مصری فوج کے ہاتھوں فلسطینی مچھیروں کا قتل‘ تحقیقات کا مطالبہ

117

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے جمعہ کے روز مصری فوج کی فائرنگ سے 2 فلسطینی ماہی گیروں کے قتل اور ایک کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے اس کی فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے خود مختار ادارے دیوان المظالم کی طرف سے بیان میں کہا گیا ہے کہ مصری فوج کی جانب سے 2 فلسطینی ماہی گیر بھائیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کرنا اور ان کے ایک بھائی کو زخمی حالت میں گرفتار کرنا غیرانسانی فعل ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انسانی حقوق گروپ نے مصری فوج کا دعویٰ بے بنیاد قرار دیا، جس میں اس نے گولیاں چلانے کی وجہ فلسطینی ماہی گیروں کی جانب سے سمندردی حدود کی خلاف ورزی بتایا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق فلسطینیوں کو جس وقت گولیاں ماری گئیں، اس وقت وہ اپنی حدود میں تھے۔ فلسطینی عوامی حلقوں اور سیاسی جماعتوں نے ماہی گیروں پرحملے کو مصری فوج کی بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اُدھر اسلامی تحریک مزاحمت حماس، اسلامی جہاد، تحریک فتح، عوامی محاذ برائے آزادیٔ فلسطین اور دوسری فلسطینی جماعتوں و تنظیموںنے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔