جماعت اسلامی کا کامیاب حقوق کراچی مارچ

235

پانی ، بجلی، سیوریج سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے سے محروم کراچی کا مقدمہ جماعت اسلامی کراچی نے لڑا اور خوب لڑا۔ اتوار کے روز کراچی کی شاہراہ قائدین پر جماعت اسلامی کے زیر اہتمام حقوق کراچی مارچ ہوا ہزار ہا لوگوں نے شرکت کی بلاشیہ یہ صرف جماعت اسلامی کے کارکنوں کا مارچ یا مظاہرہ نہیں تھا بلکہ اس میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ جماعت اسلامی اس سے قبل بھی لوگوں کو ان ہی کے مسائل پر آواز اٹھانے کے لیے بلاتی رہی ہے لیکن اس مرتبہ جو پذیرائی جماعت اسلامی کی دعوت کو ملی اور لوگوں نے حقوق کراچی مارچ میں بھرپور شرکت کی وہ اس سے پہلے نہیں تھی یقینا اس میں جماعت اسلامی کراچی اس کے امیر حافظ نعیم الرحمن اور ٹیم کی محنت کا دخل ہے۔ اس مارچ میں چھوٹے تاجر شریک ہوئے، خواتین شریک ہوئیں۔ وہ تاجر رہنما بھی شریک ہوئے جو عام طور پر سیاسی جلسوں اور جلوسوں سے خود کو دور رکھتے ہیں لیکن جماعت اسلامی نے ان کے جو مسائل اٹھائے ہیں وہ ایسے ہیں کہ تاجر، صنعتکار، دکاندار، ملازمت پیشہ افراد، ڈاکٹر دواساز، درآمد کنندگان یا برآمد کنندگان سب ہی کے مسائل ہیں۔ جماعت نے مزدور کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے طلبہ کا بھی۔ خواتین کا بھی اور معاشرے کے ہر شعبے کا۔ کراچی کی مردم شماری درست ہوگی اور یہ تین کروڑ قرار پائیں گے تو ان کی سیٹیں زیادہ ہو جائیں گی۔ جب آبادی کی درست نشاندہی ہوگی تو مرکز اور صوبہ اس مناسبت سے فنڈز دینے کا پابند ہوگا۔ جب آبادی درست قرار پائے گی تو حلقہ بندیاں بھی ٹھیک ہو جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی کی بجلی، پانی کے مسائل کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ بااختیار شہری حکومت کا قیام یہ سارے مطالبے صرف جماعت اسلامی کے تو نہیں۔ کراچی کے نوجوانوں کو ملازمتیں دینا کس کی ذمے داری۔ ان پر ہی دروازے کیوں بند ہیں۔ آواز اٹھانے پر لسانیت کا الزام لگ جاتا ہے۔ جماعت اسلامی نے بڑی جرأت سے سارے مطالبات اٹھائے۔ اب اس کامیاب اجتماع میں فیصلہ ہوا کہ حقوق کراچی مطالبات پر عوامی ریفرنڈم ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے 14 اکتوبر کو پورے ملک میں یوم حقوق کراچی منانے کا اعلان کیا۔ اس کامیاب مارچ پر حافظ نعیم اور پوری کراچی جماعت مبارک باد کی مستحق ہے۔