مستقبل کی سپرپاورکون؟

112

سمیع اللہ ملک
امریکااورچین کے درمیان فائیوجی ٹیکنالوجی اوردنیاکے وائرلیس انفراسٹرکچرپرکنٹرول کی لڑائی جاری ہے۔تاہم دنیاکی معیشت اورتحفظ سے متعلق ایک اہم معاملے پربہت کم توجہ دی جارہی ہے۔ یہ معاملہ ڈیجیٹل معیشت کے لیے ضروری معدنیات پرچین کے کنٹرول کاہے۔کوئی بھی نیافون، ٹیبلیٹ، گاڑی یاسیٹلائیٹ کچھ مخصوص معدنیات کے بغیرنہیں بن سکتے۔یہ معدنیات دنیاکے کچھ ہی ممالک میں پائے جاتے ہیں اوران کے گنے چنے متبادل ہی دستیاب ہیں۔ چینی کمپنیوں نے شفاف اوراکثرسیاسی طورپرغیرمستحکم ممالک کی منڈیوں میں ان معدنیات اوردھاتوں کی فراہمی پرکنٹرول حاصل کرلیاہے۔اس کام کے لیے انہوں نے بڑے پیمانے پرکی گئی چینی سرمایہ کاری کابھی استعمال کیاہے۔ان کمپنیوں کی رپورٹوں کے گہرائی سے مطالعے اوردیگرذرائع سے تحقیق کے بعدFP Analytics نے معدنیات کی عالمی مارکیٹ پراس غیرمعمولی قبضے کے حوالے سے پہلی جامع رپورٹ تیارکی ہے۔ حقائق پرمبنی اس رپورٹ سے معلوم ہوتاہے کہ چین کس تیزی اورموثرطریقے سے اپنے قومی عزائم کوپوراکررہاہے اوراس کے باقی دنیاپرکس قسم کے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
چین نے اپنے تیرہویں پانچ سالہ منصوبے (2016)کوNonferrousدھاتوں کی صنعت کے حوالے سے فیصلہ کن جنگ کادورکہا ہے۔اس منصوبے کاایک اہم حصہ ’’میڈ ان چائنا2025‘‘ پروگرام بھی ہے۔اس کامقصدقومی دفاع،سائنس اورٹیکنالوجی کے شعبے میں صنعت کاری کوبڑھاناہے۔ان مقاصدکے حصول کے لیے اکتوبر2016ء میں چین کی وزارت صنعت نے چین کودھاتوں کی صنعت میں عالمی طاقت بنانے کے لیے لائحہ عمل کااعلان کیا۔اس کام کے لیے چین معدنیات سے زرخیزخطوں میں سرکاری اورنجی کمپنیوں کو بھیج رہاہے تاکہ ان ممالک کے معدنی وسائل پرگرفت مضبوط کی جاسکے۔ان معدنی وسائل میں وہ معدنیات بھی شامل ہیں جن میں چین پہلے ہی ایک مستحکم پوزیشن رکھتاہے۔
چین نے اس کام کے لیے نہایت مناسب وقت کاانتخاب کیا۔ 2011ء سے 2015ء کے دوران دھاتی اشیاکی قیمتوں میں آنے والی کمی سے کان کنی کی بہت سی کمپنیاں سرمائے کے متعلق پریشان تھیں۔ یہاں تک کہ Angola Americanجیسی بڑی کمپنی کوبھی افرادی قوت اوراثاثوں میں کمی کرناپڑی۔چینی کمپنیوں نے کانوں کی براہ راست خریداری، دیگرکمپنیوں میں حصص کے حصول،کانوں کی موجودہ اورمستقبل کی پیداوارکوخریدنے کے معاہدوں اورنئے پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی شکل میں کان کنی کی کمپنیوں کو ان کی ضرورت کاسرمایہ مہیاکیااورخودمعدنیات کی عالمی پیداوارپرکنٹرول حاصل کرلیا۔
اگرچہ چین میں کافی معدنیات پائی جاتی ہیں،تاہم چین کو کوبالٹ، پلاٹینیم گروپ کی دھاتوں اور لیتھیم جیسی معدنیات کے فقدان کا سامناہے۔یہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے چین کے عزائم کے لیے اہم ہیں۔ چین نے ان معدنیات پرکنٹرول کے لیے دوطرح کی حکمت عملیاں اختیارکی ہیں۔ایک حکمت عملی یہ ہے کہ حکومتی ملکیت والی کمپنیوں State Owned Enterprises (ایس ای اوز) کو متحرک کیا جائے،جوحکومتی امداداورسرمایہ کاری کااستعمال کرتے ہوئے خودکودیگرممالک میں مضبوط کریں اورحکومتی افرادکے ساتھ مراسم پیدا کریں۔ دوسری حکمت عملی ان ہی مقاصدکے حصول کے لیے نجی کمپنیوں کے استعمال کی ہے۔
اپنی اس حکمت عملی کی وجہ سے چین معدنیات کے اس کھیل میں دنیاسے 10 سال آگے ہے۔رواں سال جون میں کانگومیں ہونے والی ایک کانفرنس میں53چینی کمپنیوں نے Union of Mining Companies کے قیام کااعلان کیا۔یہ دراصل چینی صنعت کاروں اورکانگوکی حکومت کے درمیان اس گہرے اوردیرپاتعلق کااعلان تھا،جوگزشتہ برسوں میں قائم ہوا۔چین اس وقت کانگوسے نکلنے والے کوبالٹ کے نصف حصے پراپناکنٹرول رکھے ہوئے ہے۔صدارتی انتخابات سے چھ مہینے قبل ہونے والی اس کانفرنس نے صدارتی امیدواروں کوواضح پیغام دیاکہ کوبالٹ کی صنعت پرچین کس قدرکنٹرول رکھتا ہے۔ یہاں اس بات کاذکربھی ضروری ہے کہ کانگوکی 80فیصد معیشت کاانحصارکوبالٹ پر ہے ۔
دنیامیں کوبالٹ کی کل پیداواراورمعلوم ذخائرکادوتہائی حصہ کانگومیں ہے،جس وجہ سے یہ بیٹری کی صنعت سے منسلک سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم ملک ہے۔اسی وجہ سے چین نے گزشتہ ایک دہائی میں سیاسی تعلقات کے فروغ اورپیداواری انفرااسٹرکچرمیں سرمایہ کاری کے ذریعے یہاں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہوئی ہے۔2007ء میں چین کے امپورٹ ایکسپورٹ بینک نے انفراسٹرکچر کی مد میں 6 ارب ڈالر (جو بعد میں 3 ارب ڈالر کردیے گئے) تانبے اورکوبالٹ کی کان کنی کے لیے3 ارب ڈالرفراہم کیے۔ یہ پراجیکٹ SinohydroاورChina Railway Groupکے تحت چلائے جارہے ہیں۔ ان کمپنیوں کے پاس تانبے اورکوبالٹ کی کان Sicomineکے86فیصدحصص ہیں۔ یہ کان افریقاکی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہے۔چین نے کانگوکی سرکاری کمپنی Gcaminesکی بحالی،صنعتی شعبے کے استحکام اورملازمت کے مواقع پیداکرنے کے وعدے سے کانگوکاخودپرانحصاربڑھالیاہے۔
کانگوکی قرضوں میں ڈوبی ہوئی کمپنیوں کوٹارگٹ کرکے چین کی سرکاری کمپنیوں نے کانوں میں حصص حاصل کیے اور اور اپنا اثر رسوخ بڑھایا۔ان کانوں میںFungurue Tenke نامی کان بھی شامل ہے،جہاں اعلی قسم کے تانبے اورکوبالٹ کے دنیاکے بڑے ذخائر میں سے ایک موجود ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ چین نے کانگوکی10بڑی کانوں اور 6 ترقیاتی منصوبوں کی ملکیت حاصل کرلی ہے۔چین نے کانگواوردنیاکی کوبالٹ پیدا کرنے والی سب سے بڑی کان میں بھی حصص حاصل کرلیے ہیں۔اس کی وجہ سے کانگومیں کوبالٹ کی کل پیداوارکے52فیصدپرچین نے اپنااثرورسوخ قائم کرلیاہے۔
دنیامیں کوبالٹ کی بڑھتی ہوئی مانگ کے سبب کانگوکے سابق صدرجوزف کابیلہ نے کان کنی کے قانون میں تبدیلی کی اورمنافع پر 50فیصدٹیکس عائدکردیا۔اس کے علاوہ انہوں نے کوبالٹ پرRoyalty Taxکوبھی تین گناکردیاہے تاکہ اس سے حکومتی منافع میں اضافہ ہو۔ہمسایہ ملک زیمبیامیں بھی اسی قسم کے ٹیکس کے بارے میں سوچاجارہاہے۔ سرکاری ملکیت کی کمپنیوں کواستعمال کرنے کی چین کی حکمت عملی افریقامیں خاص کامیاب رہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کان کنی کی صنعت میں جاری معاشی بدحالی میں ان کمپنیوں کولوگوں نے امیدکی ایک کرن کے طورپردیکھا۔ان کمپنیوں نے چائنا افریقا ڈیولپمنٹ فنڈ کے اشتراک سے خودکوجنوبی افریقا کے Bushveld Complexتک پھیلا لیا ہے ۔اس خطے میں دنیا کااعلیٰ ترین وینڈئیم اورپلاٹینئیم پایا جاتا ہے۔ پلاٹینئیم گاڑیوں کے کیٹیلیٹک کنورٹرمیں استعمال ہوتا ہے، جوگاڑیوں سے نکلنے والے خطرناک دھوئیں کوصاف کرتا ہے۔ وینڈیئم ہائی ٹیک صنعتوں، دفاعی صنعت، خلابازی کی صنعت اورقابل تجدیدتوانائی کے شعبوں کے لیے ایک انتہائی اہم اورلازمی دھات ہے ۔اس خطے میں چین کی سرمایہ کاری اورطویل مدتی معاہدوں کی وجہ سے جنوبی افریقا کی کل برآمدات میں معدنیات کاحصہ سب سے زیادہ ہوگیاہے اورمعدنیات کی کل برآمدات کا 50 فیصدحصہ چین جاتاہے۔اس وجہ سے جنوبی افریقاکی معاشی بحالی بھی اب براہ راست چینی سرمایہ کاری سے جڑی ہوئی ہے۔
چین جمہوری اورMarket-Orientedملکوں میں نجی ملکیت کی چینی کمپنیوں کااستعمال کررہاہے، جنہیں حکومتی سرمایہ مہیاکیا جاتا ہے۔ یہ کمپنیاں مقامی کمپنیوں میں حصص حاصل کرتی ہیں اور چھوٹے کاروباری لوگوں کی سرپرستی کرتی ہیں۔ نجی ملکیت کی کمپنیوں کواستعمال کرنے کی حکمت عملی آسٹریلیا، ارجنٹیناا ور چلی میں واضح طورپرکامیاب ہوتی ہوئی نظرآتی ہے۔ ان تین ممالک میں دنیاکا90فیصد لیتھیم پیداہوتاہے اوران ہی تین ممالک میں دنیامیں لیتھیم کے معلوم ذخائرکاتین چوتھائی حصہ بھی موجود ہے۔ صرف 6 برس میں چین نے لیتھیم کی مارکیٹ پرغلبہ حاصل کرلیاہے اوراب وہ لیتھیم کے59فیصدذخائرپراپنی گرفت رکھتاہے۔
چین کے سرکاری بینکوں کے سرمائے سے چین کی 2 بڑی کمپنیاںTianqi LithiumاورGanfeng Lithiumدنیامیں لیتھیم پیدا کرنے والی تیسری بڑی کمپنیاں بن گئی ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں نے دیگرچینی اداروں کے ساتھ مل کراپنی سرمایہ کاری اورکام کو پھیلانے کے لیے چلی کی کمپنیوں میں حصص حاصل کیے،ارجنٹینامیں ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی اورآسٹریلیامیں کانوں کی خریداری اورپروسیسنگ پلانٹ میں سرمایہ کاری کی۔
2018ء کی ابتدامیںTianqi Lithium نے چلی کی ایک کمپنیSQMکے24فیصدحصص حاصل کیے۔ یہ کمپنی دنیامیں لیتھیم پیدا کرنے والی دوسری بڑی کمپنی ہے۔دنیامیں پائے جانیوالے لیتھیم کے ذخائر کا 57 فیصد حصہ چلی میں پایا جاتا ہے، ان میںسے آدھے ذخائر کا کنٹرولSQMکے پاس ہے۔SQMکے حصص حاصل کرنے کی ڈیل معدنیات کی صنعت میں اب تک کی سب سے بڑی ڈیل ہے،جو14 ارب ڈالرمیں انجام پائی۔چلی کی حکومت نے ہمیشہ ملک کے لیتھیم کے ذخائرپرسخت کنٹرول رکھاہے کیونکہ یہ ملک کے جوہری پروگرام کے لیے اہم ہے، لیکن چینی کمپنی کوحصص کی فروخت نے اس معاملے میں شکوک پیداکردیے ہیں۔ اگرچہ اصل ڈیل میںTianqiکے بورڈ کو SQMکے حساس ڈیٹاتک رسائی سے روکاگیاہے (جاری ہے)
،تاہم اب بھی یہ چینی کمپنیSQMپرخاطرخواہ اثررسوخ رکھتی ہے۔
ارجنٹیناکے صدرنے ملک میں معدنیات کی برآمدات پرعائدٹیکسوں میں کمی کافیصلہ کیا ہے۔ یہاں چین معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کررہاہے اوربدلے میں مستقبل میں نکلنے والے لیتھیم کے حصول کے معاہدے کررہاہے۔ چینی کمپنیوں کے پاس ارجنٹینامیں جاری معدنی منصوبوں کے41فیصدحصص ہیں۔ان منصوبوں میں ارجنٹیناکے کل ذخائرکا37 فیصد شامل ہے۔اس پالیسی کے ثمرات بھی سامنے آناشروع ہوگئے ہیں۔ارجنٹیناسے چین کوہونے والی لیتھیم کی برآمدات میں2015ء سے2017ء کے دوران چارگنااضافہ ہواہے۔ یہی پالیسی آسٹریلیامیں بھی کامیاب رہی۔مذکورہ دونوں چینی کمپنیوں نیآسٹریلیامیں جاری لیتھیم کی کان کنی کے منصوبوں میں91فیصدحصص اورلیتھیم کے ذخائرکے 75 فیصد پر کنٹرول حاصل کیاہواہے۔
عالمی منڈی کے وہ وسائل جن پرچین کی اجارہ داری ہے، اب چین ان پر اپنا کنٹرول مزیدسخت کرنے کے لیے اقدامات کررہا ہے۔ چین ایسے قدرتی وسائل میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ اس کے پاس یہ معدنیات وافرمقدارمیں ہیں، جیساکہ دنیابھرکی وہ10 معدنیات اوردھاتیں جومقدارمیں سب سے کم ہیں اورہائی ٹیک صنعت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں وہ بھی وافرمقدارمیں ہیں اور یہی وہ دھاتیں ہیں جن پرچین کے کمرشل اورتزویراتی حریف انحصارکرتے ہیں۔ اپنے کنٹرول کومزیدمستحکم کرنے کے لیے چینی کمپنیاں نہ صرف ان دھاتوں کی کانوں کی خریداری کررہی ہیں بلکہ ان کی پیداوارکی خریداری بھی بڑے پیمانے پرکررہی ہیں، جس سے چین کوہائی ٹیک صنعت میں سبقت حاصل ہوجائے گی بلکہ اس کی جیوپولیٹیکل طاقت میں بھی اضافہ ہوگا۔
شایدمعدنی وسائل پراپنے غلبے کوبرقراررکھنے اورنادرواہم کیمیائی عناصرکودریافت کرنے کی خواہش کے اعتبارسے چین کی مثال نہایت موزوں ہے۔71ایسے مشہورکیمیائی عناصر جنہیں باآسانی تجارتی بنیادوں پردستیاب کیاجاسکتاہے لیکن چین دانستہ ایسانہیں کر رہا۔ یہ سارے عناصردفاعی سازوسامان،خلابازی،برقیات اورقابل تجدید توانائی کی صنعتوں کے لیے اہم ہیں۔ گزشتہ دودہائیوں میں چین نے ان اہم کیمیائی عناصرکی کل پیداوارکا80فیصدنکالااوران معدنیات کوصاف کیاہے۔2010میں چین نے جاپان کوان کیمیائی اشیا کی فراہمی میں تخفیف کردی تھی،جس کی وجہ چین کے مشرقی سمندرمیں کشیدگی کی فضاکاپیداہوناتھا۔اس کے اگلے ہی سال چین نے ایکسپورٹ کوٹہ نافذکردیا،جس سے صنعتی اداروں اورحکومتوں میں افراتفری پیداہوگئی لیکن جاپان کے سِوادیگرممالک نے اس باروقتی اقدامات توکیے لیکن مستقبل کے حوالے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی۔
1990ء میں چین نےRare Earth Elements کوتزویراتی وسائل قراردے کراس شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری پرپابندی لگادی۔ 6سرکاری کمپنیاں اس ساری صنعت پرمکمل کنٹرول رکھتی ہیں۔ 2018ء میں حکومت نے اس کی پیداوار میں 63 فیصدکمی کردی۔ جب کہ دوسری طرف ان معدنیات کی مانگ میں 2025ء تک 71 فیصد اضافہ ہوگا۔ اسی طرح چین دیگرملکی معدنیات پربھی مکمل کنٹرول کئے ہوئے ہے۔ چینی کمپنیاں تیزی سے دیگرممالک میں بھی ان معدنیات کی کانیں خریدرہی ہیں۔اسی طرح روس بھی اس شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری کو محدود کرتا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس امریکاکیRare Earth Elements کی درآمدات میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف 2018ء میں امریکا نے 160ملین ڈالرکی درآمدات کی ہیں۔اگرچہ ٹرمپ نے اس معاملے پرکچھ احکامات جاری کیے، لیکن اس پرمزیدکام نہیں ہوسکاہے۔اس کے برعکس چینی کمپنیاں تیزی سے دنیا بھرکی کمپنیوں سے شراکت داریاں کررہی ہیں اور چین نے بحیثیت ریاست اس پربھرپورتوجہ دے رکھی ہے۔جس سے چین کی جیوپولیٹیکل طاقت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔
وسائل کی ان اقسام پرکنٹرول قائم کرنے سے چین کواس بات کااندازہ ہوجائے گاکہ آیا وہsemiconductorکی صنعت پرسبقت لے جانے سے وہ اس صنعت میں بھی مرکزی حیثیت حاصل کرلے گا۔ہائی ٹیک انڈسٹری کے لازمی جزوکے طورپراستعمال ہونے والی معدنیات پرچین کاکنٹرول تقریبامکمل ہوچکاہے۔اس انڈسٹری میں مزیدترقی کے لیے جن معدنیات کی ضرورت ہے، ان 7 میں سے 6 پر چین کا 57 فیصدکنٹرول ہے، تاہم چین کے پاس اس صنعت کی صف اوّل کی کمپنیوں جیسے semiconductor تیار کرنے کی صلاحیت کااب بھی فقدان ہے اور چین اب بھی تقریبا260ارب ڈالران کی درآمدات پرخرچ کررہا ہے۔ حکومت اپنے حریفوں کوپیچھے چھوڑنے کے لیے اس شعبے پراپنی توجہ مرکوزکیے ہوئے ہے۔چین نے اس شعبے میں ریسرچ اینڈڈویلپمنٹ پر2014ء سے 2017ء تک20ارب ڈالرکی خطیررقم خرچ کی ہے۔
اگرچین اس صنعت میں بھی مکمل مہارت حاصل کرلیتاہے اورمنڈیوں میں اس صنعت سے متعلق اشیاکی بھرمارکرتاہے(جیساکہ اس نے سولرپینل اورونڈٹربائین کے معاملے میں کیاتھا)تونہ صرف ان اشیاکی دیگرصنعتیں تباہ ہوجائیں گی بلکہ ہماری قومی سلامتی، دفاعی نظام،ہماری معیشت کاانحصاربھی چینی صنعتوں پربڑھ جائے گا۔جیساکہ سرکاری حکام اب semiconductorکی فروخت پر نگرانی شروع کرچکے اوراس کی فروخت کومحدودکرتے جارہے ہیں،اسی طرح امریکی حکومت نے مختلف چینی کمپنیوں کو’’سیمی کنڈکٹر‘‘ کی فروخت پرعارضی پابندی لگائی ہے ان اقدامات سے چین کی مقامی صنعت کو خود مختار بنانے کانہ صرف جذبہ بڑھے گابلکہ وہ اس پرتیزی سے کام بھی کرے گا۔ اصل توجہ اس بات پردینی چاہیے کہ چین ان معدنی وسائل کے خام مال پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کرپائے اورنہ ہیcomputing powerخ ودمختاری حاصل کرے۔
یہ کوئی حتمی مشاہدہ نہیں ہے، تاہم اس بات پرازسرنوغورکرنے کی ضرورت ہے کہ ہم تزویراتی صنعتوں اورطویل مدتی سرمایہ کاری کوکتنی اہمیت دیتے ہیں،اس کے علاوہ معاشی خوشحالی اورقومی سلامتی کے شعبے کواس ڈیجیٹل دورمیں کس تناظر میں دیکھتے ہیں۔کچھ ممالک تواس حوالے سے نہ صرف سوچ رہے ہیں بلکہ بھرپوراقدامات بھی کررہے ہیں۔ماہ اپریل میں امریکی حکام نےlithiumکی صنعت سے تعلق رکھنے والے ماہرین اوراسٹیک ہولڈرزسے ایک میٹنگ کی،جس میں انہوں نے بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے ملکی طور مکمل سپلائی چین (Supply Chain)بنانے پرحکمت عملی تشکیل دینے کی بات یہ محض ایک آغازہے۔
یاد رہے کہ امریکاچین تجارتی جنگ 6 جولائی 2018ء کواس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکانے چینی درآمدات کے 34 ارب امریکی ڈالرپر25فیصد محصول لگایاتھاجو 2018ء اور2019ء کے دوران عائد ٹیکسوں کے سلسلے کی پہلی کڑی تھی جس پرٹرمپ نے باضابطہ طورپر15جنوری 2020ء کو دستخط کرکے اس کی دفعات کو15فروری 2020ء سے نافذ کرنے کااعلان کردیا۔اس معاہدے کے بعددنیاکی 2بڑی معیشتیں ایک تلخ تجارتی جنگ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئیں۔امریکااورچین نے ایک دوسرے کے سامان کی مالیت کے سیکڑوں اربوں ڈالرپرمحصولات عائد کرنے کااعلان کرکے دنیاکوایک نئی تجارتی جنگ میں الجھادیا۔ ٹرمپ نے جہاں طویل عرصے سے چین پرغیرمنصفانہ تجارتی طریقوں اوردانشورانہ املاک کی چوری کاالزام عائد کیاوہاں چین نے جوابی الزام میں کہاکہ امریکا عالمی اقتصادی طاقت کے طورپراس کے عروج کوروکنے کی کوشش کررہاہے۔تاہم اس لفظی جنگ کے بعدمذاکرات میں15ج نوری 2020ء کو دونوں فریقوں نے ابتدائی معاہدے پر دستخط تو کر دیے لیکن کچھ معاملات حل نہیں ہوسکے۔
اس معاہدے پربظاہردستخط کامقصدتجارتی جنگ میں آسانی پیداکرنابتایاگیاجس نے عالمی منڈیوں کوجھنجھوڑکررکھ دیااور عالمی معیشت کوخاصا بوجھ برداشت کرناپڑا۔ٹرمپ نے اس معاہدے کوامریکی معیشت کے لیے ’’تبدیلی‘‘ جبکہ چینی رہنماؤں نے اس کو ’’جیت’‘ کامعاہدہ قراردیا۔چین نے امریکی درآمدات کو 2017ء کی سطح سے 200 ارب ڈالر بڑھانے اوردانشورانہ املاک کے قواعدکو مستحکم کرنے کاوعدہ کیا۔ اس کے بدلے میں امریکانے چینی مصنوعات پرلگائے گئے کچھ نئے نرخوں کوآدھاکرنے پراتفاق کرلیا، تاہم سرحدی ٹیکس کی اکثریت اپنی جگہ پرموجود ہے جس کی وجہ سے کاروباری گروپوں کومزید بات چیت کامطالبہ کرنے پر مجبورکیاگیاہے۔یوایس چیمبرآف کامرس میں چائناسنٹرکے صدرجریمی واٹرمین نے کہا ہے کہ’’آگے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے تاہم آج لطف اٹھانا چاہیے لیکن جلدہی دوبارہ واپس مذاکرات کی میزپرواپس آنے کے لیے مزیدانتظارنہیں کرناپڑے گا‘‘۔
امریکااورچین 2018ء سے ’’ٹٹ فارٹیٹ‘‘ ٹیرف جنگ میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے 450 ارب ڈالرمالیت کے تجارتی سامان پراضافی درآمدی ٹیکس کے جاری تنازع نے سرمایہ کاروں کی تجارتی روانی کومتاثراورعالمی معاشی نموکو مایوس کیا ہے۔ تجارتی تجزیہ نگاروں اور عالمی مالی ماہرین کے مطابق اگراس مایوسی کابروقت تدارک نہ کیاگیاتویہ سردجنگ دنیاکی تباہی اورتاریکی کاسبب بھی بن سکتی ہے۔