ایمنسٹی مودی سرکار سے تنگ بھارت میں کام بند کردیا

83

لندن ( انٹرنیشنل ڈیسک) انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بینک اکاؤنٹ منجمد کیے جانے کے بعد بھارت میں اپنی سرگرمیاں بند کر دی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ مودی سرکار کی جانب سے تنظیم کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہیکہ اسے 10 ستمبر کو علم ہوا کہ بھارت میں اس کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے گئے ہیں اور عملے پر ملک چھوڑنے کے علاوہ تحقیقی کام اور مہم روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پہلے بھی بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں شکایت کرتی رہی ہیں کہ انہیں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگر کرنے اور خاص طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں پابندیوں پر آواز بلند کرنے کے نتیجے میں بھارتی حکومت کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت اس کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کر رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق تنظیم نے بھارت میں تسلسل کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کی۔ رواں برس فروری میں پولیس کے ہاتھوں نئی دہلی میں نسلی فسادات اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے مقامی آبادی کے ساتھبہیمانہ سلوک کے خلاف آواز اٹھائی، جس کے بعد تنظیم کے اکاؤنٹ منجمد کیا جانا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ یاد رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارتی حکومت سے مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کی ہلاکتوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ کی منسوخی کے مطالبات بھی کرتی رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اویناش کمار نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ بھارت میں مجرمانہ اداروں کے طور پر برتاؤ کیا جا رہا ہے اور قابل اعتماد ثبوت کے بغیر مخالفین کے خلاف جان بوجھ کر اقدامات ہو رہے ہیں، جن کا مقصد ناقدانہ آوازوں کو خاموش اور خوف کی فضا قائم کرنا ہے۔ انسانی حقوق کے ایک غیر سرکاری ادارے ایکٹ ناؤ فار ہارمونی اینڈ ڈیموکریسی کی بانی اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن شبنم ہاشمی کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی کے خلاف کئی روز سے کارروائی چل رہی ہے۔ حال ہی میں اس پر منی لانڈرنگ کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔