سید علی گیلانی اور قاضی حسین احمدؒ

305

پچھلے دنوں حکومت پاکستان نے ممتاز کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو تحریک آزادی کشمیر میں ان کی نمایاں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز ’’نشان پاکستان‘‘ سے نوازا تو کشمیری دوستوں کا کہنا تھا کہ اِس موقع پر سابق امیر جماعت اسلامی مجاہد ملت قاضی حسین احمد مرحوم بہت یاد آئے جو پاکستان میں سید علی گیلانی کے پُرجوش ہمنوا اور پشتیبان تھے۔ 1990ء کی دہائی میں جب مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد آزادی کا آغاز ہوا تو سید گیلانی نے سیاسی محاذ پر اس جدوجہد کو تیز کرنے کے لیے کُل جماعتی حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی اور اس کے ذریعے مسلح جدوجہد کو سیاسی تائید اور اخلاقی حمایت فراہم کی۔ گیلانی صاحب کا موقف تھا کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور منصفانہ حل کے تمام راستے بند کرکے کشمیری عوام کو ہتھیار اُٹھانے اور مسلح جدوجہد کرنے پر خود اُکسایا ہے اور یہ جدوجہد اب اسی وقت ختم ہوسکتی ہے جب بھارت کشمیریوں کو اُن کا حق دینے پر آمادہ ہوجائے۔ پاکستان میں قاضی حسین احمدؒ نے اس موقف کی پُرجوش تائید کی اور دامے، درمے، قدمے، سخنے ہر سطح پر مقبوضہ کشمیر میں برپا جہاد کی حمایت کے لیے میدان میں نکل آئے۔ انہوں نے افغانستان پر سابق سوویت یونین کے حملے کے بعد افغان جہاد کو منظم کرنے میں بھی فعال کردار ادا کیا تھا اور مقبوضہ کشمیر میں جہاد شروع ہوا تو اسی کی پشیتبانی کے لیے بھی انہوں نے اپنی جان لڑا دی۔ قاضی صاحب وسیع المشرب اور نہایت کھلے ذہن کے لیڈر تھے۔ انہوں نے کشمیریوں کی جہادی تنظیم ’’حزب المجاہدین‘‘ ہی کی سرپرستی نہیں کی بلکہ اُن تمام جہادی عناصر کی حوصلہ افزائی کی جو بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف اس کارِ عظیم میں حصہ لے رہے تھے۔ سید علی گیلانی بھی ہمیشہ سے اسی مسلک پر کار بند رہے ہیں۔ ایک زمانے میں جہادی تنظیم ’’لشکر طیبہ‘‘ کی سربراہی حافظ محمد سعید صاحب کے پاس تھی۔ کچھ لوگوں نے سید گیلانی اور حافظ سعید کے درمیان بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی تو گیلانی صاحب نے فوراً اس کی تردید کی اور کہا کہ حافظ صاحب ہمارے محسن ہیں وہ اہل کشمیر کا دُکھ کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔
سید علی گیلانی اور قاضی حسین احمدؒ کی پہلی ملاقات 1981ء میں حج کے موقع پر ہوئی۔ اس وقت میاں طفیل محمد جماعت اسلامی پاکستان امیر اور قاضی صاحبؒ سیکرٹری جنرل کے منصب پر فائز تھے۔ میاں صاحب سے گیلانی صاحب کا مسئلہ کشمیر پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا، جب کہ قاضی صاحب سے افغانستان میں جہاد کی صورت حال اور سوویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کی کامیابیوں کی روداد سننے کا موقع ملا۔ یہ دراصل قاضی صاحب کا ایک خصوصی نشست سے خطاب تھا جس میں انہوں نے افغانستان میں جہاد کی صورت حال پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور پیش گوئی کی کہ سوویت یونین بہت جلد نہایت رسوائی کے ساتھ افغانستان سے پسپا ہونے والا ہے۔ قاضی صاحب کی یہ پیش گوئی پوری ہوگئی۔ حج کے دوران دونوں قائدین کو تفصیل سے ملنے کا موقع بھی ملا اور قاضی صاحبؒ نے سید گیلانی کو یقین دلایا کہ وہ ذاتی طور پر اور جماعت اسلامی اجتماعی طور پر ان کے موقف کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ابھی مقبوضہ کشمیر میں جہاد برپا نہیں ہوا تھا لیکن حالات بڑی تیزی سے جہاد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ آخر 1988ء کے اواخر میں بھارت کے خلاف معرکہ برپا ہوگیا۔ قاضی حسین احمدؒ سے سید گیلانی کی دوسری ملاقات بھی حج کے موقع پر 1995ء میں ہوئی۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب مقبوضہ کشمیر جہاد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ مجاہدین کی پیش قدمی جاری تھی اور بھارتی فوج شدید دبائو میں تھی۔ اس ملاقات میں حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین بھی شریک ہوئے جب کہ پروفیسر خورشید احمد بھی شریکِ مجلس تھے۔ اکابرین کی اس ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں جہاد کی صورتِ حال اور مختلف عوامل پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔ قاضی صاحبؒ نے اس موقع پر سید گیلانی کے ساتھ غیر معمولی التفات کا اظہار کیا اور ایک قیمتی گھڑی انہیں تحفے میں دی۔ گیلانی صاحب حج کی ادائیگی کے بعد سرینگر واپس پہنچے تو کچھ دنوں بعد یکم اکتوبر 1996ء کو حیدر پورہ میں ان کے مکان پر راکٹوں سے شدید حملہ ہوا جس سے مکان میں آگ لگ گئی، کھڑکیوں کے تمام شیشے چکنا چور ہوگئے اور دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ تاہم گیلانی صاحب اور ان کے اہل خانہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ اس سانحے کی اطلاع قاضی صاحب کو ملی تو انہوں نے بلا توقف کہا ’’اللہ تعالیٰ گیلانی صاحب سے کوئی خاص کام لینا چاہتا ہے‘‘۔
قاضی حسین احمدؒ سید علی گیلانی کی رائے اور ان کے موقف کو کتنی اہمیت دیتے تھے اس کا اندازہ اس واقعے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکا کے دبائو پر مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کرکے بھارت کے ساتھ دوستی بڑھانے کا عمل شروع ہوا تو سرینگر اور مظفر آباد کے درمیان ’’دوستی بس‘‘ چلانے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس تجویز پر عملدرآمد کی تیاری زور شور سے شروع کردی گئی۔ مشرف حکومت نے سید گیلانی سمیت تمام کشمیری قائدین کو دوستی بس کے ذریعے سرینگر سے مظفر آباد آنے کی دعوت دی تو گیلانی صاحب کے سوا سب نے اس دعوت کو بخوشی قبول کرلیا۔ گیلانی صاحب کا کہنا تھا کہ دوستی بس ایک دھوکا ہے جس کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اس لیے وہ یہ دعوت قبول نہیں کرسکتے۔ جب کہ حکومت پاکستان کی شدید خواہش تھی کہ گیلانی صاحب ضرور آئیں تا کہ دوستی کے اس عمل کا اعتبار و وقار قائم ہو۔ آزاد کشمیر اور پاکستان کی جماعت اسلامی کے اکابرین بھی ان کے پاکستان آنے کے حق میں تھے اور ان پر دبائو ڈال رہے تھے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ البتہ قاضی حسین احمدؒ اس معاملے سے الگ تھلگ رہے۔ جب ہر طرف سے دبائو کے باوجود گیلانی صاحب نے اپنا فیصلہ نہ بدلا تو قاضی صاحبؒ سے درخواست کی گئی کہ وہ ذاتی طور پر گیلانی صاحب سے رابطہ کرکے انہیں پاکستان آنے پر آمادہ کریں۔ اس پر قاضی صاحبؒ نے کہا کہ گیلانی صاحب حالات کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں اگر وہ اپنے فیصلے کے حق میں ٹھوس دلائل رکھتے ہیں تو انہیں اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور نہ کریں۔ اس طرح قاضی صاحب نے بالواسطہ گیلانی صاحب کی فراست اور ان کے فیصلے کی تائید کی۔
دوستی بس کے ذریعے تمام کشمیری قائدین مظفر آباد آئے اور پاکستان کا دورہ بھی کیا لیکن یہ ’’دولہا کے بغیر بارات‘‘ والا معاملہ تھا۔ گیلانی صاحب کے بغیر یہ دورہ پھیکا رہا۔ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ گیلانی صاحب کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ دوستی کا یہ عمل دیکھتے ہی دیکھتے دشمنی میں تبدیل ہوگیا۔ اب نہ دوستی بس ہے نہ دوطرفہ تجارت ہے اور بھارت کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ پروفیسر خورشید احمد نے جو گیلانی صاحب کے پاکستان آنے کے حق میں تھے، ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ محترم سید علی گیلانی نے تحریک آزادی کشمیر کو اپنی بصیرت، عزم و حوصلے اور جہد مسلسل سے درست سمت پر گامزن رکھا ہے۔ (بحوالہ معارف فیچر 16 اگست 2020ء)۔
سید علی گیلانی اور قاضی حسین احمدؒ کے کردار اور قیادت میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ قاضی صاحب جہاد زندگانی میں سرخرو ہو کر اپنے ربّ کے حضور پیش ہوچکے ہیں اور گیلانی صاحب اپنے بلاوے کے انتظار میں ہیں۔