کوٹا سسٹم ایک لذت

503

ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے والے مسودے پر دستخط کرکے اپنی عاقبت تو سنبھالی اور پھر سولی چڑھ گئے۔ ان کی پرورش بھی نواز شریف کی طرح ایک فوجی جرنیل نے کی جس کو وہ ڈیڈی کہہ کر پکارتے تھے جس کا نام فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان تھا۔ پھر اسی فوجی جرنیل کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے اپنی شناخت بنائی اور پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ پھر ایک اور فوجی جرنیل جنرل محمد یحییٰ خان کے کرائے گئے ’’صاف اور شفاف‘‘ انتخابات کے نتائج کو رد کرتے ہوئے ملک کو دولخت کرنے کا سبب بنے۔ ان کے اس جرم میں شریک بنگلادیش کے شیخ مجیب الرحمن اور بھارت کی اندرا گاندھی اور یہ دونوں ہی قتل کردیے گئے اور بھٹو کی پھانسی کو بھی ان کی پارٹی والے عدالتی قتل کہتے ہیں۔ اس طرح اس سانحے کے تینوں مجرم ہی قتل کردیے گئے۔ بھٹو کی سیاسی تربیت ایک فیلڈ مارشل نے کی اور دوسرے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے ان کو پاکستان کا پہلا سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہونے کا اعزاز بخشا اور تیسرے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ہاتھوں زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ زیڈ اے بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ ملک کے لیے ایک متفقہ آئین کی تشکیل ہے مگر اس آئین کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو بھٹو کے اندر چھپی جاگیردارانہ سوچ اور متعصبانہ انداز فکر نظر آتا ہے۔ کوٹا سسٹم کے حمایتی برملا کہتے ہیں کہ کوٹا سسٹم پاکستان کے پہلے وزیراعظم شہید ملت خان لیاقت علی خان نے متعارف کرایا تھا۔ یقینا ایسا ہی ہے مگر اس کے مقاصد کے پورا ہوتے ہی ختم بھی کردیا گیا تھا۔ مگر 1973ء کے آئین میں دیے گئے کوٹا سسٹم کی حد صرف دس سال مقرر کی گئی تھی جو آج 45 سال گزرنے کے بعد بھی تلوار کی طرح لٹکی ہوئی ہے اور شاید ہمیشہ لٹکتی ہی رہے گی کہ جاگیرداروں اور وڈیروں کے ہوتے ہوئے اس کے مقاصد پورے ہو ہی نہیں سکتے۔ کوٹا سسٹم کے نفاذ کا جواز یہ دیا گیا کہ شہری علاقوں کے عوام کو سہولتیں اور مراعات حاصل ہیں، جب کہ دیہی علاقوں میں زبوں حالی ہے اور دس سال کی مدت اس لیے مقرر کی گئی تھی کہ اس دوران دیہی علاقوں کو بھی ترقی دے کر شہری علاقوں کو ہم پلہ کردیا جائے گا۔ سوچ اچھی مگر جب اس پر عملدرآمد کا وقت آیا تو اس کو صرف صوبہ سندھ تک محدود کردیا گیا۔
کوٹا سسٹم کا نفاذ آئین کے آرٹیکل 27 (01) کے تحت دس سال کے لیے کیا گیا تھا ۔ اس کی تقسیم 1972ء کی مردم شماری کی بنیاد پر کی گئی جس میں سندھ کا حصہ 19 فی صد بنتا ہے اور جب اس 19 فی صد کو دیہی اور شہری میں بانٹا گیا تو سندھ کے دیہی علاقوں کا کوٹا 11.40 فی صد اور شہری علاقوں کا حصہ 07.60 فی صد بنا۔ جب کہ صوبائی سطح پر دیہی سندھ کا کوٹا 60 فی صد اور شہری سندھ کا 40 فی صد مقرر کیا گیا۔ کیا دیہی علاقے صرف سندھ میں ہی تھے باقی تین صوبوں کے دیہاتوں میں بسنے والوں کو شہری سہولتیں حاصل تھیں اور بھٹو کی اسی سوچ نے سندھ میں مہاجر اور سندھی نفاق کا بیج بودیا اور پھر پیپلز پارٹی نے اس کی اس طرح سے آبیاری کی کہ آج یہ ایک تن آور درخت بن چکا ہے۔ سندھ کے دیہاتی تو دیہاتی ہی رہے اور وڈیروں جاگیرداروں کی اولادیں فیض پاتی رہیں۔ پھر جمہوریت پر شب خون مارا گیا تو بھٹو صاحب بھی اس کی لپیٹ میں آگئے اور جان سے گئے اور جنرل ضیا الحق نے سندھ میں پیپلز پارٹی کا زور توڑنے اور سندھی قوم پرستوں کو خوش کرنے کے لیے کوٹا سسٹم میں مزید دس سال کے لیے اضافہ کردیا مگر اس اضافے سے بھی وڈیرے اور جاگیردار ہی فائدہ اٹھاتے رہے اور بے چارے دیہاتی ان کی جوتیاں ہی سیدھی کرتے رہے۔ (سہیل انور سیال کا آصف زرداری کے جوتے کو ہاتھ لگانے والی تصویر تو یاد ہوگی)۔
دوسری طرف سندھ کے شہری نوجوانوں پر جب تعلیم اور روزگار کے دروازے بند ہوتے چلے گئے تو ان میں احساس محرومی دوڑنے لگا ایسے میں جامعہ کراچی کے چند سرپھرے نوجوانوں نے علم بغاوت بلند کیا (یہ ایک تلخ حقیقت ہے اسے کسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں)۔ جنرل ضیا الحق نے 1985ء میں کوٹا سسٹم میں دس سال کا اضافہ کیا تھا اس کی معیاد 1995ء میں ختم ہوچکی تھی پھر 1999ء میں نواز شریف کے دور حکومت میں پارلیمنٹ کی منظوری سے کوٹا سسٹم میں مزید 20 سال کا اضافہ کردیا گیا۔ جس کی معیاد 2013ء میں ختم ہوچکی تھی مگر غیر قانونی طور پر اس کا اطلاق جاری رہا۔ 2018ء میں کراچی کی جانی پہچانی شخصیت محترم رضا ربانی صاحب نے سینیٹ میں ایک پرائیویٹ بل کے ذریعے کوٹا سسٹم میں مزید 20 سال کے اضافے کی تجویز پیش کی جس کو اسٹینڈنگ کمیٹی نے مسترد کردیا تھا اب امید جاگ اُٹھی تھی کہ شاید سندھ کے شہری نوجوانوں پر سے عذاب ٹل گیا کہ اچانک 19 اگست 2020ء کو امیر جماعت اسلامی محترم حافظ نعیم الرحمن کی زبانی یہ خبر ملی کہ کوٹا سسٹم میں ایک SRO کے ذریعے موجودہ حکومت نے غیر معینہ مدت کا اضافہ کردیا ہے۔ حکومت نے یہ کام بڑی خاموشی اور عیاری سے کیا تھا مگر بھلا ہو حافظ نعیم الرحمن کا کہ انہوں نے نہ صرف اس کا بھانڈا پھوڑ دیا بلکہ علم بغاوت بھی بلند کیا۔ ہم بھی ان کی ہم نوائی میں اسی وقت ساتھ کھڑے ہونا چاہتے تھے کہ خیال آیا کہ ذرا وارثین کراچی کا ردعمل تو دیکھ لیں مگر ایسی خاموشی کے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، کوئی کراچی پیکیج کا راگ الاپ رہا ہے تو کوئی نئے صوبے کا نعرہ (صرف نعرہ) لگا کر خود کو سیاسی موت سے بچانے کی کوشش میں ہے اور کوئی الطاف حسین کے غم میں مبتلا ہورہا ہے مگر کراچی کے نوجوانوں کے مستقبل کی کسی کو بھی فکر نہیں۔ لے دے کر ایک جماعت اسلامی ہے جو کبھی کے الیکٹرک سے لڑنے میں تو کبھی پانی کے لیے جھگڑتے ہیں۔ کبھی سڑکوں پر دھرنے دیتے ہیں تو کبھی دفاتر کے باہر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں اور جنہیں کچھ کرنا چاہیے وہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں بلکہ جب قوم کورونا کے شکنجے میں جکڑی ہوئی تھی ان کے نمائندے اسلام آباد میں وزیر مملکت کا حلف اٹھارہے تھے اور یہ کوئی نئی بات نہیں 1999ء میں جب یہ نواز شریف کے اتحادی تھے اس وقت بھی پارلیمنٹ نے کوٹا سسٹم میں 20 سال کے اضافے کی قرارداد منظور کی تھی جب کہ اس وقت ان کی ناصرف قومی اسمبلی بلکہ سینیٹ میں بھی بھرپور نمائندگی تھی اور اب جب کہ یہ تحریک انصاف کی حکومت میں اتحادی ہیں اور مدینہ کی ریاست کے والی عمران خان نے اسی کوٹا سسٹم میں جو غیر شرعی بھی ہے پارلیمنٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک SRO کے ذریعے غیر معینہ مدت کا اضافہ کردیا اور ان کے لب خاموش ہیں؟؟ کوٹا سسٹم کیا ہے، محترم خالد عرفان کے نشتر سے نکلے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔
کوٹا سسٹم واقعی ایک حق شکن قانون ہے
ڈگریوں کا ہے جنازہ اہلیت کا خون ہے
کوٹا سسٹم کا ہے مطلب اب وہی کھائے گا
جائے پیدائش کا جو سرٹیفکیٹ لے کر آئے گا
آب و دانہ فقط دیہی علاقوں کے لیے
شہر والوں تیار ہوجائو فاقوں کے لیے
اہلیت رخصت ہوئی صرف کوٹا رہ گیا
آدمی فارغ ہوا ہاتھوں میں لوٹا رہ گیا