کراچی کے حقوق کیلئے مطالبات پر مبنی قرارداد سینیٹ میں جمع

269

اسلام آباد:جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کراچی کے عوام کے حقوق کے لیے تیرہ مطالبات پر مبنی قرارداد سینیٹ میں جمع کرا دی ہے۔قرارداد سینیٹ کے شعبہ رسید واجراء میں جمع کرائی گئی ہے۔قرارداد میں تین کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل کراچی کے مسائل پر شدید تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔قرارداد میں کراچی کے عوام کے ساتھ پے درپے ہونے والے مظالم اور اصل مسائل سے عدم توجہ اور حل نہ کرنے کی وجہ سے پریشانیوں پر دلی ہمدردی کا اظہاربھی کیا گیا ہے۔

قرارداد میں پہلا مطالبہ کراچی کے عوام کو ان کو فوری طور پر حقوق دینے کے حوالہ سے ہے۔

دوسرے مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ کراچی وفاقی حکومت کو اس کے بجٹ کا تقریباً 55 فیصد اور حکومت سندھ کو تقریبا ً95فیصد ادا کرتا ہے۔ کراچی سے جمع شدہ ریونیو کا کم از کم15فیصد حصہ کراچی پر خرچ کیا جائے۔

تیسرے مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ کوٹہ سسٹم فوری طور پر ختم کیا جائے اور ہر سطح پر داخلے اور نوکریاں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں۔سرکاری اداروں میں کراچی کے نوجوانوں کو نوکریاں دی جائیں۔

چوتھے مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 ء؁ کی جگہ با اختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم (شہری حکومت کا نظام) نافذ کیا جائے۔ فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، یونین کمیٹیوں کی تعداد 3کروٖ ڑ آبادی کے حساب سے مقرر کی جائے۔

پانچویں مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کو میگا میٹرو پولیٹن سٹی کے طور پر خصوصی حیثیت دی جائے۔ میئر کا انتخاب براہِ راست کرایا جائے۔

چھٹے مطالبہ میں کہا گیا ہے کہK الیکٹرک کی جانب سے بد ترین لوڈ شیڈنگ،اوور بلنگ اور دیگر مدات میں لوٹ مار کو بند کیا جائے۔ کراچی میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام پر ایک کمپنی کی اجارہ داری ختم کی جائے۔

ساتویں مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ پانی کی فراہمی کا 2007 میں شروع ہونے والا منصوبہ K-4کے تینو ں فیز آئندہ ایک سال میں مکمل کیے جائیں۔ نکاسی آب کے منصوبہ 3 S-کو بھی فوری طور پر مکمل کیا جائے۔ ہنگامی بنیادوں پر کراچی کی سڑکیں، بجلی، پانی اور سیوریج کے نظام کی بحالی کے انتظامات کیئے جائیں۔

آٹھویں مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی میں صنعت اور تجارت کے فروغ کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کرے۔ بجلی، گیس اور پانی کی حسبِ ضرورت فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ کورونا سے متاثرہ تاجروں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے۔

نویں مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری شعبہ کی جامعات کا لجز اور اسکولوں کا معیار اور تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنائی جائے۔ طلبہ کے لیے ٹرانسپورٹ کے پوائنٹس سسٹم اور کرایہ میں رعایت کو بحال کیاجائے۔ تعلیمی اداروں میں فوری یونین انتخابات کرائے جائیں۔ فیسوں میں کمی کی جائے۔

دسویں مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ کراچی شہر میں ٹرانسپورٹ کا نظام اپ گریڈ کیا جائے۔ سر کلر ریلوے، ٹرام سسٹم، شہر کے لیے پانچ ہزار جدید بسیں، اور اس کے لیے سڑکوں کا نظام قائم کیا جائے۔ ملیر ایکسپریس وے کی فوری تعمیر کی جائے۔

گیارہویں مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں پولیس اور تھانہ کا نظام درست کیا جائے۔ عدالتی نظام کو فعال اور مؤثر بنایا جائے تا کہ بلا تاخیر انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔شہر میں بے گناہ قتل ہونے والے افراد بالخصوص سانحہ 12مئی، 19اپریل اور بلدیہ فیکٹری میں جلائے جانے والے شہداء کے تمام قاتلوں کو سزا دی جائے۔

بارہویں مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے ہر ضلع میں ایک ہزار بستروں پر مشتمل بڑا ہسپتال بنایا جائے۔

تیرہویں اورآخری مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور سکیموں کے متاثرین کو زمین یا ان کی کل رقم کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ کچی آبادیوں میں مقیم افراد کے لیے بنیادی انسانی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے۔