عورت کی معراج

119

صبا احمد
حجاب انسانیت اور عورت پر نہ صرف رحمت ہے ۔بلک اس کی معراج ہے ۔عورت کے معنی ہے ڈھکی ہوئی اور چھپی ہوئی چیز یا مخلوق ہے ۔جب اللہ تعالی نے حضرت حوا کو بنایا تو ان کو چادر سے ڈھانپ دیا ۔جب حضرت آدم علیہ السلام کو دکھایا تب بھی وہ ڈھکی ہوئی تھی ۔
اللہ تعالی کو بھی عورت چادر میں ڈھکی ہوئی پسند ہے ۔امی ثنا کو بتا رہی تھی ۔وہ فرسٹ ایئر میں تھی شادی اور خاندان کی ہر تقریب پر بال کھول کر جاتی چونکہ بال لمبے اور گھنے تھے ۔لمبا قد گلابی رنگ ہر ایک کی منظور نظر تھی اس عمر میں بننے سنورنے کا شوق ہوتا ہے ۔۔میرے ساتھ بازار جا رہی ہو ؟
امی نے کہا لیکن بیٹا بال کھول کر بازار جانے کی کیا منطق ہے۔ حدود کے اندر ہی سب کچھ اچھا لگتا ہے
وہ عبایا پہن کر آئیں تو ثنا بولی امی آپ کو ہر جگہ عبایا میں جانا ہوتا ہے ۔ اپنی ساری لک خراب کر دیتی ہیں
” یہ اللہ کا حکم ہے ”حیا نہ کرو تو جو چاہے کرو “ اللہ تعالی بھی انسان کی رسی دراز کر دیتا ہے ۔ اس سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔مجھے رب کو راضی کرنا ہے دنیا کو لک نہیں دیکھانی “ امی نے جواب دیا ”٤ستمبر یوم حجاب ہے آپ تو خواتین کی ریلی میں جائیں گی “۔امی سے ثنا نے کہا ”جومغربی تنظیمیں ہماری خواتین کو بھڑ کاتی ہیں ۔کہ اسلام خواتین کو قیدکر کے رکھتاہے۔قید میں گھر کی چار دیواری مگر اس کے باوجود اسلام نے عورت کو ہر طرح کے حقوق سے نوازا ہے ک دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔ امریکا میں ان کے اسکارف کھینچےگئے اور فرانس میں حجاب پر جرمانہ مروہ شرینی کو جرمنی کی عدالت میں شہید کیا گیا “ “امی نے کہا ”ثنا بولی مغرب نہیں آپ کو کچھ کہتا بلکہ آپ کے اپنے لوگ بھی کہتے ہیں ۔“ امی نے تعجب سے پوچھا ! کون ! ….
اس دن بازار میں جب دکان پر مجھے کوئی لباس پسند نہیں آیا ۔تو دکاندار نے کہا کہ ”ماں عبایا میں گھوم رہی ہے ۔ بیٹی جینز میں–
“تو بیٹا مجھے بات سننی پڑی آپ کی وجہ سے اگر آپ میرے کہنے پر عبایا پہن لیتی تو یہ نہ سننا نہ پڑتا ہم مائوں کی آجکل یہی بد قسمتی ہے ۔کہ اولاد کو مغری لباس میں ترقی اورجدت نظر آتی ہے ۔“ امی نے کہا ”اسلام تو مردوں کو بھی عورتوں کی طرح اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے ۔سورہ النور مگر مسلم مرد بھی تو اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں ۔ثنا نے کہا
امی بولیں ہر ایک سے حساب ہو گا تم میری بیٹی ہو مجھے تمہاری فکر ہے
ثنا جلدی تیار ہو جائو
امی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا پھر تم نے بال کھلے چھوڑے ہیں ۔مت کیا کرو بیٹا ہماری مذہب میں منع ہے۔
حدیث ہے کہ ًعہد صحابہ رضوان اللہ اور تابعین کے بعد جتنے بھی مفسرین گزرے ہیں انہوں نے اور امام طبری نے بھی اس آیت کامفہوم بتایا کہ شریف عورتیں اپنے لباس میں لونڈیوں سے مشابہ بن کر گھروں سے نہ نکلیں کہ ان کے چہرے اور سر کے بال کھلے ہوئے ہوں بلکہ انہیں چاھیے کہ کہ اپنے اوپر چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں تاکہ کوئی فاسق ان کو چھیڑنے کی جرأت نہ کرے ۔
امی ” پھر درس “ ثنا نے کہا امی ”میں اپنا فرض ادا کرتی رہوں گی “. ۔ولیمے سے فارغ ہوئی تو دعوتیں شروع ہو گئیں ۔۔
مہمانوں کوتفریح کےلیے لے اور شاپنگ کیلیے بھی جانے کا مرحلہ شروع ہو گیا ۔کیونکہ دوسرے شہروں سے آئے رشتوں داروں کا یہ مشغلہ ہوتا ہے ۔لارنس گارڈن گئے سب لڑکیوں نےپھر بال کھلے چھوڑے مائوں کے منع کرنے کے باوجود ۔مگر وہاں دوتین کو تو سبق مل گیا ۔وہاں درختوں کو دوائی ٸ لگائی گئی تھی کیونکہ وہ ایک ڈیرھ صدی پرانے تھے ۔ اور انہیں دیمک لگ رہی تھی لہٰذادوائیاں لگائی گئی تھیں ۔ کوئی نوٹس بھی نہیں لکھ کر لگایا ہواا تھا ۔ تصویریںلینے کے لیے ۔لڑکیاں حسب عادت درختوں کے پاس کھڑی ہوئیںدوا ان کے بالوں سے چپک گئی بال چپک گئے اتنا دھویا مختلف تیل لگایا شیمپو کیے ۔مگر بال الگ نہ ھوئے آخر کار کاٹنے پڑے ۔
ثنا کے بھی بہت زیادہ بال گرنے لگے وہ پریشان رہنے لگی تو امی نے کہا ” اللہ تعالی سے معافی مانگو قیامت کے قریب عورتیں اپنے بال کھول کر پھریں گی اور زمین پر پائوں پٹختی پھریں گی ۔یعنی اونچی ایڑھی کی جوتیاں پہنیں گی جن سے زمین پر چلنے سے آواز پیدا ہوتی ہے یہ بھی غرور کی نشانی ہے جو اللہ کو زمین پر پسند نہیں ۔۔۔تو آجکل یہی ہورہا ہے ۔“ثنا کو اپنی نافرمانیاں یاد آئیں کہ میں امی کی ہر بات پر فضول دنیاوی دلائل دیتی ہوں ۔ اللہ اور آخرت کو بھول بیٹھی ہوں
۔اللہ تو ستر مائوں سے زیادہ پیار کرتا ہے اس کو کتنا دکھ ہوتا ہوگا کہ نبیﷺ کی امت کی بیٹی اس کے حکم کی پاسداری نہیں کرتی ۔اس نے اللہ تعالی سے رو رو کر معافی مانگی ۔
اور عبابا لینے کا ارادہ اور اللہ تعالی سے وعدہ کیا ۔