ہوٹل کے مزدور رہنما کا ردعمل PC

102

PCہوٹل کے مزدور رہنما غلام محبوب نے ایک بیان میںکہا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے فیصلے سے اصل مجرم بچ گئے۔ اس فیکٹری میں ٹریڈ یونین کا وجود ہوتا EOBIبھی اور دیگر جگہ مزدور رجسٹرڈ ہوتے تو شاید ان مزدوروں کو انصاف ملتا اور گر صحیح ٹائم پر انکوائری ہوجاتی تو بڑے بڑے مگر مچھ قابو میں آجاتے۔ لیکن کیا کیا جائے اس سیاست کا اپنی اپنی حکومت بچانے کے لیے شہید مزدوروں کا سودا کردیا گیا۔عدالت اصل کرداروں کا پتہ لگاتی تو ان کو سزا ہوجاتی۔ لیکن پھر حکومت گر جاتی یہاں پر انصاف حاصل کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ اس کی وجہ سے مزدوروں کا اکٹھا نہ ہونا۔ کیونکہ جب مزدور اپنی گرد ن دوسروں کے ہاتھ میں دیں گے تو پھر ان کی مرضی ہے۔ آخر میں غریب آدمی کا ایک سہارا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اللہ تعالیٰ سے انصاف مانگیں۔ نیا پاکستان زندہ باد اور مزدور اتحاد زندہ باد۔۔