عدالتی جرم

225

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر محمد قاسم خان نے ملتان بار کونسل میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بار اور بینچ کا کردار بہت اہم ہے۔ معیاری اور سستا انصاف ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ سائلین کو انصاف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور ان کو سہولتیں مہیا کرنے کے لیے ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ بار کو ہر طرح کی مراعات فراہم کی جائیں گی۔ چیف جسٹس صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ میں پینے کے لیے صاف پانی کی فراہمی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ موصوف نے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ انصاف کی فراہمی میں بیچ سے تعاون کریں کہ ان کی معاونت کے بغیر سہل اور فوری انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خیالات قابل تحسین ہیں مگر ان کا عزم قابل توجہ ہے کیونکہ ان کے پیش رو جسٹس صاحبان بھی اسی عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں مگر عملی اقدام کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا۔ سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں کی طرح عدلیہ بیان بازی سے آگے کیوں نہیں بڑھتی۔ قابل غور امر یہ بھی ہے کہ عدلیہ کو بیانات تک کیوں محدود رکھا گیا ہے۔ اور وہ کون ہے جو نظام عدل میں مداخلت کررہا ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ بینچ اور بار کونسل کے تعاون کے بغیر معیاری اور فوری انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔ مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ نسل در نسل مقدمات کا چلنا اور پیشی در پیشی کا ازیت ناک کھیل بینچ اور بار کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ یہ کیسی افسوس ناک صورت حال ہے کہ وکلا تاخیر ی حربوں سے مقدمات کو نسل در نسل منتقل کرتے رہتے ہیں۔ اور جج صاحبان ان سے تعاون کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر پیشی در پیشی کا مکروہ کھیل کھیلا ہی نہیں جاسکتا۔
بہاولپور سیشن کورٹ میں آواز پڑنے پر سائل حاضر ہوا اور جج صاحب سے اجازت لے کر کہنے لگا جناب والا کئی سال سے میرا مقدمہ زیر سماعت ہے مگر سماعت کرنے کے بجائے اگلی پیشی سنا دی جاتی ہے۔ حالانکہ آپ بھی جانتے ہیں کہ زیر سماعت مقدمہ فراڈ کی بدترین شکل ہے۔ کیونکہ جسٹس محترم جواد الحسن کہتے ہیں کہ بغیر ثبوت کے کسی مقدمے کی سماعت اختیارات سے تجاوز اور عدالتی جرم ہے۔ دنیا کی کسی عدالت میں بغیر ثبوت کے کسی بھی مقدمے کی سماعت نہیں کی جاسکتی۔ مگر بد نصیبی یہ ہے کہ ہماری عدالتیں ایسے مقدمات کی سماعت کرکے عدالت اور سائلین کا وقت ضائع کرتی رہتی ہیں جو نظام عدل کی توہین کے مترادف ہے۔ جج صاحب نے کہا اپنے وکیل کو بلائو۔ سائل اپنے وکیل کو لے آیا جج صاحب نے فرمایا تین بجے آنا۔ اور جب تین بجے جج صاحب کے حضور پیش ہوئے تو حضرت نے مقدمہ عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردیا۔ سائل نے کہا جناب والا آپ نے تو وکلا کو بھی مات دے دی۔ وہ مختلف حیلوں بہانوں سے دس پندرہ دن کی پیشی لیتے ہیں مگر آپ نے تو پندرہ بیس ماہ کی پیشی عطا فرما دی ہے۔ حالانکہ کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مدعی کا مقدمہ فراڈ پر مبنی ہے۔ کیونکہ فروخت کرنے والا پلاٹ کا مالک ہی نہیں اور فرد ملکیت پر مکان کا جو نمبر درج ہے اس کا مالک کوئی اور ہے۔ پھر اس مقدمے کی سماعت کس قانون کے تحت کی جارہی ہے اور مجھے ذہنی اذیت کیوں دی جارہی ہے مگر مخالف وکیل شکل دکھانے کا بھی روادار نہیں۔ جج صاحب نے چہرے پر شکنیں دیکھ کر وکیل اپنے کلائنٹ کو کمرہ عدالت سے باہر لے آیا۔ مذکورہ مقدمہ کو دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر مقدمہ بحال نہیں ہوا۔ اور اس کی بنیادی وجہ بینچ اور بار کونسل کا بے مثال تعاون ہے۔ ان کی ملی بھگت کے بغیر ایسا ممکن ہی نہیں۔
ڈسٹرک کورٹ میں ٹوائلٹ موجود ہے مگر ہائی کورٹ میں عام آدمی کا داخلہ ممنوع ہے۔ علاوہ ازیں وکلا اور سائلیں کی کسی عدالت میں بیٹھنے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں۔ سائلین کی طرح وکلا بھی کمرہ عدالت سے باہر اپنی باری کے منتظر کھڑے ہوتے ہیں۔