اسکول کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کرنا مجرمانہ فعل ہے، اساتذہ

113

ڈگری (نمائندہ جسارت) اسکول کے اوقات میں لوڈشیڈنگ، اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو شدید پریشانی کا سامنا۔ حکومت سندھ کی جانب سے ایس او پیز کے تحت اسکولوں کے کھلنے کے اعلان کے بعد ڈگری کے سرکاری و نجی اسکولوں میں تدریسی عمل کا آغاز تو کردیا گیا ہے مگر اسکول کے 6 گھنٹے اوقات کے دوران 3 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ نجی اسکولوں کے اساتذہ اشرف علی خان، عرفان خانزادہ اور ذاکر آرائیں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسکول اوقات میں لوڈشیڈنگ کرنا حیسکو انتظامیہ کا انتہائی مجرمانہ فعل ہے۔ موجودہ صورتحال اور ایس او پیز کے تحت ہمارے طلبہ کی صحت اور زندگی کا سوال ہے، یہ انتہائی سنجیدہ اور خطرناک مسئلہ ہے۔ اسکول کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے، جس کی وجہ سے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت اور صوبائی وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کے سلسلے کو بند کیا جائے تاکہ طلبہ و طالبات پریشانی سے بچ سکیں۔