور کروشیا کا دورہ بھی کریں گے۔ دوسری جانب ترکی اور یونان کے عسکری وفود کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا چھٹا اجلاس منگل کے روز سے شروع گیا۔ تُرک دفاعی ذرائع کے مطابق یہ اجلاس نیٹو ہید کوارٹرز میں ہوا۔ تُرک صدر رجب طیب اردوان کے نیٹو سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ سے رابطے کے بعد یہ اجلاس منعقد ہوا ہے۔ ادھر صدر اردوان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ترکی کی بحیرہ روم سے متعلق پالیسی کے عنوان سے ایک وڈیو شیئر کرکے ملکی موقف واضح کردیا۔
ایتھنز: امریکی وزیر خارجہ کی آمد کے خلاف ریلی نکالی جا رہی ہے‘ مائیک پومپیو یونانی وزیر اعظم کریاکس میتسوتاکس سے ملاقات کررہے ہیں