وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو واپس لانے کا ٹاسک کسے سونپ دیا

204

اسلام آباد:وفاقی  کابینہ نے نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے برطانوی حکومت کو ایک بار پھر خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں وزارت خارجہ اور ایف آئی اے کو ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔

کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے  تمام قانونی آپشنز استعمال کئے جائیں، برطانوی حکومت کی مدد سے نواز شریف کو واپس لائیں گے،نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے بھاگے ہیں،کسی صورت این آراو نہیں ملے گا،احتساب کا عمل بلا تفریق جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو احساس ہو چکا ہے کہ این آر او نہیں ملے گا، اپوزیشن جماعتیں اپنے کیسز سے توجہ ہٹانے کے لیے اداروں کو متنازع بنا رہی ہیں ۔کابینہ نے احمد نوازسکھیرا کواسلام آبادکلب کاایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے اور پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ کے تحت ایم ڈی سی کے آئین کی منظوری دیدی ۔منگل کو

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس ہوا، جس میں ملکی سیاسی،سلامتی اور مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور وفاقی کابینہ نے16نکاتی ایجنڈے کے متعددنکات کی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو ہر صورت وطن واپس لانے کا اصولی فیصلہ کرلیا ، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے قانونی آپشنز استعمال کئے جائیں، برطانوی حکومت کی مدد سے نواز شریف کو واپس لائیں گے۔

اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی بیان بازی پر بھی غور کیا گیا ، وزراء  نے کہا  کہ لیگی رہنماغلطی تسلیم کرنے کے بجائے اداروں کو متنازع بنا رہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف بیماری کا بہانہ بنا کر ملک سے بھاگے ہیں، ان کو نواز شریف کو وطن واپس آکرعدالتوں کے سامنے پیش ہوناہوگا، کسی صورت این آر او نہیں ملے گا اور نہ کرپشن پر کسی کو کوئی معافی ملے گی۔

وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے مختلف پہلوں پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ اور ایف آئی اے کو ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔