ادارے مزدوروں کو تحفظ فراہم کریں

100

نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ کے صدر نظام الدین شاہ، جنرل سیکرٹری شکیل احمد شیخ نے سائٹ شیرشاہ کراچی میں فیکٹری کی چھت گرنے کے نتیجے میں دو محنت کشوں کے زخمی ہونے کے باوجود متعلقہ محکموں کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کی بے حسی کو شرم ناک قرار دیا ہے۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ شاید محکمہ محنت اور محکمہ صنعت کے ذمہ دار کسی بڑے اور المناک حادثے کے منتظر ہیں کہ جس کے بعد سیاست دانوں اور وزیروں کے فوٹو سیشن کرائے جا سکیں اور متاثرین کو معاوضے کے نام پر بھاری رقمیں ہڑپ کی جا سکیں۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ محکمہ محنت اور محکمہ صنعت اور سائٹ لمیٹڈ کے ذمہ دار قوائد کے مطابق صنعتی اداروں کا معائنہ نہیں کرتے بلکہ چمک کے نتیجے میں تمام عمارتوں اور ماحول کو قوائد کے مطابق قرار دے دیتے ہیں جس کے نتیجے میں آئے روز صنعتی اداروں میں حادثات رو نما ہو تے رہتے ہیں اور غریب محنت کش اپنے ہی خون میں نہا جاتے ہیں۔ ان رہنمائوںنے وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور چیف جسٹس پاکستان سے اپیل کی ہے کہ اس حادثہ کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائے اور تحقیقات کے بعد ذمہ دار قرار پانے والے افراد اور اداروں کے ذمہ داران کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔