‪ لمحہ فکر

97

کرن وسیم
بحیثیت مسلمان یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے ملک میں شرعی سزاؤں تک بات کیوں نہیں پہنچنے دی جاتی بےتکے اور خودساختہ اقدامات اور فیصلوں کو قرآنی اور الٰہی احکامات پر فوقیت دینا کہاں کی عقلمندی اور دوراندیشی ہے۔کیا سنگسار (رجم ) کا شرعی حکم ایک مسلم معاشرے کو کفایت نہ کرےگا۔ نعوذباللہ…
ایک انتہائی غیراخلاقی فعل کی مناسب ترین سزا ہمارے دین میں موجود ہوتے ہوئے بھی ہم دوسرے غیر انسانی , غیر فطری طریقے تلاشتے پھر رہے ہیں۔کم علم عوام کے غم و غصے کو ایک غیر شرعی سزا کے نفاذ کی طرف موڑا جارہا ہے۔حق بات پر یکجا نہ ہونیوالی اقوام پر سزا کے طور پر ایسے عقل و شعور سے عاری حکمران ہی مسلط ہوجاتے ہیں۔جو کسی بھی نتیجے کی پرواہ کیئے بغیر دشمنان دین و ملت کے حکم پر سر تسلیم خم کردیں۔ احکام الٰہی سے رجوع کرنا عار سمجھیں۔
حق کی قبولیت میں اتنا تردد کیوں
ہم اور ہمارے حکمران باشعور مسلمان کہلانےکےلائق ہیں
قرآن اور شریعت کی طرف کب پلٹیں گے۔
ہم اور ہمارے بےحس حکمران , یہود و نصارٰی کی پیروی کرتے ہوئے احکام شرعی کے برعکس قوانین بنانے کی خطرناک روش پر دوڑے چلے جارہے ہیں۔ اللہ کا نازل کردہ فیصلہ رد کرکے دنیا و آخرت میں رسوائی ہی مقدر ہوگی۔
ہمارے ملک کا موجودہ عدالتی نظام ، پولیس اور دیگر اداروں کی منفی کارکردگی ، رشوت اور سیاسی دباؤ پر حکام کا ڈھیر ہوجانا۔کیا ان عناصر کی موجودگی میں کوئی ذی شعور یہ امید کرسکتا ہے کہ کسی بےگناہ کو ہی بھینٹ نہ چڑھادیا جائےگا ۔
اس جرم کی سزا تو سرعام دینےکاحکم ہے تاکہ باعث عبرت ہو۔تو پیش کردہ بل میں جو مضحکہ خیز سزا تجویز کی گئی ہے وہ اس قابل ہے کہ خواص و عوام میں اسکا چرچہ کیا جاسکے۔
کیسے ثابت کیا جائےگا کہ سزا پر عمل درآمد ہوا بھی ہے کہ نہیں۔
اس صورت میں علماء کرام کی اہم ذمہ داری ہےکہ وہ شرعی حد نافذ کرنے پر زور دیں۔حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ قرآن میں نازل شدہ حد نافذ کی جائے۔آج اگر یہ موقع غفلت کی نذر کردیاگیا تو آئندہ بھی ایسے ہی بےتکے فیصلے اور قوانین بنتے رہینگے اور عدل و انصاف ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔