مصر ،مرسی کے بیٹے سمیت 6 وکیلوں کو بارکونسلوں سے نکالنے کا حکم

87

قاہرہ (رپورٹ: منیب حسین) مصر میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں، شخصیات اور کارکنوں کے خلاف انتقامی کارروائی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ایک تازہ پیش رفت میں ملکی انتظامی عدالت نے بار کونسل کو حکم دیا ہے کہ وہ 6 وکلا کی رکنیت ختم کردے۔ ان وکلا میں ملک کے پہلے منتخب صدر اور فوجی آمر جنرل عبدالفتاح سیسی کے ہاتھوں معزول کیے گئے مرحوم ڈاکٹر محمد مرسی کے بیٹے اسامہ مرسی اور اخوان المسلمون کے وکیل عبدالمنعم عبدالمقصود بھی شامل ہیں، جب کہ دیگر متاثرین کی وابستگی بھی حزب اختلاف سے ہے، جن کے نام محمد عمدہ، حاتم جندی، صبحی صالح اور عصام سلطان ہیں۔ جب کہ اسامہ مرسی، صبحی صالح اور عصام سلطان فوجی حکومت کی حراست میں ہیں۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان وکلا کے خلاف فیصلہ سمیر صبری نامی وکیل کی استدعا پر سنایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سمیر صبری حزب اختلاف کے خلاف مقدمہ بازی کے حوالے سے بدنام ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بار کونسل کی رکنیت کے لیے نیک سیرت اور اچھی شہرت کی شرط ہے، جب کہ ان تمام افراد کو جنوری 2017ء میں کے ایک عدالتی فیصلے میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے یہ تمام افراد مذکورہ شرائط پر پورے نہیں اترتے۔ دوسری جانب اخوان المسلمون کے ترجمان طلعت فہمی نے ایک بیان میں اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے ملک کے بڑے اور معزز وکلا کے خلاف یہ حکم قانون کی دھجیاں بکھیرنے اور انسانی حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ مصر ی ہائی کورٹ نے 2013ء سے 2015ء کے دوران 3 افراد کے قتل کے الزام میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے 6 ملزمان کو اگست 2019ء میں سزائے موت سنائی تھی۔