کورونا وائرس کنٹرول ہوا ہے ختم نہیں ہوا، بیرسٹرمرتضیٰ وہاب

156

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور پر قانونی تحفظات کے باوجود فرد جرم عائد کی گئی۔ اس امر سے یہ ثابت ہوگیا کہ احتساب کا نظام سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی بلڈنگ کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوروناوائرس، بیماریوں اور ڈاکٹرز کی رائے کے باوجود آصف علی زرداری عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

آصف علی زرداری نے ماضی میں بہادری کیساتھ جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا اور اب بھی کرینگے۔ وقت ثابت کرے گا کہ وہ بے بنیاد مقدمات سے سرخرو ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مقابلے میں پاکستان میں اللہ کے کرم سے کورونا وائرس کے نقصانات کم ہوئے ہیں۔

سندھ حکومت نے پاکستان میں لاک ڈاون کرکے کورونا کیسز کی کمی کے لیے بر وقت فیصلہ کیا۔ کریڈٹ کوئی بھی لے ہماری دلچسپی یہ ہے کہ قوم کو اس بیماری سے بچانا ہے۔ اب پورے ملک میں یہ تاثر ہے کہ کورونا وائرس ختم ہو گیا مگر میں یہ واضح کردوں کہ کورونا وائرس کنٹرول ہوا ہے ختم نہیں ہوا ہے۔

ہمیں احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سندھ میں کورونا کیسز کی شرح بڑھ کر دواعشاریہ چھ فیصد ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہوئی کہ وزیراعظم بتارہے ہیں کہ سردیوں میں گیس بحران آنے والا ہے۔ حکومتیں عوام کو مسائل کا حل دیتی ہیں نا کہ پریشان کرتی ہیں۔

گیس کے کنوؤں کی ملکیت پر بھی اب فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ گیس کیحوالے سے کوئی بھی فیصلہ وفاقی کابینہ نے نہیں مشترکہ مفادات کونسل نے کرنا ہے۔ جب گیس نہیں ہوگی تو صنعتوں کی بندش اور بیروزگاری بڑھے گی۔ وفاقی حکومت آئین پاکستان پر عمل نہیں کررہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چینی اسکینڈل، ادویات اسکینڈل، گندم بحران پر نوٹس وزیراعظم نے لیا۔جب بھی وزیراعظم نوٹس لیتے ہیں تباہی آتی ہے۔ وزیراعظم سے گزارش ہے کہ نوٹس لینا چھوڑدیں جب وزیراعظم نوٹس لیتے ہیں مافیاز خوش ہوجاتی ہیں۔

نوٹس لینے کااثر یہ ہوا کہ چینی کی قیمت 55روپے سے سو روپے ہوگئی ہے۔ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ نے وزیراعظم کو بارشوں سے متاثرہ سندھ کے عوام کی پریشانیوں سے آگاہ کیا مگر وزیراعظم یا وفاقی حکومت نے بارش متاثرین کی مدد کے لیے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہمارا سوال ہے کہ کیا سندھ کے بارش سے متاثرہ اضلاع پاکستان کا حصہ نہیں ہیں۔

سندھ حکومت متاثرین تو مدد کررہی ہے مگر وفاقی حکومت کچھ نہیں کررہی۔ میری تمام پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ کرونا وائرس کو سنجیدہ لیں۔ ہر فرد کے لیے ماسک پہننا ضروری ہے۔ہماری مدد کریں تاکہ ہم اس وائرس کو ختم کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان سب سے مقدم ہے۔ آئین پاکستان عوام اور ریاست کے درمیان سوشل کنٹریکٹ ہے۔ آئین پاکستان میں ہے کہ کس طریقے سے معاملات کو حل کیا جائے۔ وفاقی حکومت آئین پاکستان کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ آرٹیکل 158 یہ واضح طور بیان کرتا ہے جس صوبے میں گیس دریافت کی جائے گی پہلا حق ترجیح اس صوبے کے عوام کو دی جائے گی۔

آرٹیکل 172 سب آرٹیکل تین میں ہے۔ جوائنٹ آنر شپ ہوگی ہے۔ یہ وفاق کی اکیلے کی ملکیت نہیں ہے۔کچھ فرٹیلائزرز پلانٹ، کچھ گیس لیکج میں چوری ہو جاتی ہے۔ایس ایس جی سی پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

اس وقت نو سو سے ایک ہزار پچاس گیس دی جارہی ہے۔ 50 فیصد سے بھی کم گیس ہمیں دی جارہی ہے۔ باقی 1400 ایم ایم جی گیس کہاں جارہی ہے۔ ہماری ضرورت سردیوں میں کچھ بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آر ایل این جی اتنی اچھی ہے تو لے جائیں۔

سندھ کی حکومت، صنعتکار جب احتجاج کرتے ہیں تو یہ باتیں شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی ملکیت پر فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ آئین کو فالو کریں اور گیس کے حوالے سے فیصلہ کونسل آف کامن انٹرسٹ کو کرنے ہیں۔ نوے روز میں اس کی میٹنگ ہونی ہے۔ نو ماہ میٹنگز ہی نہیں ہوتی ہے۔ گیس کے فیصلے کابینہ نے نہیں کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تین جگہوں پر لوڈشیڈنگ ہورہی ہے نیپرا کیا کررہا ہے ہمیں سمجھ نہیں آرہا ہے۔ آئین پاکستان کو وفاقی حکومت فالو نہیں کررہی ہے اور سندھ کو اس کے حصے کی گیس نہیں مل رہی ہے۔

ادویات کے اسکینڈل پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا۔ چینی اور گندم کے بحران پر وزیر اعظم نوٹس لیا۔مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے وزیر اعظم نے نوٹس لیا۔ پھر ایک رپورٹ آئی ان کے وزرا ء نے کہا وزیر اعظم بڑے اچھا کام کیا۔ لیکن چینی کی قیمت کم نہیں ہوئی۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ عام آدمی کیسے خریدے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک شخص نے کہا میں اپنی والدہ کیلئے تیس ہزار کی ادویات خریدتا ہوں۔ وزیر اعظم نے اس میں اضافہ کردیا ہے۔ میں کیسے ادویات خریدوں گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو جس طرح رول ادا کرنا تھا ویسا نہیں کیا۔