کوٹا سسٹم ختم ،درست مردم شماری ،با اختیار شہری حکومت،روزگار دیا جائے،جماعت اسلامی کا اعلامیہ

155

کراچی(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی کراچی کے تحت 27ستمبر کو شاہراہ قائدین پر ہونے والے عظیم الشان اور تاریخی حقوق کراچی مارچ میں 14نکات پر مشتمل ’’اعلان کراچی‘‘ کے عنوان سے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر کراچی کی درست مردم شماری کرائے اور حکومت سندھ اس کے انعقاد میں اپنا کردار ادا کرے۔ کراچی کی آبادی کسی بھی صورت 3کروڑ سے کم نہیں لہٰذا کراچی کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں اور یونین کونسلوں کی تعداد اس ہی حساب سے متعین کی جائے۔ کراچی وفاقی حکومت کو اس کے بجٹ کا تقریباً 55 فیصد اور حکومت سندھ کو تقریباً ً95فیصد ادا کرتا ہے۔ کراچی سے جمع شدہ ریونیو کا کم از کم15فیصد حصہ کراچی پر خرچ کیا جائے۔ کوٹا سسٹم فوری طور پر ختم کیا جائے اور ہر سطح پر داخلے اور نوکریاں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں۔سرکاری اداروں میں کراچی کے نوجوانوں کو نوکریاں دی جائیں ۔ کراچی کی اسامیوں پر جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر بھرتی بند کی جائے کراچی کے اداروں  میں مقامی افرادکو اسامیوں پرتعینات کیا جائے۔ موجودہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 ء بد نیتی پر مبنی ایک غاصبانہ اور ناکارا قانون ہے اس کی بنیاد پر سندھ کے بلدیاتی اداروں کے وسائل اور اختیارات حکومت سندھ نے غصب کر لیے ہیں ۔ یہ آئین کے آرٹیکل 140-A کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کی جگہ با اختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم (شہری حکومت کا نظام ) نافذ کیا جائے۔ فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیںیونین کمیٹیوں کی تعداد 3کروٖ ڑ آبادی کے حساب سے مقرر کی جائے۔کراچی کو میگا میٹرو پولیٹن سٹی کے طور پر خصوصی حیثیت دی جائے۔ میئر کا انتخاب براہِ راست کرایا جائے۔ تمام ترقیاتی اورسہولیات فراہم کرنے والے اداروںواٹر اینڈ سیوریج بورڈ،کے ڈی اے،ایل ڈی اے،ایم ڈی اے ، ایل اے آر پی،بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور تمام کنٹونمنٹ بورڈ وغیرہ کو کراچی میگا میٹرو پولیٹن گورنمنٹ کے تحت دیا جائے۔کے الیکٹرک کراچی کے عوام کے لیے انتہائی اذیت رساں ادارہ بن گیا ہے۔ ایک جانب بد ترین لوڈ شیڈنگ دوسری جانب اوور بلنگ اور دیگر مدات میں لوٹ مار کرتا ہے کے الیکٹرک کراچی کے شہریوں کو بجلی کی فراہمی میں مکمل ناکام ہو گیا ہے، اس ادارے کی بنیادبے ایمانی اور بد دیانتی پر مبنی نجکاری ہے ۔اس ناقص نظام کے نتیجے میں ہر بار بارشوں میں متعدد افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔حکومت فوری طور پر اس کا کنٹرول سنبھال کر کے الیکٹرک کا فرانزک آڈٹ کرا ئے اور لوٹی ہوئی رقم بر آمد کی جائے۔ کراچی میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام سے ایک کمپنی کی اجارہ داری ختم کی جائے۔نجکاری کی صورت میں حکومت کے شیئر 51 فیصد سے کم نہ ہوں۔ کراچی کی شہری حکومت کو اس میں حصہ دار بنایا جائے۔ پانی کی فراہمی کا منصوبہ کے فور 2007ء میں نعمت اللہ خان کے دور میں شروع ہوا۔ اس کے تینو ں فیز آئندہ ایک سال میں مکمل کیے جائیں۔ اس ہی طرح نکاسی آب کے منصوبے 3 S-کو بھی فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت اس پر سیاست کرنے کے بجائے اپنا اپنا حصہ فوری ادا کریں۔ہنگامی بنیاد پر کراچی کی سڑکیں ، بجلی، پانی اور سیوریج کے نظام کی بحالی کے انتظامات کیے جائیں۔ کراچی سے ملنے والے ریونیو کا بڑا حصہ کراچی کی صنعت اور تجارت کا مرہون منت ہے۔حکومت کراچی کی صنعت اور تجارت کے فروغ کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کرے بجلی گیس اور پانی کی ضرورت کے مطابق فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انفرااسٹراکچر بالخصوص سڑکیں فوری طور پر تعمیر کی جائیں۔ تجاوزات کے نام پر ڈھائی گئی دکانوں کا متبادل فراہم کیا جائے۔ کورونا سے متاثرہ تاجروں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے۔ حکومت تعلیم کے نام پر تجارت کی حوصلہ شکنی کرے۔ سرکاری جامعات ،کا لجز اور اسکولوںکا معیار اور تعلیمی اداروں کی عمومی حالت بہتر بنائی جائے۔ طلبہ کے لیے ٹرانسپورٹ کے پوائنٹس سسٹم اور کرایے میں رعایت کو بحال کیاجائے۔ تعلیمی اداروں میں فوری یونین انتخابات کرائے جائیں۔ فیسوں میں کمی کی جائے۔با صلاحیت طالب علموں کو تعلیم کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں ۔ کراچی شہر میں ٹرانسپورٹ کا بد ترین نظام ہے۔ شہری بوسیدہ بسوں کی چھتوں اور چنگچی رکشوں میں سفر پر مجبور ہیں۔ سڑکیں بد ترین حالت میں ہیں ۔ نعمت اللہ خان کے دور میں کراچی کے لیے مکمل ماس ٹرانزٹ پروگرام بنایا گیا تھا جس میں سر کلر ریلوے ، ٹرام سسٹم، شہر کے لیے 5000 جدید بسیں ، مختلف مقامات پر فلائی اوور ، انڈر پاس اور 2 منزلہ سڑکیں شامل تھیں۔ حکومت فوری طور پر اس پروگرام پر عمل درآمد کا اہتمام کرے۔ ملیر ایکسپریس وے کی فوری تعمیر کی جائے۔ شہر میں امن و امان کی صورت انتہائی مخدوش ہو گئی ہے مجرم اپنی مرضی سے چھپتے ہیں اور جب چاہتے ہیں واردات کرتے ہیں۔ کراچی میں پولیس اور تھانے کا نظام درست کیا جائے۔ کراچی کے شہریوں پر مشتمل پولیس فورس تشکیل دی جائے۔ بلا لحاظ تنظیمی و سیاسی وابستگی مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں ۔ عدالتی نظام کو فعال اور مؤثر بنایا جائے تا کہ بلا تاخیر انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔شہر میں بے گناہ قتل ہونے والے افراد بالخصوص سانحہ 12مئی، 9اپریل اور بلدیہ فیکٹری میںجلائے جانے والے شہدا کے قاتلوں کو حکومت کیفر کردار تک پہنچانے کا انتظام کرے۔ 3 کروڑ آبادی کے اس شہر میں سرکاری سطح پر صحت کی انتہائی ناکافی اور ناقص سہولیات میسر ہیں یا پھر تجارتی بنیاد پر قائم مہنگے اسپتال ہیںجہاں عام آدمی علاج کا تصور بھی نہیں کر سکتا عام آدمی کے لیے سرکاری اسپتالوں کے دھکے ہیں یا زندگی بھر بیماری کے ساتھ گزارہ۔شہر میں فوری طور پر ہر ضلعے میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل بڑے اسپتال بنائے جائیں۔ نعمت اللہ خان کے دور میں قائم کیے گئے 18چیسٹ پین سینٹرز بحال کیے جائیں۔ شہریوں کو سستے اور معیاری علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ دوائوں کی قیمت میں اضافہ واپس لیا جائے۔ کراچی میںشہریوں کی ایک بڑی تعداد مختلف ہائوسنگ اسکیموں اور سوسائیٹیوں کی دھوکے بازی یا زمینوں پر قبضے کی وجہ سے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو چکی ہے کوئی ادارہ بشمول عدالت ان کی داد رسی نہیں کر رہا۔ حکومت فوری طور پر اس کا نوٹس لے اور متاثرین کو زمین یا ان کی کل رقم کی واپسی کو یقینی بنائے ۔ کچی آبادیوں میں بنیادی انسانی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے۔ نوجوانوں میں صحت مندانہ رجحانات کے فروغ کے لیے حکومت کھیلوں اور غیر نصابی سرگرمیوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرے۔تباہ حال کھیلوں کے میدان اور پارکس فوری بحال کیے جائیں۔