بھارت: زیادتی کا شکار دلت لڑکی جان کی بازی ہار گئی

74

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش کے علاقے ہاتھ رس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائی جانے والی 20 سالہ دلت لڑکی دہلی کے صفدرجنگ اسپتال میں زندگی کی بازی ہرہار گئی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق متاثرہ لڑکی کے بھائی نے موت کی تصدیق کردی ہے جب کہ مقامی پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کا دعویٰ کیا ہے۔ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ واقعہ 14 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی ماں اور بھائی کے ساتھ گھاس کاٹنے گئی تھی۔ لڑکی کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی بہن کی زبان کٹ گئی تھی، ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور جسم کا ایک حصہ کام نہیں کر رہا تھا، ساتھ ہی وہ بولنے سے بھی قاصر تھی اور اشاروں سے بات کر رہی تھی۔ واقعے کے بعد ملزمان نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ملزمان بہت طاقت ور ہیں اور ہمیں جان بچانے کے لیے گاؤں سے بھاگنا بھی پڑ سکتا ہے۔اجتماعی زیادتی کا الزام اسی گاؤں کے 4 افراد پر عائد کیا گیا ہے، جنہیں بھارت میں اونچی ذات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق عدالت سے مقدمے کی تیز سماعت کا مطالبہ کیا گیا ہے جب کہ متاثرہ خاندان کو سیکورٹی فراہم کردی گئی ہے۔اہل خانہ کے مطابق ابتدائی طور پر پولیس نے معاملے کو غیر سنجیدہ لیا اور 10 دن تک کوئی کارروائی نہیں کی۔