آذر بائیجان اور آرمینیا کی توپیں خاموش نہ ہوئیں،67 ہلاک

168
نگورنو کاراباخ: آرمینیا اور آذربائیجان کی فوجیں ایک دوسرے پر گولہ باری کررہی ہیں، زخمی کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے

باکو (انٹرنیشنل ڈیسک) آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان متنازع علاقے نگورنو کاراباخ میں دوسرے روز بھی شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ خبررساں اداروں کے مطابق کاراباخ کی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز ایک بیان میں بتایا کہ 24 گھنٹوں کے دوران جنگ میں مزید 27 جنگجو مارے گئے ہیں اور ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 58 تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران گولہ باری اور فائرنگ سے 9 شہری بھی جاں بحق ہوئے، جن میں سے 7 آذربائیجان اور 2 آرمینیا کے شہری تھے۔ لڑائی میں شدت کے بعد آرمینیا نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے اپنی فوج کو متحرک کر دیا ہے۔ جھڑپیں شروع ہونے کے بعد آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے کہا کہ وہ اس خطے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پُراعتماد ہیں، تاہم آذربائیجان کے کچھ علاقوں میں بھی مارشل لا کا اعلان کیا گیا ہے۔ آذری وزارت دفاع نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ آرمینیا کو ان جھڑپوں میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے، اور اس کے 22ٹینک اور دیگر بکتر بند گاڑیوں سمیت 15 طیارہ شکن دفاعی نظام اور 18 ڈرون تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آرمینی فوج کے اسلحہ کے 3گودام بھی ان جھڑپوں میں تباہ کر دیے گئے، جب کہ جھڑپوں میں آرمینی بریگیڈیر لارنک بابیان ہلاک اور اس کی زیرکمان فوجی بریگیڈ کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے دونوں ممالک کے درمیان تصادم کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گوتیریس کے ترجمان نے کہا ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین تنازع کے بارے میں وہ انتہائی فکر مند ہیں، اور سیکرٹری جنرل جلد ہی آذری اور آرمینی صدور سے رابطہ کریں گے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کاراباخمیں ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، لیکن کیا ہم ان جھڑپوں کو روک سکیں گے، یہ دیکھتے ہیں۔ جب کہ چین اور روس نے بھی لڑائی روکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔